بروقت اقدام اور مؤثر آگاہی کے ذریعے پاکستان کے بچوں کی حفاظت

دنیا بھر میں ہر 43 سیکنڈ میں ایک بچہ نمونیا کے باعث موت کے منہ میں چلا جاتا ہے۔ پاکستان میں خاص طور پر کمزور...

دنیا بھر میں ہر 43 سیکنڈ میں ایک بچہ نمونیا کے باعث موت کے منہ میں چلا جاتا ہے۔ پاکستان میں خاص طور پر  کمزور کمیونٹیز میں یہ خطرہ زیادہ ہے۔ نمونیا کی شدت ایک شخص سے دوسرے شخص تک بہت مختلف ہوسکتی ہے، جو ہلکی سے لے کر جان لیوا تک ہوسکتی ہے۔

ورلڈ چلڈرن ڈے کے موقع پر ہمیں یاد دلایا جاتا ہے کہ یہ صرف ایک طبی مسئلہ نہیں، یہ ایک انسانی مسئلہ ہے۔

ہر اعداد و شمار کے پیچھے ایک بچہ، ایک والدین، ایک نگہبان ہوتا ہے جو اس خوف سے گزر رہا ہوتا ہے کہ ان کے بچے کی بیماری کہیں زیادہ سنگین صورت اختیار نہ کر لے۔

روک تھام نگہبانوں کے لیے پہلا قدم ہے، اور والدین یہ سمجھ کر قدم اٹھا سکتے ہیں کہ اپنے بچوں کی بہترین حفاظت کیسے کرنی ہے۔ بچوں کی صحت میں ہونے والی پیش رفت کی بدولت سنگین بیماریاں اور اموات سے بچا جاسکتا ہے۔

علامات اور نشانیاں

نمونیا جو کہ اسٹریپٹوکوکس نیومونیا بیکٹیریا کی وجہ سے ہو  (Pneumococcal pneumonia) کا آغاز اکثر ایک عام زکام کی طرح ہوتا ہے لیکن یہ جلد سنگین صورت حال اختیار کر سکتا ہے۔

چھوٹے بچوں کے والدین کو تیز بخار 102°F) یا تقریباً 38.9°C اور اس سے زیادہ(، عام بے چینی، پسینہ آنا یا چہرے کا سرخ ہونا، اور مسلسل کھانسی پر نظر رکھنی چاہیے۔ سانس لینے میں دشواری یا تیز سانس لینا، بھوک میں کمی، قے آنا، توانائی کی کمی، بے چینی یا چڑچڑا پن بھی خطرے کی علامات ہوسکتی ہیں۔

بچّوں میں، سانس لیتے وقت خرخراہٹ یا آواز آنا، گیلے ڈائپرز میں کمی، جلد کا پیلا پڑنا، جسم کا ڈھیلا ہونا، معمول سے زیادہ رونا اور کھانے میں دشواری ظاہر ہوسکتی ہے۔

اگر آپ کے بچے میں اثرات نمایاں ہیں تو فوری طور پر طبی مدد حاصل کرنا ضروری ہے کیونکہ بروقت علاج بہت فرق ڈال سکتا ہے۔

بچوں کی حفاظت کا مؤثر اقدامات سے آغاز

نمونیا، خاص طور پر pneumococcal pneumonia ، پانچ سال سے کم عمر بچوں کے لیے سب سے سنگین خطرات میں سے ایک ہے۔ پھر بھی، یہ سب سے زیادہ قابلِ روک تھام بیماریوں میں سے ایک ہے۔ بچوں کی صحت میں پیش رفت نے یہ ممکن بنا دیا ہے کہ اگر خاندان مناسب معلومات اور ٹولز سے لیس ہوں تو سنگین بیماری کے خطرے کو نمایاں طور پر کم کیا جا سکتا ہے۔

آج، معمول کی بچوں کی صحت کی خدمات کے ذریعے ثابت شدہ حفاظتی اقدامات دستیاب ہیں جو نمونیا کے امکانات کو نمایاں طور پر کم کرسکتے ہیں۔ یہ اقدامات محفوظ، وسیع پیمانے پر دستیاب ہیں اور دنیا بھر کی صحت تنظیموں کی جانب سے تجویز کردہ ہیں۔ پاکستان بھر میں سرکاری صحت کے کارکنوں کی جانب سے آؤٹ ریچ کلینکس میں یہ معیاری نگہداشت کا حصہ ہیں۔

نگہبان کیا کر سکتے ہیں؟

آگاہی تحفظ کی طرف پہلا قدم ہے۔ والدین اور نگہبان بچوں کی صحت کے تحفظ میں یوں مدد کر سکتے ہیں:

مقامی صحت کے کارکنوں سے بات کریں: حفاظتی ٹیکے pneumococcal pneumonia کو پہلے ہی روکنے میں مدد کرسکتے ہیں۔ لیڈی ہیلتھ ورکرز اور کمیونٹی رضاکار آپ کے سوالات کے جواب دے سکتے ہیں اور آپ کو معمول کی بچوں کی صحت کی خدمات سے جوڑ سکتے ہیں۔

علامات جانیں: پانچ سال سے کم عمر کے بچے جنہیں کھانسی ہو، سانس میں مشکل یا تیز سانس ، بخار کے ساتھ یا بغیر ، انہیں نمونیا ہوسکتا ہے۔v

فوری طبی نگہداشت حاصل کریں: انتظار نہ کریں۔ اگر آپ کا بچہ علامات ظاہر کرے تو فوراً قریبی ہیلتھ سینٹر یا کلینک جائیں۔

بچے کو غذائیت دیں: اچھی غذائیت اور صاف پانی تک رسائی، فضائی آلودگی سے کم سے کم نمائش، اور ہاتھ دھونے میں بہتری نمونیا کے خطرے کو کم کرنے میں مدد کرسکتے ہیں۔

ایک مشترکہ ذمہ داری

جب ہم اپنے بچوں کی صحت کے لیے فکر مند ہیں، تو آئیے اپنے وعدے کی تجدید کریں کہ بروقت اقدامات کیے جائیں۔ کوئی بھی بچہ ایسی بیماری سے نہیں مرنا چاہیے جو قابلِ روک تھام اور قابلِ علاج دونوں ہو۔ ہم مل کر ایک ایسا مستقبل بنا سکتے ہیں جہاں پاکستان کے ہر بچے کو محفوظ اور صحت مند زندگی کے مواقع دستیاب ہوں۔

حفاظتی ٹیکوں کے بارے میں معلومات کے لیے، براہِ کرم اپنے ہیلتھ کیئر پروفیشنل سے رجوع کریں یا مزید جاننے کے لیے ای پی آئی ویب سائٹ ملاحظہ کریں۔


یہ تحریر فائزر پاکستان کا اشتہاری مضمون ہے اور اس کا ڈان نیوز یا اس کے ادارتی عملے کے خیالات سے کوئی تعلق نہیں۔