پاکستان

سندھ اسمبلی میں بلدیاتی ایکٹ ترمیمی بل 2013ء منظور

مقامی حکومتوں سے ٹاون پلاننگ اور ماسٹر پلاننگ کا ڈائریکٹوریٹ ختم، ماسٹرپلاننگ، زونزاورٹاون پلاننگ کے شعبے بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے حوالے کیئے جائیں گے۔

کراچی : سندھ اسمبلی نے مقامی حکومتوں کا سندھ بلدیاتی ایکٹ ترمیمی بل 2013ء کثرت رائےسے منظور کرلیا ہے۔

جمعرات کو اسمبلی کا اجلاس قائم مقام اسپیکر شہلا رضا کی صدارت میں ہوا۔ ترمیمی بل صوبائی وزیر قانون ڈاکٹر سکندر میندھرو نے پیش کیا۔

سندھ اسمبلی میں اپوزیشن جماعت متحدہ قومی موومنٹ کے اراکین نے بل کی مخالفت کی جبکہ اپوزیشن کی دیگر جماعتوں بشمول پاکستان مسلم لیگ (ن)، پاکستان مسلم لیگ فنکشنل اور تحریک انصاف کے اراکین نے اس موقع پر اجلاس کا بائیکاٹ کیا ۔

ترمیمی بل مجموعی طورپر 31 ترامیم اوردرستگیوں پر مشتمل ہے۔ اس کے تحت مقامی حکومتوں سے ٹاون پلاننگ اور ماسٹر پلاننگ کا ڈائریکٹوریٹ ختم کر دیئے گئے ہیں جبکہ ماسٹرپلاننگ، زونزاورٹاون پلاننگ کے شعبے بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے حوالے کئے جائیں گے۔

ترمیمی بل میں بلدیاتی ایکٹ کے شیڈول ون میں بھی ترمیم کی گئی ہے۔ میٹروپولیٹن، میونسپل کارپوریشن، میونسپل کمیٹی، میونسپل وارڈ، ٹاون کمیٹی وارڈ، میونسپل کارپوریشن کمیٹی، میٹروپولیٹن یونین کونسل لوکل ایریاکے لیے آبادی کی نئی حد مقرر کی جائے گی۔

بلدیاتی اداروں میں خواتین کی نشستوں میں 22 فیصد اضافہ کیا جائے گا۔ لیبر اورکسان کی نشستوں میں 5 فیصد اضافہ اور مئیر، چیئرمین اور وائس چئیرمین کا انتخاب شوآف ہینڈ کے ذریعہ کیا جائے گا۔

ڈسٹرکٹ کونسل میں ایک نمائندے کا براہ راست انتخاب کرانے اور بلدیاتی ایکٹ میں یونین کونسلز کے بعد یونین کمیٹیوں کی نئی سفارش شامل کی گئی ہے۔ سیاسی جماعتوں کے امیدوار پینلز کی شکل میں انتخابات میں حصہ لے سکیں گے۔

مقامی حکومتیں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعہ منصوبے سندھ حکومت سے اجازت کی پابند ہونگی۔ مقامی حکومتوں کے منصوبوں کی مانیٹرنگ کے لیے صوبائی حکومت دونمائندے مقررکرے گی اور ڈی آر اوپولنگ اسٹیشن تبدیل کرنے کا مجازہوگا۔