پاکستان کا پہلا جلا وطن: حشمت ٹہلرام کیول رامانی

30 مارچ 2015

ای میل

انہوں نے جلاوطن ہونا پسند کیا، لیکن اپنے خیالات پر اور اپنی جدوجہد پر سمجھوتہ کرنے کے لیے کبھی رضامند نہیں ہوئے۔ — Creative Commons
انہوں نے جلاوطن ہونا پسند کیا، لیکن اپنے خیالات پر اور اپنی جدوجہد پر سمجھوتہ کرنے کے لیے کبھی رضامند نہیں ہوئے۔ — Creative Commons

ہمارے دوست سلام دھاریجو نے دیارام گدومل پر ہمارا بلاگ پڑھتے ہی حکم صادر کیا کہ حشو کے بارے میں کچھ لکھیں۔ یوں تو پاکستان کی سیاسی تاریخ جلاوطنیوں سے بھری پڑی ہے لیکن ان میں اکثریت خود ساختہ جلاوطنیوں کی ہے۔ حشمت ٹہلرام کو پیار سے حشو پکارا جاتا تھا۔ وہ پاکستان کے غالباً وہ پہلے سیاسی کارکن تھے جنہیں 1949 میں زبردستی جلا وطن کیا گیا۔ شیخ ایاز اپنی کتاب ”ساہیوال جیل کی ڈائری“ میں لکھتے ہیں کہ:

"جب میں 1963 میں دہلی سے رخصت ہو رہا تھا تو مجھے حشو نے الوداعی ملاقات میں کہا تھا ”ایاز ایک بات ہرگز نہ بھولنا، اگر تم نے پاکستان میں کسی رفیوجی (مہاجر) پر ہاتھ اٹھایا تو سمجھنا کہ مجھ پر ہاتھ اٹھایا کیوں کہ میں بھی ہندوستان میں رفیوجی (شرنارتھی) ہوں۔“

حشو حقیقاً ایک نابغہ روزگار شخص تھے۔ ان کا مطالعہ انتہائی وسیع تھا۔ حشو اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے برطانیہ بھی گئے مگر بغیر کوئی ڈگری لیے واپس کراچی لوٹ آئے۔ اس کے بعد انہوں نے عملی سیاست کا آغاز کر دیا۔ وہ لندن میں اندرا گاندھی کے ہم جماعت تھے۔ تقسیمِ ہند سے قبل انہوں نے سامراج دشمن سیاست میں اہم کردار ادا کیا۔

حشو کے ساتھیوں میں کامریڈ سوبھو گیانچندانی، ابراہیم جویو اور شیخ ایاز بھی شامل تھے۔ سائیں جی ایم سید حشو سے بہت زیادہ متاثر تھے۔ سائیں جی ایم سید آغاز میں کانگریس کی سیاست کرتے تھے۔ بعدازاں مسلم لیگ میں شامل ہوئے۔ پھر ان کے قائدِ اعظم سے اختلافات ہو گئے اور انہوں نے مسلم لیگ چھوڑ دی۔

کانگریس کی سیاست مشترکہ ہندوستان میں مذہب سے بالاتر سیاست کی علمبردار تھی جب کہ مسلم لیگ کی سیاست کا محور یہ تھا کہ ”مسلم ہے تو مسلم لیگ میں آ“۔ ان دونوں پارٹیوں کی سیاست کو رد کرنے کے بعد جی ایم سید اس شش و پنج کا شکار تھے کہ ان کی سیاست کی بنیاد کیا ہونی چاہیے۔

جی ایم سید اپنی کتاب ”جنب گذاریم جن سیں” (میرے ہم دم، میرے رفیق) کے صفحہ نمبر 217 پر لکھتے ہیں کہ:

"اس وقت حشو کی محبت اور گفتگو میرے لیے روشنی کی کرن ثابت ہوئی۔ اس نے ”مسئلہ قومیت“ کی بنیادی روح سے مجھے متعارف کیا۔ اس حوالے سے میں نے پوری صورت حال کو ایک نئے نقطہ نظر سے پڑھنا شروع کیا۔ کانگریس کا نظریہ یہ تھا کہ ہندوستان میں بلا تفریق مذہب ایک قوم بستی ہے۔ دوسری جانب مسلمانوں کا جداگانہ نظریہ دنیا کے دیگر نظریوں کے مقابلے میں فرسودہ، غلط فہمی پر مبنی، اور جذباتی لگ رہا تھا۔ ان تمام باتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے مجھے سندھ کی جداگانہ قومیت ہی حقیقی شے نظر آئی۔ اس کے بعد مجھے مستقبل کا راستہ صاف اور واضح نظرآنے لگا۔"

