فضائی دفاع مضبوط بنانے کی ضرورت، ترکیہ جدید لڑاکا طیارے خریدنے کیلئے بے چین
ترکیہ نے اپنی فضائی طاقت کو مضبوط بنانے کے لیے یورپی اتحادیوں اور امریکا کو ایسے طریقے تجویز کیے ہیں جن کے ذریعے وہ جدید جنگی طیارے جلدی حاصل کر سکے۔
عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق نیٹو کا رکن ملک ترکیہ، جو اتحاد کی دوسری بڑی فوج رکھتا ہے، مغرب کے ساتھ حالیہ برسوں میں بہتر ہوتے تعلقات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی فضائیہ کے لیے 40 یورو فائٹر ٹائفون طیارے حاصل کرنا چاہتا ہے (جس کے لیے جولائی میں ایک ابتدائی معاہدہ طے پایا تھا) اور بعد ازاں امریکی ساختہ ایف-35 طیارے بھی لینا چاہتا ہے، حالانکہ واشنگٹن کی پابندیاں اس وقت کسی معاہدے میں رکاوٹ بنی ہوئی ہیں۔
دوسری جانب، مشرقِ وسطیٰ کی سب سے جدید فوج رکھنے والے اسرائیل کے پاس امریکا کے فراہم کردہ سیکڑوں ایف-15، ایف-16 اور ایف-35 لڑاکا طیارے ہیں، صہیونی ریاست کے ایران، شام، لبنان اور قطر پر حالیہ حملوں نے ترکیہ کو پچھلے سال سے تشویش میں مبتلا کر رکھا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ ان حملوں نے ترکیہ کی کمزوریاں بے نقاب کر دیں، جس کے باعث انقرہ نے اپنی فضائی صلاحیتوں میں تیزی سے اضافہ کرنے کی مہم شروع کی تاکہ ممکنہ خطرات کے مقابلے میں غیر محفوظ نہ رہے۔
ترک صدر رجب طیب اردوان نے غزہ اور مشرق وسطیٰ کے دیگر علاقوں میں اسرائیلی حملوں پر شدید تنقید کی ہے، اور دونوں ممالک کے درمیان پہلے سے کشیدہ تعلقات مزید بگڑ گئے ہیں۔
اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے خبردار کیا ہے کہ ترکیہ کے فوجی اڈے، باغی اتحادی، اور شام میں فوجی مدد اسرائیل کے لیے خطرہ ہیں۔
یونان، جو بظاہر علامتی لیکن حساس حریف ہے، اگلے تین برسوں میں جدید ایف-35 طیاروں کا ایک بیڑا حاصل کرنے والا ہے۔
ماضی میں دونوں نیٹو ممالک کے طیاروں کے درمیان بحیرہ ایجیئن کے اوپر فضائی جھڑپیں ہوتی رہی ہیں، اور یونان پہلے بھی ترکیہ کی فوجی طاقت میں اضافے پر تشویش ظاہر کر چکا ہے۔
ترکیہ فوری استعمال شدہ طیارے خریدنے کا خواہاں
ایک ذریعے نے بتایا کہ یورو فائٹر ٹائفون طیاروں کے معاملے میں ترکیہ، برطانیہ اور دیگر یورپی ممالک کے ساتھ ایک معاہدے کے قریب ہے، جس کے تحت اسے قطر اور عمان سے فوری طور پر 12 استعمال شدہ طیارے فراہم کیے جائیں گے تاکہ فوری ضرورت پوری کی جا سکے۔
ذریعے کے مطابق یورو فائٹر کنسورشیم کے ارکان (برطانیہ، جرمنی، اٹلی اور اسپین) اس تجویز کی منظوری دیں گے جس کے تحت ترکیہ کو آئندہ برسوں میں 28 نئے طیارے فراہم کیے جائیں گے، بشرطیکہ حتمی خریداری کا معاہدہ طے پا جائے۔
رجب طیب اردوان بدھ اور جمعرات کو قطر اور عمان کے دورے میں اس تجویز پر بات کریں گے، جس میں طیاروں کی تعداد، قیمت اور ترسیل کے اوقات بنیادی نکات ہوں گے۔
ذرائع کے مطابق رجب طیب اردوان اس ماہ کے آخر میں برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر اور جرمن چانسلر فریڈرِخ مرٹز کی میزبانی بھی کریں گے، جہاں معاہدوں کو حتمی شکل دی جا سکتی ہے۔
برطانوی حکومت کے ترجمان نے رائٹرز کو بتایا کہ جولائی میں برطانیہ اور ترکیہ کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) ’ 40 طیاروں تک کے اربوں پاؤنڈ مالیت کے معاہدے کی راہ ہموار کرتی ہے،’ اور مزید کہا کہ’ ہم جلد ہی معاہدے کی حتمی تفصیلات طے کرنے کے منتظر ہیں۔’
جرمن وزیرِ خارجہ یوہان وڈیفل نے کہا کہ برلن اس خریداری کی حمایت کرتا ہے اور بعد ازاں این ٹی وی کو بتایا کہ ممکن ہے سال کے اندر ہی معاہدہ طے پا جائے۔
ترک وزارت دفاع نے کہا کہ حتمی معاہدہ ابھی نہیں ہوا، تاہم برطانیہ کے ساتھ بات چیت مثبت سمت میں جا رہی ہے اور دیگر کنسورشیم ارکان بھی اس خریداری کی حمایت کرتے ہیں۔ قطر اور عمان نے فی الحال کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
