پاکستان

ناپا فیسٹیول کا تیسرا روز

فریب روایتی بے وفائی میں چھپی انسانی جذبات تک رسائی کی ایک کامیاب کوشش ہے۔

 فریب

کراچی: نوبل انعام یافتہ برطانوی ڈرامہ نگار ہیرولڈ پینٹر اپنے مختصر کاٹ دار جملوں اور کم فقروں کے استعمال کے باعث جانے جاتے ہیں۔

جب وہ انسانی رشتوں کے تعلقات کی پیچیدگیوں کی تحقیق کرتے ہیں تو وہ کئی نقابوں کے پیچھے حقائق سامنے لانے کی کوشش کرتے ہیں، انکا ڈرامہ 'بیٹرایل' بھی اسی کیٹیگری میں شامل ہے۔

جسے زوہیر رضا نے اردو قالب میں ڈھالا اور فریب کے نام سے عظمیٰ سبین نے ڈرامائی شکل میں نیشنل اکیڈمی آف پرفارمنگ آرٹس المعروف ناپا کے تھیٹر میں پیش کیا۔

فریب درحقیقت ایک شوہر رمیز(رﺅف آفریدی ) اور بیوی زویا 'جوشندر چاگر' کی سات سالہ دھوکہ دہی کی کہانی ہے، جس میں دکھایا گیا ہے کہ رمیز کے بہترین دوست زین (فواد خان) جو کہ شادی شدہ بھی ہیں، کا گزشتہ پانچ سال سے زویا سے معاشقہ چل رہا ہے۔

کھیل کا آغاز ہی ایک چونکا دینے والے موڑ سے ہوتا جس میں زویا زین کو بتارہی ہوتی ہے کہ اس نے اپنے شوہر کو اپنی بے وفائی سے آگاہ کردیا ہے۔

اس طرح یہ تجسس بھرا ڈرامہ ناظرین کی توجہ اپنی طرف کھینچ لیتا ہے اور کئی نشیب و فراز کے بعد اختتام پذیر ہوجاتا ہے۔

فریب روایتی بے وفائی میں چھپی انسانی جذبات تک رسائی کی ایک کامیاب کوشش ہے، جبکہ اس کی ایک خاص بات 'جوشندر چاگر' کی جاندار اداکاری ہے ہر منظر میں اس نے اپنے ساتھی اداکاروں کو آﺅٹ کلاس کردیا، حالانکہ ان کا کام بھی برا نہیں تھا۔

آخر میں ڈرامے کی ڈائریکٹر کی بھی تعریف ضروری ہے جس نے کرداروں کی جسمانی کے ساتھ ساتھ ذہنی کیفیات کو بھی انتہائی خوبصورتی سے پیش کیا۔

ناپا فیسٹیول کے پہلے اور دوسرے روز کی تفصیلات جاننے کے لیے کلک کریں۔