دنیا

تہران سے معاہدے کے بعد امریکا نے 100 ایرانیوں کو ملک بدر کردیا

ان ایرانیوں کی شناخت اور امریکا آنے کی وجوہات واضح نہیں ہو سکیں، کچھ افراد نے کئی ماہ حراستی مراکز میں رہنے کے بعد خود رضاکارانہ طور پر واپس جانے پر آمادگی ظاہر کی، رپورٹ نیو یارک ٹائمز

واشنگٹن نے تہران سے معاہدے کے بعد تقریباً 100 ایرانیوں کو ملک بدر کردیا ہے، ان افراد کی شناخت اور امریکا آنے کی وجوہات واضح نہیں ہو سکیں جب کہ کچھ افراد نے کئی ماہ حراستی مراکز میں رہنے کے بعد خود رضاکارانہ طور پر واپس جانے پر آمادگی ظاہر کی۔

غیر ملکی خبررساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق ’نیو یارک ٹائمز‘ نے منگل کو رپورٹ کیا ہے کہ اخبار کے مطابق امریکا تقریباً 100 ایرانیوں کو واپس اپنے ملک بھیج رہا ہے اور اس خبر کی تصدیق منصوبے سے واقف 2 سینئر ایرانی حکام اور ایک امریکی عہدیدار نے کی ہے جو مذاکرات میں شامل تھے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ ایک امریکی چارٹرڈ فلائٹ پیر کے روز امریکی ریاست لوزیانا سے روانہ ہوئی جو منگل کو قطر کے راستے ایران پہنچے گی۔

وائٹ ہاؤس اور امریکی محکمہ خارجہ نے ’رائٹرز‘ کی تبصرے کی درخواست کا فوری طور پر جواب نہیں دیا۔

یاد رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ امریکا میں بغیر قانونی حیثیت کے رہنے والے افراد کی بڑی تعداد کو ملک بدر کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

امریکی صدر کا موقف ہے کہ سابق امریکی صدر جو بائیڈن کے دور میں غیر قانونی سرحدی داخلوں میں اضافہ ہوا تھا لہٰذا اب یہ اقدام انتہائی ضروری ہے۔

تاہم، ان کی انتظامیہ کو ملک بدری کی شرح بڑھانے میں مشکلات کا سامنا ہے، حالانکہ انہوں نے ایسے نئے راستے بھی بنائے ہیں جن کے ذریعے تارکین وطن کو ان کے اپنے وطن کے بجائے دیگر ممالک بھیجا جاسکے۔

نیو یارک ٹائمز کے مطابق ان ایرانیوں کی شناخت اور ان کے امریکا آنے کی وجوہات واضح نہیں ہو سکیں۔

اخبار نے مزید لکھا کہ کچھ افراد نے کئی ماہ حراستی مراکز میں رہنے کے بعد خود رضاکارانہ طور پر واپس جانے پر آمادگی ظاہر کی جب کہ کچھ نے ایسا نہیں کیا۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ ایران کی وزارت خارجہ ان افراد کی واپسی کے انتظامات کر رہی تھی اور انہیں یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ وہ محفوظ رہیں گے اور کسی مسئلے کا سامنا نہیں کریں گے۔

واضح رہے کہ فروری میں امریکا نے ایران اور پاناما سمیت 119 ممالک کے شہریوں واپس بھیجا تھا جو دونوں ملکوں کے درمیان ایک معاہدے کا حصہ تھا۔

23 مارچ 2025 کو امریکا نے اعلان کیا تھا کہ وہ لاکھوں تارکین وطن کی قانونی حیثیت ختم کر رہا ہے اور انہیں ملک چھوڑنے کے لیے ہفتوں کا وقت دے رہا ہے۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی تاریخ کی سب سے بڑی ملک بدری مہم چلانے اور خاص طور پر لاطینی امریکی ممالک سے امیگریشن کو روکنے کا وعدہ کیا تھا۔

اس حکم نامے سے کیوبا، ہیٹی، نکاراگوا اور وینزویلا کے تقریباً 5 لاکھ 32 ہزار شہری متاثر ہوں گے، جو ٹرمپ کے پیش رو جو بائیڈن کی جانب سے اکتوبر 2022 میں شروع کی گئی اسکیم کے تحت امریکا آئے تھے، اور اگلے سال جنوری میں اس میں توسیع کی گئی تھی۔