دنیا

شامی حکومت اور کرد فورسز کے درمیان جنگ بندی میں امریکی کردار اہم رہا

احمد الشرع اور مظلوم عبیدی کی ملاقات سے قبل سینٹ کام کے سربراہ بریڈ کوپر اور امریکی نمائندہ ٹام بیرک نے عبیدی سے ملاقات کر کے جنگ بندی پر قائل کیا۔

شام کی حکومت اور کرد فورسز میں جنگ بندی میں امریکا کی جانب سے اہم کردار ادا کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔

ڈان اخبار میں شائع فرانسیسی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کی رپورٹ کے مطابق شامی حکومت نے منگل کے روز حلب کے شمالی شہر میں ہونے والی خونریز جھڑپوں کے بعد صدر احمد الشرع اور کرد رہنما مظلوم عبیدی کے درمیان ملاقات کے بعد کرد افواج کے ساتھ ایک جامع جنگ بندی کا اعلان کر دیا ہے۔

شامی حکام نے گزشتہ سال طویل عرصے کے حکمران بشار الاسد کی برطرفی کے بعد اقتدار سنبھالا تھا، انہوں نے کردوں کے اس مطالبے کو مسترد کر دیا ہے کہ انہیں زیادہ خودمختاری دینے والی غیرمرکزی حکومت قائم کی جائے۔

یہ مسئلہ شمال اور شمال مشرق کے وسیع علاقوں پر قابض کرد انتظامیہ کے ساتھ کشیدگی میں اضافہ کر رہا ہے، جبکہ دونوں فریقوں کے درمیان اختلافات نے 10 مارچ کے اس معاہدے پر عمل درآمد کو روک رکھا ہے جس کا مقصد کردوں کے سول اور عسکری اداروں کو ریاستی نظام میں ضم کرنا ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر جاری ایک بیان میں شامی وزیرِ دفاع مُرھف ابو قصرہ نے کہا کہ انہوں نے دمشق میں امریکی حمایت یافتہ کردوں کی قیادت میں قائم شامی ڈیموکریٹک فورسز (ایس ڈی ایف) کے سربراہ مظلوم عبیدی سے ملاقات کی۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے تمام محاذوں پر جامع جنگ بندی اور شمال و شمال مشرقی شام میں فوجی تعیناتی کے نکات پر اتفاق کر لیا ہے، اور معاہدے پر عمل درآمد فوراً شروع ہو جائے گا۔

ایک سرکاری ذریعے نے بتایا کہ یہ ملاقات اس وقت ہوئی، جب احمدالشرع نے عبیدی سے بات چیت کی، جولائی کے بعد ان دونوں رہنماؤں کی یہ پہلی ملاقات تھی، جس میں 10 مارچ کے معاہدے سے متعلق سیکیورٹی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ذرائع نے مزید بتایا کہ امریکی نمائندہ برائے شام ٹام بَیرک اور امریکی فوجی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر بھی موجود تھے۔

بیرک نے ’ایکس‘ پر کہا کہ وہ اور کوپر شمال مشرقی شام کے دورے پر گئے تھے، جہاں انہوں نے عبیدی کے ساتھ سیاسی انضمام، شام کی علاقائی سالمیت کے تحفظ، اور تمام شامی عوام کے لیے محفوظ ماحول قائم کرنے پر بات چیت کی، نیز داعش کے خلاف جاری کوششوں کو برقرار رکھنے پر بھی گفتگو ہوئی۔

منگل کو اس سے قبل، شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق اور ریاستی میڈیا دونوں نے اطلاع دی کہ حلب میں جھڑپیں رک گئی ہیں۔

حلب میں کرد اکثریتی علاقوں میں بمباری

شامی سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق پیر کی رات حلب کے کرد اکثریتی علاقوں شیخ مقصود اور اشرفیہ میں کرد افواج کی جانب سے کیے گئے بمباری میں شامی سیکیورٹی فورسز کا ایک اہلکار اور ایک شہری ہلاک ہو گئے۔

67 سالہ ریٹائرڈ شہری سنّان رجب باشا نے کہا کہ ’ہم خوفزدہ ہیں اور آج صبح اپنے گھر کو چھوڑنے کا فیصلہ کیا ہے، ہم نے دیکھا کہ بہت سے خاندان شیخ مقصود اور اشرفیہ سے بھاگ رہے تھے، ان کا کہنا تھا کہ علاقوں کے داخلی راستے بند کر دیے گئے ہیں اور جو لوگ نکل گئے انہیں واپس آنے کی اجازت نہیں دی جا رہی‘۔

خانہ جنگی کے دوران اپنی نیم خودمختار انتظامیہ قائم کرنے والے کردوں نے بارہا غیرمرکزی حکومت کا مطالبہ کیا ہے، جسے دمشق کی نئی حکومت نے مسترد کر دیا ہے۔

انہوں نے شام کے عبوری آئین پر بھی تنقید کی ہے کہ یہ ملک کی نسلی و مذہبی تنوع کی عکاسی نہیں کرتا، جب کہ کردوں کے زیرِکنٹرول صوبے رقہ اور حسکہ کو ہفتے کے روز ہونے والے نئے پارلیمانی انتخابات سے خارج رکھا گیا ہے۔

اسلامی نظریات پر مبنی شامی نئی حکومت نے دسمبر میں بشار الاسد کے زوال کے بعد سے حلب شہر پر حکومت سنبھالی ہوئی ہے، مگر شیخ مقصود اور اشرفیہ کے علاقے اب بھی ایس ڈی ایف اور کرد سیکیورٹی فورسز سے وابستہ یونٹس کے زیرِ اثر ہیں، حالانکہ ایس ڈی ایف نے اپریل میں ایک علیحدگی معاہدے کے تحت سرکاری طور پر وہاں سے انخلا کر لیا تھا۔

ریاستی خبر رساں ایجنسی ’سانا‘ نے اطلاع دی کہ ایس ڈی ایف نے شیخ مقصود کے آس پاس سیکیورٹی چوکیوں کو نشانہ بنایا، جبکہ درجنوں خاندانوں نے ان علاقوں سے نقل مکانی کی ہے۔

آبزرویٹری نے کہا کہ شامی حکومتی افواج نے ان محلوں میں دھماکا خیز ڈرونز اور بھاری خودکار ہتھیار استعمال کیے۔

ایس ڈی ایف نے حکومتی فورسز پر حملے کی تردید کرتے ہوئے الزام لگایا کہ دمشق کے حامی دھڑے کرد علاقوں کا محاصرہ کر رہے ہیں اور ٹینکوں کے ساتھ پیش قدمی کی کوشش کر رہے ہیں۔

تنظیم کا کہنا تھا کہ مقامی رہائشیوں نے آسایش کے ساتھ مل کر اپنے علاقوں کا دفاع کرنے کے لیے ہتھیار اٹھا لیے ہیں۔