برطانیہ نے معروف یوٹیوبر رجب بٹ کو ملک بدر کردیا
برطانوی حکومت نے معروف پاکستانی یوٹیوبر رجب بٹ کو ملک بدر کردیا، انہوں نے تقریباً 18 ماہ قبل ویزا کی درخواست دیتے وقت اپنے خلاف پاکستان میں چلنے والے مقدمات کو چھپایا تھا۔
مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق برطانوی حکام نے ان کا ویزا منسوخ کر کے انہیں فوری ملک چھوڑنے کا حکم دیا ہے، کیونکہ ویزا کی جانچ پڑتال کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ انہوں نے اپنے خلاف پاکستان میں جاری فوجداری کارروائیوں سے متعلق حکام کو آگاہ نہیں کیا تھا۔
لندن میں معروف صحافی مرتضیٰ علی شاہ نے ایک ویڈیو رپورٹ میں کہ ’باوثوق ہوم آفس اور قانونی ذرائع نے بتایا ہے کہ رجب بٹ کو برطانیہ کی کاؤنٹر ٹیرر ازم انٹیلیجنس ایجنسی نے گرفتار کیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ رجب بٹ اور ندیم نانی والا (ندیم مبارک) دونوں کو حراست میں لے کر تفتیش کی گئی۔ ان پر برطانیہ میں کئی غیر قانونی سرگرمیوں، حتیٰ کہ دہشت گردی سے متعلق الزامات کی بنیاد پر شکایات تھیں۔
مرتضیٰ علی شاہ نے بتایا کہ تحقیقات کے دوران یہ الزامات جھوٹے ثابت ہوئے اور دونوں انسٹاگرام/یوٹیوب انفلوئنسروں کو ان الزامات سے بری قرار دے دیا گیا۔ تاہم معاملہ بعد میں ہوم آفس کے پاس گیا جہاں ویزا فارم کا دوبارہ جائزہ لیا گیا۔
وہاں انکشاف ہوا کہ رجب بٹ نے اپنے فارم میں جھوٹ بولا اور پاکستان میں ان کے خلاف چلنے والے مقدمات کا ذکر نہیں کیا تھا۔
ذرائع کے مطابق پنجاب کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (CTD) سمیت دیگر پاکستانی اداروں نے بھی رجب بٹ کے خلاف شکایات برطانوی حکام کو بھجوائی تھیں۔
مرتضیٰ علی شاہ کے مطابق انہوں نے ندیم مبارک سے بھی براہِ راست بات کی جس نے گرفتاری اور رہائی کی تصدیق کی۔
ان کے مطابق ندیم کو برطانیہ میں رہنے کی اجازت مل گئی۔لیکن رجب بٹ کا ویزا منسوخ کر دیا گیا اور وہ اب پاکستان واپس آرہے ہیں۔
ندیم نے تصدیق کی کہ وہ بٹ کے ساتھ پاکستان جا رہے ہیں اور بعد میں واپس برطانیہ لوٹ آئیں گے۔
واضح رہے کہ پاکستان کی نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) نے ستمبر میں رجب بٹ کے خلاف ایف آئی آر درج کی تھی جس میں الزام لگایا گیا تھا کہ وہ سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے ذریعے غیر قانونی جوئے کی ایپس کی تشہیر کرتے ہیں۔
تحقیقات میں کہا گیا ہے کہ یہ پلیٹ فارمز جن میں Binomo، 1xBet، Bet365 اور B9 Game شامل ہیں، لوگوں سے پیسے لے کر انہیں منافع دینے کا جھوٹا لالچ دیتے تھے۔
ایف آئی آر میں رجب بٹ کی وہ ویڈیوز بھی شامل کی گئی ہیں جن میں وہ ان خدمات کی ترویج کرتے دکھائی دیتے ہیں۔