لندن عالمی سطح پر موبائل فون چوری کا مرکز بن گیا، ایک سال میں 80 ہزار فونز چوری
لندن عالمی سطح پر موبائل فون چوری کا مرکز بن گیا ہے، گزشتہ سال برطانوی دارالحکومت میں تقریباً 80ہزار موبائل فونز چوری ہوئے، اب پولیس آخرکار یہ معلوم کر رہی ہے کہ ان میں سے زیادہ تر فون کہاں گئے؟
نیو یارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق لندن کی میٹروپولیٹن پولیس کی گاڑیاں شمالی لندن کی ایک گلی میں داخل ہوئیں، تو حیران راہ گیر ٹھہر گئے، انہوں نے افسران کو سیکنڈ ہینڈ فون کی 3 دکانوں پر دھاوا بولتے ہوئے دیکھا۔
ایک افسر نے دکاندار سے پوچھا کہ کیا آپ کے پاس کوئی سیف ہے؟ ، یہ دکاندار اپنے کمپیوٹر کے پاس آدھی پیالی چائے کے ساتھ بیٹھا تھا۔
وہ شخص دیکھتا رہا جب پولیس نے 2 سیفوں سے فون، نقدی اور دستاویزات کھنگال ڈالیں۔
اس جرم کا دائرہ اس روایتی جیب تراشی سے کہیں بڑھ چکا ہے، جو لندن میں صدیوں سے مشہور تھی، حتیٰ کہ چارلس ڈکنز کے ناول اولیور ٹوئسٹ نے اسے لازوال بنا دیا تھا۔
اب نقاب پوش اور ای-بائیکس پر سوار دیدہ دلیر چور رہائشیوں اور سیاحوں کے ہاتھوں سے فون جھپٹنے میں ماہر ہو چکے ہیں۔
پولیس کے مطابق گزشتہ سال شہر میں ریکارڈ 80 ہزار فون چوری ہوئے، جس سے لندن کو یورپ میں اس جرم کا بدنام دارالحکومت قرار دیا جانے لگا ہے۔
گزشتہ ماہ کے چھاپوں کا مقصد ان درمیانی افراد کے ایک گروہ کو بے نقاب کرنا تھا، جو پولیس کے بقول سیکنڈ ہینڈ فون کی دکانوں کو ایک کثیر سطح کے عالمی مجرمانہ نیٹ ورک کا حصہ بناتے ہیں۔
2 ہفتے کی اس کارروائی کے اختتام تک تفتیش کاروں نے تقریباً 2 ہزار چوری شدہ فون اور 2 لاکھ پاؤنڈ کی نقدی برآمد کی۔
کئی سال تک جب ایک مصروف اور وسائل سے محروم پولیس فورس کے لیے فون چوری کوئی ترجیح نہیں تھی، اب نئی کارروائیوں سے اس وبا کے پیچھے کئی حیران کن عوامل سامنے آئے ہیں، جن میں 2010 کی دہائی میں پولیس بجٹ میں نمایاں کٹوتیاں اور یورپی فونز کے لیے چین میں ایک منافع بخش بلیک مارکیٹ شامل ہے۔
ایک میل لمبی ایلومینیم فوائل کی خریداری
کئی سال تک لندن پولیس یہ سمجھتی رہی کہ زیادہ تر فون چور معمولی مجرم ہیں، جو جلدی رقم کمانا چاہتے ہیں، مگر گزشتہ دسمبر میں ایک خاتون کی اطلاع نے معاملہ بدل دیا۔
اس خاتون نے ’فائنڈ مائی آئی فون‘ کے ذریعے اپنے فون کا سراغ لگایا، جو ہیتھرو ایئرپورٹ کے قریب ایک گودام تک پہنچا تھا، جب پولیس وہاں کرسمس ایو پر پہنچی تو انہیں ایسے ڈبے ملے جو ہانگ کانگ جانے والے تھے۔ ان پر ’بیٹریز‘ کا لیبل لگا تھا لیکن اندر تقریباً ایک ہزار مسروقہ آئی فونز تھے۔
میٹروپولیٹن پولیس کے سینئر افسر مارک گیوِن نے کہا کہ اس سے یہ فوراً واضح ہو گیا کہ یہ عام اسٹریٹ کرائم نہیں ہے،یہ تو صنعتی پیمانے پر ہو رہا تھا۔
اب پولیس اس ڈیٹا کو استعمال کر کے چوری شدہ فونز کے راستوں کا نقشہ بنا رہی ہے۔
ہیتھرو کی ضبطی کے بعد، اس کیس کی ذمہ داری اس ٹیم کو دی گئی جو عام طور پر اسلحہ اور منشیات کی اسمگلنگ کی تحقیقات کرتی ہے، انہوں نے مزید شپمنٹس پکڑیں اور فارنزک شواہد سے 2 افراد کی نشاندہی کی، 30 برس کی عمر کے وہ 2 مرد جو مشتبہ طور پر ایک ایسے گروہ کے سربراہ تھے جو 40 ہزار تک چوری شدہ فون چین بھیج چکے تھے۔
جب ان افراد کو 23 ستمبر کو گرفتار کیا گیا تو ان کی کار سے کئی فون برآمد ہوئے، کچھ ایلومینیم فوائل میں لپٹے ہوئے تھے تاکہ ٹریسنگ سگنلز بلاک کیے جا سکیں۔
پولیس نے بتایا کہ ایک موقع پر انہوں نے کاسکو سے ڈیڑھ میل لمبی فوائل خریدی تھی۔
