طلاق کے بعد 6 سالہ بیٹے کی اکیلے پرورش کی، معاشرے میں باپ کا غلط تصور قائم ہے، ساجد شاہ
سینئر اداکار ساجد شاہ نے انکشاف کیا ہے کہ طلاق کے بعد انہوں نے اپنے 6 سالہ بیٹے کی اکیلے پرورش کی۔
ساجد شاہ نے حال ہی میں پروگرام ’مذاق رات‘ میں شرکت کی، جہاں انہوں نے بیٹے کی اکیلے پرورش کے سفر کے بارے میں کھل کر بات کی۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر ساری زندگی میں اللہ نے ان سے کوئی اچھا کام کروایا ہے تو وہ بیٹے کی پرورش کی ذمے داری ادا کرنے کا موقع دے کر ہی کروایا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ جب ان کی بیٹے کی والدہ سے علیحدگی ہوئی تو اس وقت بیٹا پانچ یا چھ سال کا تھا، اس موقع پر جب انہیں بیٹے کی ذمے داری ملی تو وہ پریشان نہیں ہوئے بلکہ خوش ہوئے کہ اللہ نے انہیں اس قابل سمجھا۔
ساجد شاہ نے کہا کہ ابتدا میں وہ بیٹے کو اپنے ساتھ شوٹنگ پر لے جایا کرتے تھے لیکن کچھ عرصے بعد احساس ہوا کہ یہ اس کے لیے بہتر نہیں ہوگا، اسی لیے اسے گھر پر چھوڑ کر جانے لگے۔
انہوں نے بیٹے کو کم عمری سے ہی اپنے کام خود کرنے کی عادت ڈالی، پانچویں یا چھٹی جماعت میں ہی وہ نوڈلز اور آملیٹ بنانا سیکھ گیا تھا، جب کہ کپڑے استری کرنا بھی جانتا تھا۔
اداکار نے بتایا کہ بیٹے کی پیدائش سے ہی انہوں نے اس کے ساتھ روایتی والد کے کردار کے بجائے دوستانہ رویہ اپنایا۔
ان کا ماننا ہے کہ اگر باپ اور بیٹا ایک دوسرے کے دوست نہیں ہوسکتے تو پھر کوئی بھی نہیں ہوسکتا۔
ساجد شاہ کے مطابق ہمارے معاشرے میں باپ کا ایک رعب و دبدبہ قائم کیا جاتا ہے اور اکثر باپ دن بھر کے تھکے ہارے جب شام کو گھر پہنچتے ہیں تو بچوں کو ڈانٹ دیتے ہیں، جس سے ان کے درمیان فاصلے پیدا ہوتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بیٹے کی تربیت کے دوران انہوں نے تمام فاصلے ختم کیے اور اسے ہمیشہ سمجھایا، کبھی حکم نہیں دیا اور آج ان کا بیٹا 32 سال کا ہے۔