جرمنی میں کم سن بچوں پر چاقو سے حملہ کرنے والے افغان شخص کو مقدمے کا سامنا
جرمنی میں کم سن بچوں پر چاقو سے حملہ کرنے والے افغان شخص کو مقدمے کا سامنا ہے، یہ واقعہ 9 ماہ قبل پیش آیا تھا جس نے ملک میں انتخابات سے پہلے امیگریشن کے بارے میں جاری شدید بحث کو مزید تیز کردیا۔
غیر ملکی خبررساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق اس واقعے نے جرمنی کو ہلا کر رکھا دیا تھا، ملک کے جنوبی شہر آشافیفن برگ میں ایک شخص نے چاقو کے وار سے 2 سالہ بچے پر چاقو سے وار کیے تھے جس سے وہ جانبر نہ ہوسکا جب کہ بچے کو بچانے کی کوشش کرنے والا 41 سالہ شخص بھی چاقو کے وار سے ہلاک ہوگیا تھا اور 3 دیگر افراد زخمی ہوئے تھے۔
مشتبہ حملہ آور نے ایک دو سالہ شامی بچی، ایک استاد، اور ایک 72 سالہ شخص کو بھی زخمی کیا جو بچوں کو بچانے کی کوشش کر رہے تھے۔
یہ حملہ اُس وقت ہوا جب ایک کنڈرگارٹن کی 5 بچیاں اور بچے 2 اساتذہ کے ساتھ ایک پارک میں موجود تھے اور حملہ آور نے اُن پر چاقو سے حملہ کر دیا۔
22 جنوری کو ہونے والے حملے کے فوراً بعد مشتبہ شخص کو موقع پر ہی گرفتار کر لیا گیا تھا، جرمن عدلیہ کے معمول کے مطابق ملزم کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی ہے اور اسے 28 سالہ انعام اللہ کا فرضی نام دیا گیا ہے۔
استغاثہ کے مطابق ملزم طویل عرصے سے ذہنی بیماری میں مبتلا رہا ہے اور ماہرین کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس کی نفسیاتی حالت ایسی ہے کہ اسے فوجداری طور پر ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔
پراسیکیوشن کے دفتر نے پہلے ہی بتایا تھا کہ حملے کے پیچھے کسی انتہا پسند یا دہشت گردی کے محرکات کے شواہد نہیں ملے، اور وہ عدالت سے اس کی مستقل نفسیاتی ادارے میں منتقلی کی درخواست کر رہے ہیں۔
مقدمے کی سماعت اکتوبر میں کئی روز تک جاری رہنے کی توقع ہے۔
اگست 2024 میں ملزم نے نے الزیناﺅ کے ایک پناہ گزین مرکز میں ایک خاتون رہائشی کو چاقو سے دھمکایا اور اُسے معمولی زخم پہنچائے۔
واضح رہے کہ 16 ستمبر 2025 کو جرمن عدالت نے گزشتہ سال اسلام مخالف ریلی کے دوران چاقو سے حملہ کرکے ایک پولیس افسر کو ہلاک اور 5 افراد کو زخمی کرنے والے ایک افغان شخص کو عمر قید کی سزا سنائی تھی۔