ایک کردار نے ذہنی طور پر مفلوج کر دیا تھا، نعمان اعجاز کی بدولت سنبھلا، عدنان شاہ ٹیپو
سینئر ادکار عدنان شاہ ٹیپو نے انکشاف کیا ہے کہ ایک کردار نے انہیں ذہنی طور پر اس حد تک متاثر کیا تھا کہ وہ حقیقت سے دور ہو گئے تھے، تاہم وہ نعمان اعجاز کی بدولت سنبھلنے میں کامیاب ہوئے۔
عدنان شاہ ٹیپو نے حال ہی میں مزاحیہ پروگرام ’گپ شپ وِد واسع چوہدری‘ میں شرکت کی، جہاں انہوں نے اپنے کیریئر اور اداکاری کے مختلف تجربات پر کھل کر گفتگو کی۔
اداکار کا کہنا تھا کہ بعض اوقات منفی کردار سے نکلنے میں اداکار کو دشواری پیش آتی ہے، لیکن ان کے خیال میں ہمیں اسے صرف ایک کام کے طور پر ہی دیکھنا چاہیے، کیونکہ اداکاری کے علاوہ بھی زندگی کے کئی پہلو ہوتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ وہ کردار کو بہتر طور پر نبھانے کے لیے اس کا گہرائی سے مطالعہ کرتے ہیں، ڈائیلاگز بار بار پڑھتے ہیں اور جب وہ ڈائیلاگز انہیں یاد ہو جاتے ہیں تو وہ خود بخود کردار کے مطابق برتاؤ کرنے لگتے ہیں۔
عدنان شاہ ٹیپو نے کہا کہ جب وہ کردار میں اس حد تک ڈوب جاتے ہیں تو پھر انہیں الگ سے اداکاری کرنے کی ضرورت نہیں رہتی، کیونکہ وہ کردار ان کے اندر بس جاتا ہے۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ اپنے کیریئر میں مختلف کردار ادا کرنے کے باوجود ایک ایسا کردار تھا جس میں وہ حد سے زیادہ ڈوب گئے تھے، یہ کردار جرمنی میں سزائے موت پانے والے آخری شخص کا تھا، جس کے لیے انہوں نے 25 کلو وزن کم کیا اور ذہنی طور پر خود کو مکمل طور پر اس کردار میں ڈھال لیا تھا۔
اداکار کے مطابق وہ اس کردار میں اتنے زیادہ جذب ہوگئے تھے کہ اس سے باہر نکلنا ان کے لیے مشکل ہوگیا تھا، یہاں تک کہ وہ کسی اور کام کے قابل نہیں رہے، عام طور پر ان کی اہلیہ اور بیٹیاں انہیں کردار سے حقیقت میں واپس لانے میں مدد کرتی ہیں، مگر اس موقع پر ان کی مدد نعمان اعجاز نے کی۔
عدنان شاہ ٹیپو نے بتایا کہ جب وہ اس کردار کے اثر سے باہر آنے کے لیے جدوجہد کر رہے تھے تو ان کی ملاقات نعمان اعجاز سے ہوئی۔
اداکار کے مطابق انہوں نے دیکھا کہ نعمان اعجاز ایک منظر میں رو رہے ہوتے ہیں اور اگلے ہی لمحے ہنسنے لگتے ہیں، یہی چیز انہوں نے ان سے سیکھی اور اسی کے ذریعے وہ اس کردار کے اثر سے نکلنے میں کامیاب ہوئے۔