ناظرین کو کس قسم کے ڈرامے زیادہ پسند آتے ہیں؟ علی انصاری نے بتا دیا
اداکار علی انصاری نے بتایا کہ ناظرین عام طور پر کس نوعیت کے ڈرامے دیکھنا زیادہ پسند کرتے ہیں اور کن کہانیوں کی طرف ان کا رجحان زیادہ ہوتا ہے۔
علی انصاری نے حال ہی میں پروگرام ’ہنسنا منع ہے‘ میں شرکت کے دوران اپنی ذاتی اور پیشہ ورانہ زندگی سے متعلق دلچسپ باتیں کیں۔
اداکار کا کہنا تھا کہ بیٹی کا باپ بن کر انہیں بہت اچھا لگ رہا ہے، یہ ایک منفرد احساس ہے اور والد بننے کے بعد ان کے اندر احساسِ ذمہ داری بھی بڑھ گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وہ کوشش کریں گے کہ اپنی بیٹی کو جتنا ہوسکے اسکرین سے دور رکھیں اور کتابوں کے قریب کریں تاکہ اس کی معلومات میں اضافہ ہو، وہ جلد بولنا سیکھے اور ساتھ ہی بیٹی کے اندر کھیلوں میں بھی دلچسپی پیدا کرنے کی کوشش کریں گے۔
اداکار نے ایک واقعہ بیان کرتے ہوئے بتایا کہ ایک مرتبہ یوٹیوب پر ان کی موت سے متعلق جعلی ویڈیو اپ لوڈ کی گئی جو وائرل ہوگئی، جس کے باعث ان کے کئی رشتہ دار پریشان ہو گئے اور انہوں نے خیریت معلوم کرنے کے لیے فون بھی کیے۔
ان کا کہنا تھا کہ یوٹیوب پر محض چینل مقبول بنانے کے لیے ایسی جھوٹی ویڈیوز اپ لوڈ کرنا یا کسی کے بارے میں غلط افواہ پھیلانا انتہائی نامناسب عمل ہے۔
پروگرام میں انہوں نے اپنے مقبول ڈراموں کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ ’رنگ محل‘ اور ’کفارہ‘ دونوں جیو انٹرٹینمنٹ کے کامیاب ڈرامے تھے، جنہیں الگ الگ تقریباً دو ارب ویوز ملے، جو کہ بہت بڑی کامیابی ہے۔
علی انصاری کا مزید کہنا تھا کہ انہیں لگتا ہے کہ ناظرین زیادہ تر وہ ڈرامے پسند کرتے ہیں جن میں شدتِ جذبات سے بھرپور محبت کی کہانیاں ہوتی ہیں، جہاں کہانی کا آغاز لڑکے کے لڑکی کو گھیرنے اور لڑکی کے نخرے دکھانے سے ہوتا ہے، جب کہ گہری محبت پر مبنی کہانیاں ناظرین کو اتنی پسند نہیں آتیں۔