لائف اسٹائل

دعا لیپا نے فلسطین مخالف موقف پر ایجنٹ کو فارغ کرنے کی افواہوں کی تردید کردی

ڈیلی میل نے جان بوجھ کر قارئین کو راغب کرنے اور آن لائن اختلافات بڑھانے کے لیے ایسی زبان استعمال کی، گلوکارہ

برطانوی پاپ گلوکارہ دعا لیپا نے کہا ہے کہ وہ اپنے ایجنٹ کو فلسطین مخالف موقف کی وجہ سے فارغ کرنے کی افواہوں کی سختی سے تردید کرتی ہیں۔

حال ہی میں دعا لیپا کے حوالے سے ڈیلی میل نے رپورٹ کیا کہ انہوں نے اپنے ایجنٹ ڈیوڈ لیوی کو برطرف کر دیا کیونکہ وہ مبینہ طور پر ایک خفیہ خط پر دستخط کر چکے تھے، جس میں پرو فلسطینی ریپ گروپ نی کیپ (Kneecap) کو گلاسٹنبری میوزک فیسٹیول سے ہٹانے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

رپورٹ کے مطابق دعا لیپا نے اپنے ایجنٹ کو اس لیے فارغ کیا کیونکہ ان کا فلسطین سے متعلق مؤقف ایجنٹ کی سوچ سے مطابقت نہیں رکھتا تھا، گلوکارہ سمجھتی ہیں کہ ایجنٹ اسرائیل کی غزہ میں جنگ اور فلسطینیوں کے ساتھ روا رکھے گئے سلوک کے حامی ہیں اور یہ بات اس خط سے بالکل واضح ہو گئی تھی جس پر انہوں نے دستخط کیے۔

تاہم، دعا لیپا نے انسٹاگرام پر وضاحت کی کہ وہ لیوی یا دیگر میوزک ایگزیکٹوز کے ایسے اقدامات کی حمایت نہیں کرتیں جو کسی فنکار کو اپنی رائے دینے سے روکیں، لیکن وہ یہ بھی نہیں نظرانداز کر سکتیں کہ میڈیا نے اس معاملے کو کس طرح سے پیش کیا۔

انہوں نے کہا کہ یہ کہانی بالکل جھوٹی تھی اور ڈیلی میل نے جان بوجھ کر قارئین کو راغب کرنے اور آن لائن اختلافات بڑھانے کے لیے ایسی زبان استعمال کی تھی۔

گلوکارہ نے مزید کہا کہ وہ ہمیشہ فلسطین کی آزادی کے نعرے کی حمایت کرتی ہیں، لیکن عالمی سانحے کا فائدہ اٹھا کر اخبار فروخت کرنا انہیں تشویشناک لگتا ہے۔

ڈبلیو ایم ای کے ایک ترجمان نے بھی رپورٹس کی تردید کی اور بتایا کہ ایسی رپورٹس کہ دعا لیپا یا ان کی مینجمنٹ نے کسی ایجنٹ کو اس کے سیاسی نظریات کی وجہ سے فارغ کیا، بالکل غلط ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ڈیوڈ لیوی نے دعا کے ابتدائی کیریئر (2016-2019) میں اہم کردار ادا کیا اور ٹیم کے رکن کے طور پر تسلیم کیے گئے، تاہم 2019 میں لندن سے منتقل ہونے کے بعد وہ مشاورتی ٹیم میں شامل ہوگئے اور رواں سال کے آغاز میں مکمل طور پر دیگر منصوبوں سے الگ ہو گئے۔

متعلقہ خط ایک ای میل تھی جو گلاسٹنبری کے منتظمین بشمول شریک خالق ایوس کو بھیجی گئی تھی، جسے خفیہ رکھنے کے باوجود ایک ملازم کے ذریعے لیک کر دیا گیا۔

دعا لیپا طویل عرصے سے فلسطین کے حق میں آواز بلند کرتی رہی ہیں، 2021 میں انہوں نے نیو یارک ٹائمز کے ایک اشتہار پر تنقید کی، جس میں انہیں اور ماڈلز بیلا اور جیجی حدید کو پرو-فلسطین نظریات کے اظہار پر یہودی مخالف قرار دیا گیا تھا۔

اکتوبر 2023 میں وہ ان مشہور شخصیات میں شامل تھیں جنہوں نے امریکی صدر جو بائیڈن کو خط لکھ کر غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ کیا، اگلے سال جنوری میں انہوں نے رولنگ اسٹون کے ایک انٹرویو میں اپنی موقف کی تصدیق کی۔

گزشتہ مئی میں انہوں نے #AllEyesOnRafah مہم کے لیے حمایت ظاہر کی اور انسٹاگرام پر لکھا کہ بچوں کو زندہ جلا دینا کبھی بھی جائز نہیں ہو سکتا، پوری دنیا اسرائیلی نسل کشی کو روکنے کے لیے متحرک ہے، براہ کرم غزہ کے ساتھ یکجہتی دکھائیں۔