لائف اسٹائل

’بگ باس‘ ہمارے ’تماشا‘ سے بہت بڑا شو ہے، کوئی موازنہ نہیں، عدنان صدیقی

’تماشا‘ میں کسی کو نسلی تعصب اور ذاتیات پر تنقید کی اجازت نہیں دیتا، میں اس وقت ہی سامنے آتا ہوں جب کوئی حدود پار کرتا ہے، اداکار

اداکار عدنان صدیقی نے اعتراف کیا ہے کہ بھارت میں نشر کیا جانے والا ریئلٹی شو ’بگ باس‘ ان کی میزبانی میں شروع کیے گیے پاکستانی ریئلٹی شو ’تماشا‘ کے مقابلے بہت بڑا شو ہے، دونوں کا کوئی موازنہ نہیں۔

عدنان صدیقی نے حال ہی میں ندا یاسر کے مارننگ شو میں شرکت کی، جہاں انہوں نے مختلف معاملات پر کھل کر گفتگو کی۔

پروگرام کے دوران بات کرتے ہوئے عدنان صدیقی نے بتایا کہ چند سال قبل وہ فنڈ جمع کرنے کے سلسلے میں لندن گئے ہوئے تھے، جہاں اے آر وائے کی ٹیم نے انہیں فون کرکے مذکورہ پروگرام سے متعلق بتایا۔

ان کے مطابق انہوں نے تمام باتیں سننے کے بعد انتظامیہ کو بتایا کہ ان کی تمام باتیں درست ہیں لیکن مذکورہ شو کا موازنہ بھارت کے’بگ باس‘ سے کیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ ’تماشا‘ بھی ’بگ باس‘ کی طرز جیسا شو ہے لیکن دونوں کے مواد اور فارمیٹ میں فرق ہے، پاکستانی شو میں وہ چیزیں نہیں ہو سکتیں جو بھارتی شو میں ہوتی ہیں۔

عدنان صدیقی نے کہا کہ وہ بطور ’تماشا‘ میزبان شرکا کے درمیان صلح کرواتے ہیں، وہ شو میں کسی طرح کے نسلی تعصب کی اجازت نہیں دیتے، وہ سچے پاکستانی ہیں اور اسی خیال پر یقین رکھتے ہیں۔

اداکار کے مطابق وہ سندھی، پنجابی اور پشتون کے معاملات پر یقین نہیں رکھتے، کسی کو کسی پر ذاتی تنقید کا حق نہیں اور وہ اس وقت ہی شو میں سامنے آتے ہیں جب شرکا ایک دوسرے کی ذات پر تنقید کرتے ہیں۔

پروگرام کے دوران بات کرتے ہوئے عدنان صدیقی کا کہنا تھا کہ ’تماشا‘ کا بھارتی شو ’بگ باس‘ سے کوئی مقابلہ نہیں، بھارت شو بہت بڑا ہے۔

ان کے مطابق ’تماشا‘ کے ابھی چار سیزن ہی نشر ہوئے ہیں جب کہ ’بگ باس‘ بہت آگے جا چکا ہے، دونوں کا کوئی مقابلہ اور موازنہ نہیں۔

انہوں نے مثال دی کہ جس طرح انار اور سیب کا کوئی موازنہ اور مقابلہ نہیں، اسی طرح پاکستانی اور بھارتی شو کا بھی کوئی موازنہ نہیں۔

عدنان صدیقی کے مطابق دونوں ریئلٹی شوز کے پاس ایک جیسا ہی لائسنس ہے، تاہم ان میں فرق بھی ہے۔