جی ایم سید کے مطابق دہلی میں حشو نے ”سندھوسماج“ کو قائم کرنے کے لیے کوششیں کیں۔ ابتداء میں ”سندھی بولی کنونشن” منعقد کیا گیا جس میں اس وقت ہندوستان کے صدر رادھا کرشنن کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔

معروف ادیب لچھمن کومل اپنی خودنوشت سوانح عمری ”وھی کھاتے جاپنا“ (بہی کھاتے کے ورق) کے صفحہ نمبر 75 پر شیخ ایاز اور حشو کے تعلقات کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ:

"حشو کے گھر رم کے دو چار پیگ لگانے کے بعد ایاز بے حد جذباتی ہوگیا۔ وہ عدالت میں وکیلوں کی طرح اٹھ کھڑا ہوا۔ ایک ہی سانس میں بولتے ہوئے جھک کر حشو کے پیر چھونے لگا۔ پھر کھڑے ہو کر انگریزی میں تقریر کرنے لگا

"I owe half my existence to Hashu" (میرا نصف وجود حشو کی وجہ سے ہے)۔

حشو جواباً بولا "Why half Ayaz, why not full" (نصف کیوں مکمل کیوں نہیں)۔

ایاز بولا "مکمل نہیں حشو، صرف نصف۔"

حشو انگریز سامراج کے سخت خلاف تھے اور چاہتے تھے کہ جتنی جلد ہوسکے متحدہ ہندوستان کو برطانوی راج سے چھٹکارا حاصل ہو۔ شیخ ایاز اپنی کتاب ”ساہیوال جیل کی ڈائری“ کے صفحہ نمبر 597 پر حشو کی سامراج دشمنی کو یوں بیان کرتے ہیں:

"حشو نے انگریز سامراج کے خلاف پوسٹر چھاپا، جس میں ہندوستان کے نقشے پر لانگ بوٹ بنا ہوا تھا اور لکھا تھا Stop this march of imperialism۔ یہ پوسٹر چھاپنے پر انگریزوں نے اسے دو سال کی سزا دی تھی مگر وہ ڈیڑھ سال کے بعد اکتوبر 1941 میں رہا ہو گیا تھا۔"

شیخ ایاز مزید لکھتے ہیں کہ وہ اکثر کسی کا قول دہراتا تھا۔

"I shall live for communism, I shall die for communism, but I shall not live under communism." (میں کمیونزم کے لیے جیوں گا، میں کمیونزم کے لیے مروں گا، لیکن کمیونزم کے تحت جی نہیں سکتا)۔

حشو سوبھو کو بھی کہتا تھا "You will always be used by communists and supply with your life and bones the foundation of a new building." (تمہیں کمیونسٹ ہمیشہ استعمال کریں گے۔ وہ تمہاری زندگی اور ہڈیاں ایک نئی تعمیر کی بنیادوں میں کام لائیں گے۔)

حشو سندھ کو اپنا وطن مانتے تھے اور کسی بھی صورت میں یہاں سے ہجرت کرنے کے لیے تیار نہ تھے۔ ہندوستان کی تقسیم کے بعد بھی انہوں نے پاکستان نہ چھوڑا۔ 1947 میں انہیں کراچی میں نظر بند کر دیا گیا۔ شیخ ایازکے بقول اس وقت وہ دن رات اپنے فلیٹ میں بند جی ایم سید کی کتاب My struggle for new Sindh (نئے سندھ کے لیے میری جدوجہد) کا انگریزی ترجمہ کررہے تھے۔

تقسیم کے بعد جی ایم سید کے نظریات حکمرانوں کے لیے قابل قبول نہ تھے۔ تقسیم سے قبل حشو برطانوی راج کا نشانہ بنے اور پاکستان بننے کے بعد پاکستانی بیوروکریسی کا۔ پولیس نے حشو کو مسعود کھدر پوش کی عدالت میں پیش کیا جو اس وقت کراچی کے ڈپٹی کمشنر تھے۔ (مسعود کھدر پوش وہ شخصیت ہیں جنہوں نے سندھ کے ہاریوں کی حالت زار جاننے کے لیے کمیشن میں اختلافی نوٹ لکھا تھا جو بعدازاں ہاری رپورٹ کے نام سے شائع ہوا)۔

مسعود کھدر پوش حشو کو بہت اچھی طرح جانتے تھے۔ شیخ ایاز اپنی کتاب ساہیوال جیل کی ڈائری کے صفحہ نمبر 550 پر لکھتے ہیں کہ:

دوران گفتگو مسعود نے حشو سے کہا، ”حشو تم ہندوستان کیوں نہیں چلے جاتے؟“

حشو نے ٹکا کر جواب دیا، ”مسعود یہ میرا وطن ہے، میں ہندوستان کیوں جاؤں؟“

مسعود نے اپنے انگوٹھے سے برابر والے کمشنر کے کمرے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا

