• KHI: Partly Cloudy 25.6°C
  • LHR: Cloudy 28.9°C
  • ISB: Partly Cloudy 22.5°C
  • KHI: Partly Cloudy 25.6°C
  • LHR: Cloudy 28.9°C
  • ISB: Partly Cloudy 22.5°C

قادری، تاثیر کو کس طرح گستاخ قرار دے سکتا ہے؟ عدالت

شائع February 5, 2015 اپ ڈیٹ February 5, 2015 06:06pm

اسلام آباد: سلمان تاثیر کے قتل میں سزا کے فیصلے کے خلاف ممتاز قادری کی اپیل کی سماعت کرنے والے عدالتی بینچ نے وکیلِ صفائی سے سوال کیا کہ کیا ایک پولیس کانسٹبل اپنے عقائد کی بنیاد پر کسی فرد کے خلاف کوئی فیصلہ لے سکتا ہے یا اس کو سزا سنا سکتا ہے یا نہیں؟

جسٹس نور الحق این قریشی اور جسٹس شوکت عزیز صدیقی پر مشتمل اسلام آباد ہائی کورٹ کے اس ڈویژنل بینچ نے یہ سوال بدھ کے روز مقدمے کی سماعت کے دوران ممتاز قادری کے وکیل کے سامنے رکھا۔

ایلیٹ فورس کے سابق کمانڈو ممتاز قادری نے پنجاب کے گورنر سلمان تاثیر کو اسلام آباد کوہسار مارکیٹ میں چار جنوری 2011ء کو گولی مار کر قتل کردیا تھا۔ راولپنڈی میں انسدادِ دہشت گردی کی ایک عدالت نے انہیں اکتوبر 2011ء میں مجرم قرار دیا تھا اور انہیں دو مرتبہ سزائے موت دینے کا فیصلہ سنایا تھا۔

بدھ کے روز جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے ممتاز قادری کے وکلاء کی ٹیم سے کہا کہ وہ عدالت کو سمجھائیں کہ ’’ایک پولیس اہلکار کسی فرد کے بارے میں یہ تعین آخر کس طرح کرسکتا ہے کہ وہ گستاخ تھا یا نہیں۔‘‘

انہوں نے پوچھا ’’توہین رسالت کے قوانین کی موجودگی میں ایک فرد کی جانب سے قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے کا کس طرح جواز پیش کرسکتے ہیں؟‘‘

انہوں نے وکلاء سے کہا کہ اگر ممتاز قادری کو یقین تھا کہ گورنر نے ایسا کچھ غلط کیا ہے تو انہوں نے سلمان تاثیر کے خلاف درخواست دائر کرنے کی کوشش کیوں نہیں کی؟۔

ججز نے اپنے ریمارکس میں کہا اگر یہ صورتحال برقرار رہتی ہے تو کل کو کوئی شخص کسی فرد کا اس بات کی سزا دیتے ہوئے اس کی زندگی کا خاتمہ کرسکتا ہے کہ اس نے مذہبی کلمات ادا نہیں کیے یا سبز رنگ کی پگڑی نہیں پہنی۔

جسٹس نور الحق این قریشی نے اس نکتے کی جانب اشارہ کیا کہ اگر اس طرح کے اقدام کو نظرانداز کردیا گیا تو یہ ہر ایک کو مذہب کے نام پر ’’قتل کرنے کا لائسنس‘‘ دینے کے مترادف ہوگا، جس سے قاتلوں کو یہ چھوٹ مل جائے گی کہ وہ اپنے جرائم کا جواز پیش کے لیے مقتول کو ملحد قرار دے دیں گے۔

انہوں نے ریمارکس دیے ’’کسی بھی شخص کو قانون اپنے ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جاسکتے۔ ریاست میں ایک نظام موجود ہے، اور دستیاب ثبوت کی بنیاد پر ہی مناسب فورم کے تحت کسی شخص پر مقدمہ چلایا جاسکتا ہے۔‘‘

فاضل جج نے کہا کہ اس طرح کے معاملات میں اضافی احتیاط کی ضرورت تھی۔ انہوں نے یاد دلایا کہ ایک حالیہ مقدمے میں ایک مذہبی پیشوا نے من گھڑت شہادت کے ذریعے ایک کم سن مسیحی بچی کو توہین رسالت کے کیس میں ملؤث کرنے کی کوشش کی۔


