لندن میں میئر کا الیکشن اور پاکستان
برطانوی سیاست میں انتہائی اہم سمجھے جانے والے لندن میئر کے عہدے کیلئے 3 مضبوط امیدواروں کا پاکستان کے ساتھ قریب تعلق ہے۔
لیبر پارٹی کے پسندیدہ امید وار صادق خان کے دادا تقسیم ہند کے موقع پر ہندوستان سے کراچی آ گئے تھے۔
کنزرویٹیو پارٹی کے امید وار زیک گولڈ سمتھ عمران خان کے سابق سالے ہیں جبکہ تیسرے امید وار جارج گیلوےطویل عرصے سے بھٹو خاندان کےقریب ہیں۔
لندن میں میئر کے الیکشن کی میڈیا کوریج تینوں امید واروں کے طبقوں پر مرکوز ہے کیونکہ ایک طرف 200 ملین پاؤنڈز دولت کے ساتھ انتہائی امیر زیک ہیں تو وہیں صادق خان ایک بس ڈرائیور کے بیٹے ہیں جو 1960 میں برطانیہ آئے۔
صادق اور ان کے 7 بہن بھائیوں کی پرورش تین بیڈ روم کے ایک سرکاری اپارٹمنٹ میں ہوئی۔
صادق اپنی انتخابی مہم میں کہتے ہیں کہ لندن نے انہیں بہت مواقع فراہم کیے اور ان کی قیادت میں یہ شہر دوسروں کو بھی ایسے مواقع دے گا۔
زیک گولڈ سمتھ کی انتخابی مہم میں جمائما اور عمران خان کا 18 سالہ بیٹا سلیمان عیسی خان بھی حصہ لے رہے ہیں۔
خیال رہے کہ زیک ماضی میں عمران خان کو’پاکستان کے مسائل کا حل‘ قرار دے چکے ہیں اور عمران بھی ان کیلئے اچھے خیالات رکھتےہیں کیونکہ2010 میں انہوں نے رچ مونڈ کے رکن پارلیمنٹ بننے کی کامیاب انتخابی مہم میں زیک کی حمایت کی تھی۔
گزشہ کئی سالوں میں صہورنیت اورعراق پر قبضے کی مخالفت کرنے پر جارج گیلوے کو کئی برطانوی پاکستانیوں کی حمایت حاصل ہے۔
جارج الیکشن میں مسلمانوں کے ووٹ بینک پر انحصار کر رہے ہیں۔
جب صادق خان نے یورپ میں دہشت گردی پر اپنے ردعمل میں برطانوی مسلمانوں پر زور دیا کہ وہ شدت پسندی پر مبنی خیالات کو چیلنج کریں تو گیلوے نے ان پر اپنےہی لوگوں قربانی کا بکرا بنانے کاالزام لگایا۔
اس طرح کے الزامات کے باوجود، صادق خان مسلسل کوشش کر رہے ہیں کہ انہیں ایک ایسے امید وار کے طور پر ہرگز نہ دیکھا جائے جو مسلم مقاصد کا حامی ہے۔
اس مقصد کیلئے انہوں نے نا صرف اپنی انتخابی مہم کا آغاز ایک شراب خانے سے کیا بلکہ انہیں ہم جنسوں کی شادی کی حمایت کرنے پر موت کی دھمکیاں بھی مل چکی ہیں۔
صادق خان نے برطانوی مسلمانوں پر زور دیا ہے کہ وہ خارجہ پالیسی اور انسداد دہشت گردی کے بجائے غربت اور عدم مساوات جیسے مسائل پر توجہ مرکوز کریں۔
صادق کے خیال میں غربت اور عدم مساوات برطانوی مسلمانوں کی اکثریت پر بہت زیادہ اثر انداز ہوئے ہیں۔
