ایرانی عوام آزادی چاہتے ہیں، امریکا ان کی مدد کے لیے تیار ہے، ڈونلڈ ٹرمپ
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایسا لگتا ہے ایرانی عوام پہلے سے زیادہ آزادی کی امید کر رہے ہیں اور امریکا ان کی مدد کے لیے تیار ہے۔
ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ ’ایران آزادی کی طرف دیکھ رہا ہے، شاید پہلے سے زیادہ، اور امریکا مدد کے لیے تیار ہے۔‘
بعد ازاں انہوں نے یہی پیغام دیگر پوسٹس میں بھی دہرایا جبکہ امریکی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ واشنگٹن ایران کے خلاف ممکنہ حملوں پر غور کر رہا ہے۔
ایران میں دسمبر کے اواخر سے احتجاجی مظاہروں کی لہر جاری ہے، جن کی بڑی وجہ ایرانی ریال کی قدر میں شدید کمی اور خراب ہوتی معاشی صورتحال ہے۔ مظاہروں کا آغاز 28 دسمبر کو تہران کے قریب گرینڈ بازار کے علاقے سے ہوا اور بعد میں یہ کئی دیگر شہروں تک پھیل گئے۔
جمعے کو ٹرمپ نے کہا تھا کہ بڑھتی ہوئی بے چینی کے باعث ایران سنگین مشکلات کا شکار ہے اور امریکا صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے، ساتھ ہی انہوں نے ایرانی حکام کو مظاہرین کے خلاف مہلک طاقت کے استعمال سے خبردار کیا تھا۔
ایرانی حکام نے امریکا اور اسرائیل پر بےامنی کو ہوا دینے کا الزام عائد کیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ سیکیورٹی فورسز اور عدلیہ تخریب کاروں کے خلاف کسی قسم کی نرمی نہیں برتیں گی۔
ہفتے کو ٹرمپ نے امریکی سینیٹر لنزے گراہم کے تبصرے بھی ٹروتھ سوشل پر شیئر کیے، جن میں تہران کو متنبہ کیا گیا تھا کہ مظاہرین کے خلاف اقدامات کا جواب دیا جائے گا۔
ٹرمپ نے فاکس نیوز کی ایک رپورٹ بھی دوبارہ شیئر کی، جس میں دعویٰ کیا گیا کہ لندن میں ایرانی سفارت خانے پر ایک مظاہرہ کرنے والے شخص نے موجودہ حکومت کا پرچم اتار کر انقلاب سے پہلے کا نشان لہرا دیا۔
ادھر امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ مزید سخت آپشنز پر غور کر رہی ہے۔ وال اسٹریٹ جرنل نے رپورٹ کیا کہ ایران کے خلاف ممکنہ حملوں پر ابتدائی بات چیت ہو چکی ہے، جبکہ نیویارک پوسٹ کے مطابق امریکا بعض منتخب اہداف پر ابتدائی حملے کر سکتا ہے، تاہم وقت اور اہداف کی وضاحت نہیں کی گئی۔
دوسری جانب امریکی بحریہ کے ایک ریٹائرڈ افسر نے ایرانی مظاہرین کے لیے سائبر اسپیس میں حمایت بڑھانے پر زور دیا ہے۔ وائس ایڈمرل رابرٹ ہارورڈ نے کہا کہ امریکا کو ایسے اقدامات کرنے چاہئیں جن سے ایرانی شہری محفوظ وی پی این تک رسائی حاصل کر سکیں، تاکہ وہ انٹرنیٹ بندش کے دوران زیادہ محفوظ طریقے سے رابطہ اور تنظیم سازی کر سکیں۔
انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ ایران میں آزادی اظہار دبانے اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں ملوث سرکاری اداروں کی فہرست تیار کی جائے، جن میں فوجی کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، سائبر پولیس اور اخلاقی پولیس کے دفاتر شامل ہوں۔