جے کے رولنگ کے ٹرانس جینڈر کے بیان پر ایما واٹسن کا نصف دہائی بعد رد عمل
معروف برطانوی اداکارہ ایما واٹسن نے تقریبا نصف دہائی بعد ناول نگار جے کے رولنگ کی جانب سے ٹرانس جینڈرز کے حوالے سے دیے گئے بیان پر رد عمل دے دیا۔
برطانوی نشریاتی ادارے ’بی بی سی‘ کے مطابق ایما واٹسن نے حال ہی میں ایک پوڈکاسٹ میں شرکت کی، جہاں انہوں نے اپنی فنٹیسی فلم سیریز ’ہیری پوٹر‘ کی لکھاری جے کے رولنگ کی جانب سے ٹرانس جینڈرز کے حوالے سے دیے گئے بیان پر بھی رد عمل دیا۔
اداکارہ نے کہا کہ اگرچہ وہ جے کے رولنگ کے خیالات سے اتفاق نہیں کرتیں لیکن وہ ان سے ہمیشہ عزت کا رشتہ برقرار رکھنا چاہتی ہیں، وہ ان سے بات چیت کرنے کو تیار ہیں۔
اداکارہ کا کہنا تھا کہ ان کی خواہش ہے کہ جو لوگ ان کی رائے سے اتفاق نہیں کرتے وہ بھی ان سے محبت کریں اور وہ بھی ان لوگوں سے محبت جاری رکھنا چاہتی ہیں جن کی رائے ان سے مختلف ہے۔
ایما واٹسن نے کہا کہ جے کے رولنگ کے ساتھ ان کا پرانا رشتہ اب بھی ان کے لیے قیمتی ہے اور یہ کہ لکھاری نے بچپن میں ان کی حوصلہ افزائی کی اور انہیں ایک ایسا کردار ادا کرنے کا موقع دیا جو انگریزی ادب کی تاریخ میں مشکل سے ملتا ہے۔
اداکارہ نے واضح کیا کہ وہ جے کے رولنگ کو کبھی ’مسترد‘ نہیں کر سکتیں کیونکہ ان کے لیے ان کے الفاظ ہی سب کچھ سچ ہیں۔
خیال رہے کہ جے کے رولنگ نے جون 2020 میں اپنی ایک ٹوئٹ میں لوگوں سے سوال کیا تھا کہ ماضی میں جن افراد کو ’حیض‘ ماہواری آتی تھی، صرف انہیں (خاتون) (عورت) (زنانہ) کہا جاتا تھا، کوئی اس حوالے سے ان کی مدد کرے۔
جے کے رولنگ کی اس ٹوئٹ کو ٹرانس جینڈر افراد کے خلاف سمجھا گیا تھا اور ان پر شدید تنقید شروع کردی گئی تھی۔
اس سے قبل بھی جے کے رولنگ نے دسمبر 2019 میں ٹرانس جینڈر افراد کے حوالے سے کچھ متنازع باتیں کی تھیں، جس پر ان پر تنقید کا سلسلہ شروع ہوا تھا۔
خود پر تنقید شروع ہونے کے بعد جے کے رولنگ نے اس حوالے سے مزید ٹوئٹس کی تھیں، جن میں انہوں نے ٹرانس جینڈر افراد کے حوالے سے کھل کر بات کی اور کہا کہ انہیں جوانی سے لے اب تک ان کے معاملات سمجھنے کی فکر رہی ہے۔
انہوں نے اپنی ٹوئٹس میں واضح کیا تھا کہ وہ ٹرانس جینڈر افراد کے حقوق کا احترام کرتی ہیں اور انہیں ان کی جنسیت کا بھی احساس ہے تاہم ساتھ ہی انہوں نے اپنی ٹوئٹس میں حساس معاملات کو بھی چھیڑا تھا۔
انہوں نے ایک ٹوئٹ میں لکھا تھا کہ جنسیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا اور اگر جنسیت واقعی بیکار چیز ہے تو پھر ہم جنس پرستی بھی کوئی معنیٰ نہیں رکھتی اور پھر ہر عورت کی اہمیت ختم ہوجاتی ہے اور اگر جنسیت کو ختم کردیا جائے تو دنیا کے کئی انسانوں کی زندگی کی اہمیت بھی ختم ہوجائے گی۔
جے کے رولنگ نے ٹوئٹس میں لکھا تھا کہ جو لوگ ٹرانس جینڈر افراد سے نفرت کرتے ہیں وہ دراصل جنسیت پر یقین رکھتے ہیں۔
ناول نگار کی ان ٹوئٹس کے بعد ان پر تنقید مزید بڑھ گئی تھی اور ان پر ان کے ناول ہیری پوٹر پر بننے والی فلموں کے ہیرو ڈینیئل ریڈ کلف نے بھی تنقید کی تھی اور ان پر واضح کیا تھاکہ دراصل ٹرانس جینڈر خواتین بھی خواتین ہی ہوتی ہیں۔