شمالی کوریا کرپٹو کرنسی اور آئی ٹی ورکرز کے ذریعے عالمی پابندیوں کو چکمہ دے رہا ہے، رپورٹ
بین الاقوامی پابندیوں پر نظر رکھنے والے ایک ادارے نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ شمالی کوریا اقوامِ متحدہ کی پابندیوں کو نظرانداز کرتے ہوئے کرپٹو کرنسی کے ذریعے خام مال اور فوجی اسلحے کی تجارت کر رہا ہے، اور بڑی تعداد میں آئی ٹی ماہرین کو بیرونِ ملک بھیج کر رقوم کی غیر قانونی ترسیل اور پیانگ یانگ کے لیے آمدنی پیدا کر رہا ہے۔
ڈان اخبار میں شائع خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق رہنما کم جونگ اُن کی قیادت میں شمالی کوریا نے گزشتہ برسوں میں سائبر کارروائیوں میں نمایاں اضافہ کیا ہے، اور انٹرنیٹ ہیکنگ کو غیر ملکی زرمبادلہ حاصل کرنے کا ایک بڑا ذریعہ بنا دیا ہے، کیونکہ اس کے جوہری اور ہتھیاروں کے پروگراموں پر سخت عالمی پابندیاں عائد ہیں۔
ملٹی لیٹرل سینکشنز مانیٹرنگ ٹیم (ایم ایس ایم ٹی) نے انکشاف کیا کہ شمالی کوریا کے اعلیٰ درجے کے سائبر نیٹ ورک نے جنوری سے ستمبر 2025 کے دوران کم از کم ایک ارب 65 کروڑ ڈالر چوری کیے، جن میں سے ایک ارب 40 کروڑ ڈالر فروری میں کرپٹو ایکسچینج کمپنی بائی بٹ (بائی بٹ) سے چرائے گئے۔
یہ رقم 2024 میں شمالی کوریا کی غیر قانونی کرپٹو کرنسی آمدنی (جو ایک ارب 20 کروڑ ڈالر تھی) کے علاوہ ہے، رپورٹ کے مطابق یہ رقوم شمالی کوریا اپنے غیر قانونی ’بڑی تباہیِ کے ہتھیاروں‘ (ویپنز آف ماس ڈسٹرکشن) اور بیلسٹک میزائل پروگرامز میں استعمال کرتا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ شمالی کوریا کے اہلکاروں نے ’اسٹیبل کوائن‘ نامی کرپٹو کرنسی کو ہتھیاروں اور خام مال جیسے تانبے (جو گولہ بارود کی تیاری میں استعمال ہوتا ہے) کی خرید و فروخت میں استعمال کیا۔
مزید برآں، شمالی کوریا نے اقوامِ متحدہ کی پابندیوں سے بچنے کے لیے اپنے آئی ٹی ورکرز کو کم از کم 8 ممالک میں بھیجا، جن میں چین، روس، لاؤس، کمبوڈیا، ایکویٹوریل گنی، گنی، نائیجیریا اور تنزانیہ شامل ہیں، رپورٹ کے مطابق پیانگ یانگ 40 ہزار مزدوروں کو روس بھیجنے کا منصوبہ رکھتا ہے ، جن میں متعدد آئی ٹی ماہرین کے وفود بھی شامل ہوں گے۔
اقوامِ متحدہ کی پابندیوں کے تحت شمالی کوریا کے شہریوں کو بیرونِ ملک روزگار کی اجازت نہیں ہے، تاہم، پیانگ یانگ کو حالیہ برسوں میں روس کی بھرپور حمایت حاصل ہوئی ہے، خاص طور پر جب اس نے روس کو یوکرین کے خلاف جنگ میں اسلحہ اور ہزاروں فوجی فراہم کیے۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ 38 نارتھ نامی امریکی تھنک ٹینک کی ایک سابقہ رپورٹ کے مطابق شمالی کوریا کے آئی ٹی ماہرین نے اپنی شناخت چھپاتے ہوئے اینیمیشن کے منصوبوں پر کام حاصل کیا، جن کی نگرانی جاپانی اور امریکی کمپنیوں مثلاً ایمیزون اور ایچ بی او میکس کر رہی تھیں۔
ایمیزون کے ترجمان نے وضاحت کی کہ کمپنی نے ایسے کسی کارکن کو براہِ راست ملازم نہیں رکھا تھا، البتہ ایک اینیمیشن اسٹوڈیو کے ساتھ کام کیا گیا تھا جس نے ذیلی ٹھیکیداروں کے ذریعے ان ماہرین کی خدمات حاصل کیں۔
رپورٹ کے مطابق شمالی کوریا کے اینیمیٹرز نے پیانگ یانگ کے سرکاری اسٹوڈیو ’ایس ای کے‘ کے ساتھ بھی کام کیا، جو 2007 کی مغربی فلم ’دی سمپسنز مووی‘ جیسے منصوبوں میں حصہ لے چکا ہے۔
سیول کی انٹیلی جنس ایجنسی کے مطابق گزشتہ سال شمالی کوریا کے ایجنٹس نے لنکڈ اِن پر خود کو بھرتی کنندگان ظاہر کر کے جنوبی کوریا کی دفاعی کمپنیوں کے ملازمین سے ٹیکنالوجی کی معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی۔
ایم ایس ایم ٹی، جو اکتوبر 2024 میں قائم ہوئی تھی، شمالی کوریا پر اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی پابندیوں کی خلاف ورزیوں کی نگرانی کرتی ہے، اگرچہ وہ اقوامِ متحدہ سے باضابطہ طور پر منسلک نہیں، اس کے اراکین میں امریکا، برطانیہ، جنوبی کوریا، جاپان، فرانس، جرمنی، اٹلی، آسٹریلیا، کینیڈا، نیدرلینڈز اور نیوزی لینڈ شامل ہیں۔