مزید پڑھیے: ممتاز قادری کے وکلاء کو جنت کی امید


انہوں نے کہا کہ اسلام نے رواداری کی تعلیم دی ہے، اور یاد دلایا کہ نبیٔ پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کو کچھ نہیں کہا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر روزانہ کچرہ پھینکا کرتی تھی، اور رواداری اور حسن اخلاق کے ذریعے اس کے دل کو تبدیل کردیا۔

جسٹس نور الحق قریشی نے کہا کہ ایک انسان کی زندگی کسی بھی چیز سے زیادہ مقدس ہے، انہوں نے مزید کہا کہ عدالت اس بات کی جانچ کرے گی کہ یہ قتل ، ایک اقدامِ قتل تھا یا نہیں۔

ممتاز قادری کے مرکزی وکیل ریٹائرڈ جسٹس میاں نذیر احمد نے دلیل دی کہ ان کے مؤکل کو انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت مجرم قرار دیا تھا، جبکہ استغاثہ نے اس حوالے سے کوئی ثبوت فراہم نہیں کیا تھا کہ سلمان تاثیر کا قتل ، دہشت گردی کی کارروائی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ممتاز قادری ایک ایماندار پولیس اہلکار تھے، اور ان کی مقتول گورنر کے ساتھ کوئی ذاتی دشمنی نہیں تھی۔

میاں نذیر احمد نے کہا کہ شہریوں کی اکثریت اپنے مذہبی عقائد کی توہین کرنے والے کو کبھی معاف نہیں کرے گی۔ انہوں نے دلیل دی کہ ’’مجھے یقین ہے کہ سلمان رشدی اگر یہاں آیا تو اس کو قتل کردیا جائے گا۔‘‘

تاہم وکیل صفائی نے کہا کہ وہ عدالت کے سوالات کا جواب جمعہ کے روز جمع کرائیں گے۔

لاہور ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس خواجہ محمد شریف نے دعویٰ کیا کہ انسدادِ ممتاز قادری کے مقدمے کے دوران دہشت گردی کی عدالت کے سامنے استغاثہ نے تمام قانونی لوازمات کو پورا نہیں کیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ تفتیشی افسر نے ایک اہم گواہ وقاص خان کا بیان ریکارڈ نہیں کیا تھا، جو اسلام آباد میں سلمان تاثیر کے میزبان تھے۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ جائے وقوعہ کے نقشے کے مطابق وقاص خان حملے کے وقت سلمان تاثیر کے ہمراہ تھے۔

خواجہ شریف نے دعویٰ کیا کہ یہ فائرنگ دہشت گردی کا اقدام نہیں تھا، اور ممتاز قادری کا کوئی مجرمانہ پس منظر نہیں تھا۔

اس موقع پر لاہور ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس نے یہ اعلان بھی کیا کہ وہ افراد جنہوں نے متنازعہ فرانسیسی میگزین چارلی ہیبڈو پر حملہ کرکے اس کے ایڈیٹر اور عملے سمیت بارہ لوگوں کو توہین آمیز کارٹون کی اشاعت کے بدلے میں قتل کیا، وہ ان کے ہیرو ہیں۔

