کشمیر میں مظاہرین کی ہلاکت، پاکستان کی مذمت

اپ ڈیٹ اپريل 19 2015

ای میل

فائل فوٹو : اے ایف پی
فائل فوٹو : اے ایف پی

اسلام آباد : پاکستان نے ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں پر امن احتجاج پر فورسز کے تشدد اور مظاہرین کی ہلاکت کی شدید مذمت کی ہے۔

انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر پاکستان کی جانب سے تشویش کا اظہار بھی کیا گیا ہے۔

دفتر خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم کی جانب سے جاری کیے جانے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ ہندوستانی افواج کی طرف سے طاقت کا وحشیانہ استعمال انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : کشمیر میں پاکستانی پرچم

تسنیم اسلم کا مزید کہنا تھا کہ تشدد کے ذریعے ہندوستانی سرکار کشمیری عوام کو ان کی جدوجہد سے نہیں روک سکتی۔

حریت کانفرنس کے رہنما مسرت عالم کی گرفتاری اور سید علی گیلانی، میر واعظ و دیگر کی نظر بندی و مقدمات کے اندراج پر ان کا کہنا تھا کہ حریت کانفرنس کے رہنماؤں پر بے بنیاد الزامات اور گرفتاری قابل مذمت ہے۔

کشمیر میں گزشتہ دو روز میں 2 نوجوانوں کی ہلاکت پر کہا گیا کہ کشمیری نوجوانوں کی ہلاکت افسوسناک ہے، شہداء کے ورثاء سے اظہار افسوس کرتے ہیں۔

مزید پڑھیں : پاکستانی پرچم لہرانے پر حریت رہنما گرفتار

پاک ہند مذاکرات کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے ہمیشہ بامقصد مذاکرات پر زور دیا۔

واضح رہے تین روز قبل مسرت عالم کی ہندوستانی جیل سے رہائی پر مظاہرے میں پاکستان کا پرچم لہرایا گیا تھا، جس پر فورسز کی جانب سے تشدد کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں : کشمیر میں ہندوستانی فورسز کی فائرنگ سے ’بچہ‘ ہلاک

گزشتہ دو روز کے دوران احتجاج، مظاہروں اور ہڑتال کے دوران 2 کشمیر نوجوان فورسز کی فائرنگ سے ہلاک ہو چکے ہیں۔

واضح رہے کہ 1947 میں پاکستان اور ہندوستان کی برطانوی حکومت سے آزادی کے بعد کشمیر پر دونوں ممالک کا تنازع ہے، 1948 میں کشمیر کا کچھ حصہ آزاد کروایا گیا تھا جو اب آزاد کشمیر کہلاتا ہے، جبکہ پاکستان کی جانب سے متعدد بار اقوام متحدہ میں اس بات کو اٹھایا گیا ہے کہ مسئلہ کشمیر وہاں کی عوام کی خواہش کے مطابق حل کیا جائے۔

مزید پڑھیں : کشمیر میں مظاہرین پر لاٹھی چارج، 14 افراد زخمی

یاد رہے کہ 1989 میں کشمیری عوام نے خود بھی حریت کی مسلح تحریک شروع کی ہے جس میں وہ ہندوستان سے آزادی اور کشمیر سے فوجی انخلاء کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