بیجنگ: ایک سینیئر چینی آفیشل نے کہا ہے کہ پاکستانی انجینیئروں اور سائنسدانوں کی بڑی تعداد چین میں خلائی سائنس و ٹیکنالوجی کی تعلیم و تربیت حاصل کررہی ہے۔
چائنا گریٹ وال انڈسٹری کارپوریشن میں کمیونکیشن سیٹلائٹ ڈویژن کے ڈپٹی جنرل مینیجر لی لان نے بتایا ،' سال 2005 سے پاکستان اور نائیجیریا سمیت کئی ممالک کے سینکڑوں ماہرین چین مٰن خلائی انجینیئرنگ کی تربیت حاصل کررہے ہیں۔'
یہ کارپوریشن ملک کا واحد ادارہ ہے جو کمرشل بنیادوں پر سیٹلائٹ اور پے لوڈ لانچنگ، اور انہیں مدار ( آربٹ) میں بھیجنے کی سہولیات فراہم کررہا ہے۔ ساتھ ہی ترقی پذیر ممالک کو تربیت کے مواقع بھی فراہم کئے جاتے ہیں۔
واضح رہے کہ پاکستان اور چین کا خلائی سائنس و ٹیکنالوجی میں تعاون بہت پرانا ہے۔ پاکستان کا پہلا سیٹلائٹ بدر اے بھی 1989 میں چین سے روانہ کیا گیا تھا۔
اگست 2011 میں پاکستان نے اپنا مواصلاتی سیٹلائٹ،پاک سیٹ ون آر بھی چین کی مدد سے خلا میں روانہ کیا تھا۔ اگر یہ سیٹلائٹ مدار میں اس کی مقررہ جگہ پر نہیں بھیجا جاتا تو عین ممکن تھا کہ وہ جگہ بھی ہمارے ہاتھوں سے چلی جاتی ۔ پاکستان کے کئی ٹی وی چینلز اب پاک سیٹ ون آر پر موجود ہیں۔
پاکستان کے قومی خلائی تحقیقی ادارے ، سپارکو کے چیئرمین احمد بلال نے کہا کہ اگر چین بین الاقوامی خلانوردوں کو خلا میں بھیجے گا تو پاکستان اس سلسلے میں اپنا باشندہ بھیجنے والا پہلا ملک ہوگا۔
احمد بلال نے کہا کہ پاکستان چین سے ریموٹ سینسنگ کے شعبے میں بھرپور تعاون کررہا ہے۔
دوسری جانب پاکستان نے پاکستانی یونیورسٹیوں کے مختلف طالبعلموں کو ہائی ٹیک خلائی ٹیکنالوجی میں تربیت فراہم کرنے کیلئے ایک طویل مدتی پروگرام شروع کیا ہے۔
پاکستان نیشنل اسٹوڈنٹ سیٹلائٹ پروگرام ( پی این ایس ایس پی) نامی یہ پروگرام سپارکو کی جانب سے سیٹلائٹ پروگرام اور اس کی ٹیکنالوجی کے فروغ کا ایک مؤثر طریقہ ہے۔
اس میں طالبعلموں کو نہ صرف نئی ٹیکنالوجی سے روشناس کرایا جاتا ہے بلکہ وہ اپنے ہاتھوں سے کم خرچ سیٹلائٹ ڈیزائن اور تیار کرکے نئے علوم سے واقف ہوتے ہیں۔