خواتین پر سب سے زیادہ تشدد گھر کے اندر ہوتا ہے، ثانیہ سعید
سینئر اداکارہ ثانیہ سعید کا کہنا ہے کہ خواتین سب سے زیادہ غیر محفوظ اپنے گھروں میں ہوتی ہیں، کیونکہ وہ ایسے نظام کا حصہ ہیں جہاں مرد کو ہر عمل کی اجازت حاصل ہوتی ہے، اسی لیے خواتین پر سب سے زیادہ تشدد گھر کے اندر ہی ہوتا ہے۔
ثانیہ سعید نے حال ہی میں ’ایف ایچ ایم‘ کے پوڈکاسٹ میں شرکت کی، جہاں انہوں نے مختلف سماجی موضوعات پر کھل کر گفتگو کی۔
گزشتہ دنوں اداکارہ نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ والدین بننے کے لیے ذہنی اور جذباتی مضبوطی نہایت ضروری ہے، لیکن ہمارے معاشرے میں بیشتر جوڑے اس حوالے سے تیار نہیں ہوتے۔
انہوں نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے معاشرے میں پرورش کا نظام آمرانہ ہے اور والدین خود جدوجہد میں مصروف ہوتے ہیں، ایسے میں وہ بچوں کو پیدا کرکے ان کے ساتھ ناانصافی کرتے ہیں۔
ان کے مطابق مقصد یہ نہیں کہ والدین پرفیکٹ بننے کے بعد ہی بچے پیدا کریں بلکہ جب انہیں محسوس ہو کہ ان کا ماحول بچوں کی بہتر پرورش کے لیے سازگار ہے، تب انہیں بچے پیدا کرنے کا فیصلہ کرنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے یہاں صدیوں سے یہ سوچ چلی آرہی ہے کہ زیادہ بچے پیدا کرنے سے عورت کی سماجی وقعت بڑھتی ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ اگر والدین زیادہ بچے پیدا کریں اور انہیں بہتر پرورش نہ دے سکیں تو یہ بچوں کے ساتھ زیادتی ہے۔
ثانیہ سعید نے نشاندہی کی کہ اکثر والدین سمجھتے ہیں کہ بچے تو پل ہی جاتے ہیں، لیکن ان کی یہ سوچ غلط ہے کیونکہ حقیقت میں بچے پلتے نہیں بلکہ تربیت کے فقدان کے باعث معاشرے کے لیے خطرہ بن جاتے ہیں۔
اداکارہ کے مطابق یہ مسئلہ کسی ایک طبقے تک محدود نہیں بلکہ ہر طبقے کے والدین اس کا حصہ ہیں کیونکہ وہ اپنے بچوں کے مسائل کو سمجھنے میں ناکام رہتے ہیں۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ خواتین سب سے زیادہ غیر محفوظ اپنے گھروں میں ہوتی ہیں کیونکہ وہ ایک ایسے نظام کا حصہ ہوتی ہیں جہاں مرد کو سب کچھ کرنے کی اجازت ہوتی ہے اور خواتین پر سب سے زیادہ تشدد ان کے اپنے گھر کے اندر ہوتا ہے۔
اداکارہ کے مطابق جن بچوں کو والدین سڑکوں پر یا فلاحی اداروں کے باہر چھوڑ جاتے ہیں، ان میں زیادہ تر تعداد لڑکیوں کی ہوتی ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ معاشرے میں صنفی تفریق اب بھی گہرائی تک موجود ہے۔