تبصرے (9) بند ہیں

راضیہ سید Feb 05, 2015 11:30am
کتنے افسوس کی بات ہے کہ ہمارے ملک میں کسی کو بھی مار دینا ایک عام سی بات ہے یہ جانتے ہوئے بھی کہ یہ گناہ کبیرہ ہے ، اس ممتاز قادری سے پہلے تو کوئی یہ پوچھے کہ تم نے گورنر کو مار کر کون سا تیر چلا لیا ؟ تم کون سا ان کے دل میں گھسے تھے جو انکی نیت کا علم ہوتا ؟ اور اگر ایسا تھا بھی تو پھر بھی قانون کی مدد کیوں نہ لی ، حقیقیت تو یہ ہے کہ مجھے وہ دن اب بھی رلا دیتا ہے جب پانچ جنوری کو سلمان تاثیر کو بے قصور قتل کیا گیا کیونکہ انھوں نے کبھی گستاخی رسول نہیں کی اور نہ ہی توہین رسالت کے قانون کو زک پہنچانے کی کوشش کی ، ان کا کہنا صرف یہ تھا کہ اس قانون کو غلط انداز سے اب تک استعمال کیا جا رہا ہے اور اس کے ذریعے غیر مسلم افراد کا پاکستان میں جینا دوبھر کیا جا رہا ہے ؟ کیا یہ ایسی بات ہے جس پر کسی کو موت کے گھاٹ اتار دیا جائے ۔ کیا ممتاز قادری کو شکار پور میں ہونے والے سانحے ، عزادری کے جلوسوں میں ، مساجد میں محمد و آل محمد کی توہین کرنے والے دہشتگرد نظر نہٰں آئے ، آپ سے یہ کیوں برداشت ہوا کہ ایک مسجد میں جہان نمازیوں پر گولیاں چلیں ، دھماکے ہوئے کیا وہاں قرآن پاک موجود نہیں تھے ، کیا وہاں پر رسول کا آل رسول کا نام نہیں لیا جا رہا تھا ؟ کیا یہ گستاخی نہیں دین کی توہین نہیں ؟ افسوس ہے ممتاز قادری آُ پر اور آپ جیسی چھوٹی سوچ رکھنے والوں پر ۔۔۔۔۔۔آپ جیسے انتہا پسندوں کو پھانسی لگے ناں تو پاکستان بالکل ٹھیک ہو جائے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
محمد محبوب Feb 05, 2015 12:20pm
سیدھی بات ھے خون کا بدلہ خون بھلے وہ مذھب کے نام پر ھو یا غیرت کے نام پر، ممتاز قادری ایک قاتل ھے اسے قانون کے مطابق سزا ملنی چاھئے۔ کسی کو سزا دینا ریاست کا کام ھے عام فرد کا نہیں۔
Ejaz Sheikh Feb 05, 2015 01:35pm
اگر ممتاز قادری نے ایک نیک کام سرانجام دیا ہے تو وہ اپنی سزا کے خلاف اپیل کیوں کر رہا ہے. سولی پر لٹک کر جلدی سے جنت میں داخل ہو جائے. فرشتے انتظار کر رہے ہیں
ظہیر Feb 05, 2015 05:44pm
@محمد محبوب یہ تو آپکو یاد ہے قتل کے بدلے قتل پر یہ یاد نہیں ہے گستاخ رسول کی سزا موت ہے اور حضرت عمر ابن الخطاب نے آغاز کیا تھا ایک مسلمان اور کافر کے درمیان ---------- مسمان غلط تھا لمبی بات ہے مسلمان کو گستاخی کی وجہ سے قتل کر دیا تھا اور اللہ تعالی نے فرمایا تھا حضرت عمر ابن ال خطاب نے ٹھیک کیا
MALIK Feb 05, 2015 09:10pm
@راضیہ سید AAp ka comment parh kar dul khush hua. Aur yeh laga ke aisi soch rakhne wale abhi pakistan mein bahut hain
MALIK Feb 05, 2015 09:11pm
@Ejaz Sheikh bahut khoob. really aap ka sawal main hi aap ka jawab hai
Israr Muhammad Khan Feb 06, 2015 12:09am
اس مقدمہ میں کسی بحث کی ضرورت ہی نہیں عدالت اور وکلاء سب جانتے ھیں کہ کیا ھوا تھا یہ بلکل سیدھا اور صاف قتل ھے قادری کو قانون کے مطابق سزا دی جائے وقت برباد نہیں کرنا چاہئے وکیل صفائی اپنے اپ کو ہیرو نہ بنائیں انکو عدالت کے اٹھاۓ ھوئے جائز سوالات کا جواب دینا ھوگا
یمین الاسلام زبیری Feb 06, 2015 12:10am
میری عدالت سے درخواست ہے کہ وہ اس تحقیق کو کہ کوئی گورنر تاثیر کو کیوں کر توہین رسالت کا مرتکب قرار سے سکتا ہے، اپنے انجام تک جاری رکھے۔ اس بات کو نہیں بھولنا چاہیے قادری سلمان تاثیر کی حفاظت کرنے کے لیے پیسے لیتا تھا، اس نے اسی تھالی میں چھید کیا جس میں کھاتا تھا۔
مبشر احمد تبسم Feb 06, 2015 08:53pm
السلام علیکم اس امر میں کیا شک ہے کہ اگر ہر شخص دوسرے پہ خود ہی الزام لگا کر قتل تک کا مجاز ہو تو امن دنیا سے ناپید ہو جائے.دنیا کے کسی ملک میں ایسا قانون نہیں.وطن عزیز میں بدامنی کی وجہ یہی ہے.اس کو کوئ جج صاحب کیا ہر زی شعور سمجهه سکتا ہے

کارٹون

کارٹون : 1 اپریل 2026
کارٹون : 31 مارچ 2026