"You Sindhis will be decimated like Red Indians" (تم سندھی ریڈ انڈینز کی طرح ملیا میٹ کردیے جاؤ گے)۔

پھر مسعود نے سر جھکا کر حشو کی نظر بندی کی معیاد بڑھانے کا آرڈر لکھا اور جب تک ہم ان کے کمرے سے نکل نہیں گئے، اس نے ہمیں آنکھیں اوپر اٹھا کر نہیں دیکھا۔

میں مسعود کے الفاظ سن کر حیرت زدہ رہ گیا۔ حشو کی رہائی کے کچھ عرصے بعد انہیں ملک بدر کیا گیا۔ ہم انہیں سائیں جی ایم سید کے گھر سے ایئرپورٹ چھوڑ آئے تھے۔

جیسے ہم پہلے بیان کر چکے ہیں، حشو تقسیم کے بعد بھی ہندوستان منتقل ہونے کے لیے ذہنی طور پر تیار نہیں تھے۔ 1963 میں ہندوستان میں 15 برس گزارنے کے بعد بھی وہ خود کو وہاں شرنارتھی (مہاجر) سمجھتے تھے۔ انہیں شاید وطن سے دوری کے کرب کا مکمل اندازہ تھا۔

جلاوطنی کے بعد ہندوستان میں ان کی جو حالت ہوئی اسے معروف سندھی ہندو صحافی لچھمن کومل اپنی خود نوشت کے صفحہ نمبر 73,74 پر لکھتے ہیں کہ:

"ایک رات میں بمبئی میں کیرتھ بابانی کے گھر بیٹھا تھا۔ ابھی ہم نے پہلا ہی پیگ بنایا تھا کہ دروازے کی گھنٹی بجی۔ کیرتھ کی بیوی سوتیا نے دروازہ کھولا تو حشو اندر داخل ہوئے۔ پھٹی ہوئی قمیض اور ملگجی پینٹ، مہینے بھر کی بڑھی ہوئی سپید داڑھی، سر پر سیاہ رنگ کا پرانا پچکا ہوا فلیٹ ہیٹ، جھریوں بھرا چہرہ، اور آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے۔

”ارے لچھمن تم؟“ وہ مجھ سے بغل گیر ہو کر چپ چاپ صوفے پر بیٹھ گئے۔ کیرتھ نے بے نیازی سے ان کے لیے ایک پیگ بنایا۔ وہ پورا گلاس ایک ہی گھونٹ میں پی گئے۔ کیرتھ مجھے وہاں سے اٹھا کر اندر کمرے میں لے آیا اور کہنے لگا “یہ آسانی سے پیچھا نہیں چھوڑیں گے، تم انہیں 5 روپے دے کر جان چھڑاؤ میں دے دے کر تھک گیا ہوں۔ پیسے ملتے ہی وہ یکدم چلے جائیں گے۔ میں نے آنسو بھری آنکھوں سے حشو کو صوفے سے اٹھایا۔ وہ ادھر اُدھر دیکھتے ہوئے بوتل تلاش کررہے تھے جو کیرتھ نے الماری میں رکھ دی تھی۔

میں نے جیب سے 10کا نوٹ نکال کر چپ چاپ حشو کی ہتھیلی پر رکھ کر ان کی مٹھی بند کردی۔ پیسے ملتے ہی حشو فوراً دروازہ کھول کر باہر نکل گئے۔ میں دروازے کی اوٹ سے سندھ کے اس عظیم دانشور، اعلیٰ مفکر، انگریزی صحافت کی دنیا میں آبرودار رتبہ رکھنے والے حشو کیول رامانی کو آخری بار بڑے بڑے قدم اٹھاتے ہوئے اندھیرے میں گم ہوتے دیکھتا رہا۔

واپس اندر آکر میں نے کیرتھ سے کہا کہ کھانا مت منگوانا آج میں ایک لقمہ بھی نہیں نگل پاؤں گا۔"

حشو کتنے عظیم انسان تھے۔ ان کی عظمت کو ایک بلاگ میں بیان نہیں کیا جاسکتا۔ اس کے لیے ایک مکمل کتاب کی ضرورت ہے۔ انہوں نے جلاوطن ہونا پسند کیا، لیکن اپنے خیالات پر اور اپنی جدوجہد پر سمجھوتہ کرنے کے لیے کبھی رضامند نہیں ہوئے۔

پاکستان سے جلاوطنی کے بعد بھی انہیں پاکستان ہجرت کرنے والوں کا خیال تھا کہ کہیں ان کے ساتھ زیادتی نہ ہو، صرف اس وجہ سے کہ انہوں نے ترک وطن کیا تھا اور وہ ترکِ وطن کی تکلیف سے اچھی طرح واقف تھے۔