کچھ فون برطانیہ میں دوبارہ سیٹ کر کے بیچے جاتے ہیں، مگر زیادہ تر کو چین اور الجزائر بھیج دیا جاتا ہے، پولیس کے مطابق یہ ایک ’لوکل ٹو گلوبل‘ مجرمانہ کاروباری ماڈل ہے، اور چین میں نئے فونز کی قیمت 5 ہزار ڈالر تک لگ سکتی ہے، جس سے مجرموں کو بھاری منافع ہوتا ہے۔
آکسفورڈ یونیورسٹی کے ماہرِ سائبرسیکیورٹی، جوس رائٹ کے مطابق چین میں برطانوی فون استعمال کرنا آسان ہے، کیوں کہ وہاں کے بیشتر نیٹ ورک بین الاقوامی بلیک لسٹ سسٹم میں شامل نہیں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس کا مطلب ہے کہ برطانیہ میں بلاک کیا گیا آئی فون چین میں کسی دقت کے بغیر استعمال ہو سکتا ہے۔
ای بائیکس موبائل چھیننے والوں کی فیورٹ سواری
پولیس کے مطابق یہ نیٹ ورک 3 سطحوں پر مشتمل ہے، اوپر اسمگلرز، درمیان میں وہ دکاندار جو چوری شدہ فون خریدتے اور آگے بیچتے ہیں، اور نیچے گلی کے چور جو روزانہ فون چھیننے نکلتے ہیں۔
لندن میں عمومی جرائم کم ہوئے ہیں، مگر فون چوری کی شرح اب بھی بہت زیادہ ہے۔
موبائل فون کی چوری پچھلے سال تمام چوریوں کا تقریباً 70 فیصد رہی، اور یہ تیزی سے بڑھ رہی ہے، پولیس کے مطابق 2023 میں 64 ہزار کے مقابلے میں 2024 میں 80 فون چوری کیے یا چھینے گئے۔
ماہرین کے مطابق اس بحران کی ایک بڑی وجہ برطانوی کفایت شعاری کی پالیسی ہے، جس کے تحت 2010 کی دہائی میں پولیس بجٹ اور اہلکاروں میں شدید کمی کی گئی تھی۔
2017 میں میٹ پولیس نے اعلان کیا کہ وہ ان کم ترجیحی جرائم کی تفتیش بند کر دے گی جن میں مجرم پکڑنے کا امکان کم ہو، تاکہ سنگین جرائم پر توجہ دی جا سکے۔
کرمنالوجی کی پروفیسر ایملین ٹیلر کے مطابق ’پولیس زیادہ ردِعمل دینے والی فورس بن گئی‘ نتیجتاً چھوٹے پیشہ ور مجرموں نے سمجھ لیا کہ وہ اپنے کیے کی سزا سے بچ سکتے ہیں۔
پھر ایک نئی ٹیکنالوجی نے ان کے لیے کام مزید آسان کر دیا، الیکٹرک بائیکس، 2018 میں لائم بائیکس کے آغاز کے بعد تیزی سے مقبول ہوئیں، اور جلد ہی فون چوروں کی فرار ہونے کے لیے پسندیدہ سواری بن گئیں۔
سرجینٹ میٹ چانٹری کے مطابق یہ ای بائیک والے نقاب پوش چور بہت بڑا مسئلہ ہیں، وہ فٹ پاتھوں پر چڑھ جاتے ہیں، اور لوگوں کے ہاتھوں سے فون چھین کر فرار ہو جاتے ہیں، انہیں پہچاننا تقریباً ناممکن ہوتا ہے۔
ان کا پیچھا کرنا خطرناک ہے، کیوں کہ اس سے پیدل چلنے والے، ڈرائیور اور خود چور سب کے لیے حادثے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، آخر کار سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ایک فون کے لیے کسی کی جان خطرے میں ڈالنا درست ہے؟
چوری کے بعد برآمد 4 ہزار آئی فونز
طویل المدتی منصوبے کے طور پر کمانڈر فیدرسٹن نے کہا کہ پولیس کا مقصد ان جرائم پیشہ نیٹ ورکس کو توڑنا ہے، جو اس غیرقانونی تجارت کو چلا رہے ہیں، اور مجرموں کو یہ پیغام دینا ہے کہ فون چوری کرنا ’اب منافع بخش نہیں رہا‘ کیوں کہ اب یہ واضح ہو گیا ہے کہ انہیں پکڑا جا سکتا ہے۔
لیکن پولیس کو یہ بھی امید ہے کہ عام شہری اپنی ذاتی سیکیورٹی کے حوالے سے زیادہ ہوشیار ہو جائیں گے، اگرچہ اسمارٹ فون اب پہلے سے کہیں زیادہ جدید اور قیمتی ہو چکے ہیں، لیکن لوگ انہیں سنبھالنے میں پہلے سے زیادہ لاپرواہ ہو گئے ہیں۔
آج کے موبائل فون چور کے لیے ایک عام شکار وہ پیدل چلنے والا شخص ہے، جو فٹ پاتھ کے قریب چلتے ہوئے اپنے فون کی اسکرین میں مگن ہوتا ہے، چاہے وہ نقشہ دیکھ رہا ہو، پیغام پڑھ رہا ہو یا ویڈیو دیکھنے میں محو ہو۔
کیمبرج یونیورسٹی کے کرمنالوجی کے پروفیسر لارنس شرمین نے کہا کہ ’آپ سڑک پر کھڑے ہو کر اپنے پیسے نہیں گنتے، لیکن جب آپ ایک ہزار پاؤنڈ کا فون اٹھائے اسے دیکھ کر چل رہے ہوں، تو یہ ایسے ہی ہے جیسے آپ اپنی جیب سے ایک ہزار پاؤنڈ نکال کر چلتے ہوئے اسے دیکھ رہے ہوں‘۔