دنیا

حملے کی صورت میں ایران کی اسرائیل اور امریکی اڈوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی

ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا نے حملہ کیا تو اسرائیل اور خطے میں موجود تمام امریکی فوجی اڈے اس کے جائز اہداف ہوں گے، جبکہ ملک بھر میں حکومت مخالف مظاہروں میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔

تہران: ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا کی جانب سے ایران پر حملہ کیا گیا تو وہ اسرائیل اور امریکا کے فوجی اڈوں کے خلاف جوابی کارروائی کرے گا۔

یہ انتباہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیلی ذرائع کے مطابق امریکا کی ممکنہ مداخلت کے پیش نظر اسرائیل ہائی الرٹ پر ہے۔

ایران میں مذہبی قیادت کو 2022 کے بعد سے سب سے بڑے حکومت مخالف مظاہروں کا سامنا ہے، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ حالیہ دنوں میں بار بار مداخلت کی دھمکی دے چکے ہیں اور ایرانی قیادت کو مظاہرین کے خلاف طاقت کے استعمال سے خبردار کیا ہے۔ گزشتہ روز روز ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکا مدد کے لیے تیار ہے۔

ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے اتوار کے روز پارلیمان میں خطاب کرتے ہوئے امریکا کو کسی بھی غلط اندازے سے خبردار کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’واضح کر دیتے ہیں، اگر ایران پر حملہ ہوا تو مقبوضہ علاقے یعنی اسرائیل کے ساتھ ساتھ امریکا کے تمام فوجی اڈے اور بحری جہاز ہمارے جائز اہداف ہوں گے۔‘ قالیباف ایران کی پاسدارانِ انقلاب کے سابق کمانڈر بھی رہ چکے ہیں۔

اسرائیلی سیکیورٹی مشاورت میں شریک تین ذرائع نے بتایا کہ اسرائیل ہائی الرٹ پر ہے، تاہم اس کی مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

اسرائیلی حکومت کے ترجمان نے تبصرہ کرنے سے انکار کیا جبکہ اسرائیلی فوج نے بھی فوری طور پر ردعمل نہیں دیا۔

یاد رہے کہ جون میں اسرائیل اور ایران کے درمیان 12 روزہ جنگ ہوئی تھی، جس میں امریکا نے اسرائیل کے ساتھ مل کر فضائی حملے کیے تھے۔ ان حملوں کے جواب میں ایران نے قطر میں واقع ایک امریکی فضائی اڈے پر میزائل داغے تھے۔

ہلاکتوں میں اضافہ

28 دسمبر سے ایران بھر میں مظاہرے پھیل چکے ہیں، جن کا آغاز مہنگائی میں شدید اضافے کے خلاف ہوا اور بعد ازاں یہ مذہبی حکمرانی کے خاتمے کے مطالبات میں تبدیل ہو گئے۔ حکام امریکا اور اسرائیل پر بےامنی پھیلانے کا الزام عائد کرتے ہیں۔

ایران میں معلومات کی ترسیل اس وقت متاثر ہے کیونکہ جمعرات سے حکام کی جانب سے انٹرنیٹ بند کر دیا گیا ہے۔

امریکا میں قائم انسانی حقوق کی تنظیم ہرانا کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد 116 تک پہنچ چکی ہے، جن میں زیادہ تر مظاہرین شامل ہیں جبکہ سیکیورٹی فورسز کے 37 اہلکار بھی مارے گئے ہیں۔

ایرانی سرکاری ٹی وی نے مغربی ایران کے شہروں گاچساران اور یاسوج میں مظاہروں کے دوران مارے جانے والے سیکیورٹی اہلکاروں کے جنازوں کی کوریج نشر کی۔

سوشل میڈیا پر ہفتے کے روز ایک ویڈیو سامنے آئی جس میں تہران کے پونک علاقے میں رات کے وقت بڑی تعداد میں لوگ ایک پل یا دھاتی اشیا پر تالیاں اور ضربیں لگاتے نظر آئے، جو بظاہر احتجاج کی علامت تھی۔ خبر رساں ادارے نے ویڈیو کے مقام کی تصدیق کی ہے۔