ترکیہ اور امریکا میں مسائل حل کرنے کی سیاسی خواہش موجود
جدید ایف-35 طیارے حاصل کرنا ترکیہ کے لیے زیادہ مشکل ثابت ہو رہا ہے کیونکہ اسے 2020 سے ان کی خریداری پر پابندی کا سامنا ہے، جب واشنگٹن نے روسی ایس-400 فضائی دفاعی نظام خریدنے پر اس پر CAATSA پابندیاں عائد کردی تھیں۔
اردوان گزشتہ ماہ وائٹ ہاؤس میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے دوران اس معاملے پر کوئی خاص پیش رفت نہ کر سکے، تاہم ترکیہ اب بھی دونوں رہنماؤں کے ذاتی تعلقات اور اس حقیقت پر انحصار کر رہا ہے کہ رجب طیب اردوان نے فلسطینی گروپ حماس کو ٹرمپ کے غزہ فائر بندی معاہدے پر دستخط کرنے پر آمادہ کرنے میں مدد کی، تاکہ آخرکار کسی معاہدے تک پہنچا جا سکے۔
ایک اور ذریعے کے مطابق انقرہ نے ایک ایسا منصوبہ پیش کرنے پر غور کیا جس میں امریکی صدر کی طرف سے ایک ’ عارضی رعایت ’ شامل ہو سکتی ہے تاکہ CAATSA پابندیوں کو عارضی طور پر ختم کر کے ایس-400 مسئلے اور ایف-35 خریداری کی راہ ہموار کی جا سکے۔
ایس-400 نظام ترکیہ کی ایف-35 خریداری میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے، تاہم انقرہ اور واشنگٹن دونوں نے عوامی سطح پر اس مسئلے کے حل کی خواہش ظاہر کی ہے اور کہا ہے کہ ان کے درمیان ’ سیاسی ارادہ’ موجود ہے۔
ذرائع کے مطابق اگر عارضی رعایت دی گئی تو یہ واشنگٹن کے ساتھ دفاعی تعاون بڑھانے اور امریکی کانگریس میں ترکیہ کے لیے ہمدردی پیدا کرنے میں مدد دے سکتی ہے، جو ماضی میں ترکیہ کے بارے میں محتاط رویہ رکھتی رہی ہے۔
اردوان کی جماعت اے کے پارٹی کے خارجہ امور کے نائب چیئرمین حارون ارماگان نے رائٹرز کو بتایا کہ ’ دونوں فریق جانتے ہیں کہ CAATSA کے مسئلے کو حل کرنا ضروری ہے، چاہے یہ صدارتی رعایت ہو یا کانگریس کا فیصلہ — یہ امریکا پر منحصر ہے۔’
انہوں نے کہا کہ ’یہ عجیب لگتا ہے کہ اتنی دیگر سفارتی اور دفاعی تعاون کی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ یہ مسئلہ اب بھی حل طلب ہے۔‘
ترک وزارتِ خارجہ نے امریکی ہم منصبوں کے ساتھ رعایت کی تجویز یا ایس-400 کے مسئلے کے حل پر ہونے والی بات چیت کے بارے میں سوالات کا جواب نہیں دیا، وائٹ ہاؤس نے بھی اس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
امریکی محکمۂ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ صدر ٹرمپ ترکیہ کی اسٹریٹجک اہمیت کو تسلیم کرتے ہیں اور ’ ان کی انتظامیہ ان تمام زیر التواء مسائل کے تخلیقی حل تلاش کر رہی ہے’، تاہم مزید تفصیل نہیں بتائی۔
ایک امریکی ذریعے کے مطابق ترکیہ کے 40 ایف-16 طیارے خریدنے کے علیحدہ معاہدے پر مذاکرات قیمتوں کے اختلافات اور ترکیہ کی ایف-35 طیارے حاصل کرنے کی خواہش کے باعث سست روی کا شکار ہیں۔
ترکیہ کا اپنا اسٹیلتھ فائٹر تیار ہو چکا
مغرب کے ساتھ ماضی کے اتار چڑھاؤ اور بعض ہتھیاروں کی پابندیوں سے تنگ آ کر ترکیہ نے اپنا مقامی اسٹیلتھ جنگی طیارہ KAAN تیار کیا ہے، تاہم حکام تسلیم کرتے ہیں کہ اس طیارے کو مکمل طور پر ایف-16 بیڑے کی جگہ لینے میں کئی سال لگیں گے، جو اس وقت ترکیہ کی فضائیہ کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔
ان طیاروں کی اپ گریڈیشن ترکیہ کے اس وسیع تر منصوبے کا حصہ ہے جس کا مقصد مرحلہ وار فضائی دفاع کو مضبوط بنانا ہے ، جس میں ملکی ’ اسٹیل ڈوم’ منصوبہ اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل سسٹمز کی توسیع بھی شامل ہے۔
اپوزیشن جماعت سی ایچ پی کے رکنِ پارلیمنٹ اور ترک فضائیہ کے سابق بریگیڈیئر جنرل یانکی باجچی اوغلو نے کہا کہ ترکیہ کو KAAN، یورو فائٹر اور ایف-16 منصوبوں پر عمل تیز کرنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ’ فی الحال ہمارا فضائی دفاعی نظام مطلوبہ معیار کے مطابق نہیں ہے،’ اور اس کی وجہ ’ منصوبہ بندی میں ناکامیوں’ کو قرار دیا۔