برطانوی سیاست میں لندن کا میئر ایک بہت بڑا عہدہ سمجھا جاتا ہے ، جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس عہدے پر کام کرنے والے دو سابق میئر کین لیونگ سٹون اور بورس جانسن کابینہ کے وزرا سے زیادہ جانے مانے سیاست دان ہیں۔
تاہم، لندن میئر کے اختیارات کافی محدود ہوتے ہیں۔ ان کے بڑے اختیارات میں لینڈ ڈیولپمنٹ، ٹرانسپورٹ اور پولیسنگ کے کچھ معاملات وغیرہ شامل ہیں۔
لندن کے کسی بھی الیکشن میں جنوبی ایشیا سے برطانیہ آئے خاندانوں کے ووٹ انا ائی اہم سمجھے جاتے ہیں، مثلاً یہاں آباد ہندوستانی برادری کے پانچ لاکھ سے زائد ووٹ ہیں اور زیک گولڈ سمتھ ان کی حمایت حاصل کرنے کی بھرپور تگ ودو کررہے ہیں۔
رواں سال زیک نے لندن میں ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی سے ہاتھ ملانے کی تصاویر پر مشتمل لیفلیٹ تقسیم کیے۔
تاہم لیفلیٹس میں صرف ہندو تہواروں کے ذکر پرانڈیا سے تعلق رکھنے والے سکھوں اور مسلمانوں نے شکایت کی کہ زیک کو معلوم ہونا چاہیے کہ لندن میں انڈیا سے تعلق رکھنے والا ہر ووٹرہندو نہیں۔
ایم کیو ایم کا عنصر
لندن میں متحدہ قومی موومنٹ کی مرکزی قیادت میئر کے الیکشن پرقریبی نظر رکھے گی۔
زیک گولڈ سمتھ عمران خان کی جانب سے لندن میں ایم کیو ایم کے خلاف قانونی کارروائی کی حمایت کر چکے ہیں۔
زیک گولڈ سمتھ نے کہا تھا ’اگر ایم کیو ایم کے الطاف حسین نے برطانیہ میں رہتے ہوئے کسی کو الیکشن میں دھاندلی کے خلاف مظاہرین پرتشدد کیلئے اکسایا ہے توان کے خلاف قانونی چارہ جوئی ہونی چاہیے‘۔
برطانوی پارلیمنٹ میں ایک سخت تقریر کے دوران الطاف حسین کی پرزور مذمت کرنے والےجارج گیلوے نےکہا ہے کہ الیکشن میں کامیابی کی صورت میں وہ ایم کیو ایم کے خلاف کارروائی کریں گے۔
صادق خان نے اب تک ایم کیوایم کے بارے میں کوئی بیان نہیں دیا۔
گیلوے کا پاکستان سے تعلق 1998 میں اس وقت منظر عام ہوا جب نواز حکومت کے انسداد کرپشن سربراہ سیف الرحمان نے مسئلہ کشمیر کی وکالت کیلئے فنڈز اکھٹےکر نے سے متعلق گیلوے اور بے نظیر بھٹو حکومت کے درمیان خفیہ رابطوں کی اہم دستاویزات افشا کیں۔
تاہم، ان رابطوں کے نتیجے میں ہونے والی مالی بے ظابطگیوں پر دھچکہ پہنچنے کے بجائے کئی پاکستانیوں نے اسے ایک جائز مقصد کیلئے پیسہ خرچ کرنے سے تعبیر کیا۔
2013 میں گیلوے نے کراچی ادبی فیسٹیول ک میں بتایا تھا کہ وہ ذوالفقار بھٹو کی پھانسی کے بعد سے بھٹو خاندان کے ساتھ ہیں اور آخری دم تک ساتھ رہیں گے۔
یہ خبر 27 مارچ، 2016 کے ڈان اخبار سے لی گئی
آپ موبائل فون صارف ہیں؟ تو باخبر رہنے کیلئے ڈان نیوز کی فری انڈرائیڈ ایپ ڈاؤن لوڈ کریں۔










لائیو ٹی وی