لائف اسٹائل

مجھے انتقامی کارروائی کا نشانہ بنایا گیا، انڈے پھینکنے کے پیچھے بھارت ہے، چاہت فتح علی خان

گلوکار رواں سال ستمبر میں وائرل ہونے والی ایک ویڈیو کے بعد خبروں کی زینت بن گئے تھے، جس میں دیکھا گیا تھا کہ ان پر برطانیہ کے ایک ریسٹورنٹ کے باہر دو افراد نے انڈے پھینکے۔

معروف کامیڈین و گلوکار چاہت فتح علی خان نے دعویٰ کیا ہے کہ ان پر برطانیہ کے ایک ریسٹورنٹ کے باہر انڈے پھینکنے کا واقعہ انتقامی کارروائی کا نتیجہ تھا اور اس کے پیچھے بھارت ہے۔

چاہت فتح علی خان رواں سال ستمبر میں وائرل ہونے والی ایک ویڈیو کے بعد خبروں کی زینت بن گئے تھے، جس میں دیکھا گیا تھا کہ ان پر برطانیہ کے ایک ریسٹورنٹ کے باہر دو افراد نے انڈے پھینکے۔

انہوں نے اس واقعے کے حوالے سے جاری کی گئی ایک ویڈیو میں بتایا تھا کہ یہ واقعہ 19 جون کو پیش آیا تھا، وہ ریسٹورنٹ کی انتظامیہ کے خلاف قانونی کارروائی کریں گے، کیونکہ انہوں نے ریسٹورنٹ کی انتظامیہ سے سی سی ٹی وی فوٹیج کے سلسلے میں رابطہ کیا تھا لیکن انتظامیہ نے یہ کہہ کر ویڈیو دینے سے انکار کردیا تھا کہ باہر کوئی کیمرا نصب نہیں ہے۔

گلوکار کا کہنا تھا کہ واقعے کے تین ماہ بعد ریسٹورنٹ انتظامیہ نے اسی واقعے کی ویڈیو اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر شیئر کر دی، اب ان کے پاس ریسٹورنٹ کے خلاف واضح ثبوت موجود ہیں اور وہ عدالت جا کر قانونی کارروائی کریں گے اور ریسٹورنٹ کو بند کروائیں گے، کیونکہ ان کے بقول یہ سب ملی بھگت سے کیا گیا۔

حال ہی میں چاہت فتح علی خان نے ایک پوڈکاسٹ میں اس واقعے کے حوالے سے مزید تفصیلات بتائیں۔

انہوں نے کہا کہ جب واقعہ پیش آیا تو انہوں نے اس پر غور نہیں کیا تھا، لیکن بعد میں معلوم ہوا کہ ریسٹورنٹ کا مالک اور سیکیورٹی اسٹاف سب بھارتی تھے۔

چاہت فتح علی خان نے یاد دلایا کہ مئی میں پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی ہوئی تھی، اس کشیدگی کے دوران انہوں نے پاکستانی فوج کے لیے دو بڑے گانے ریلیز کیے اور جنگ کے دنوں میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو مخاطب کرتے ہوئے یہ پیغام دیا تھا کہ ہمارے ساتھ لڑائی نہ کریں کیونکہ اس سے دونوں ممالک کے عوام متاثر ہوں گے۔

گلوکار نے کہا کہ انہیں لگتا ہے کہ شاید یہی بات کسی کو ناگوار گزری، جس کی وجہ سے ان پر انڈے پھینکے گئے، حالانکہ وہ سب کے ساتھ اچھے ہیں اور کسی کے ساتھ دشمنی نہیں رکھتے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ریسٹورنٹ انتظامیہ کے خلاف قانونی کارروائی کا سلسلہ ابھی بھی جاری ہے اور جلد سب کچھ واضح ہوجائے گا۔

خیال رہے کہ مقبوضہ کشمیر کے علاقے پہلگام میں 22 اپریل کو سیاحوں پر ہونے والے حملے کے الزامات بھارت نے پاکستان پر لگائے تھے، جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان مئی میں 6 روز تک کشیدہ صورتحال رہی تھی۔