• KHI: Cloudy 28.3°C
  • LHR: Partly Cloudy 26.8°C
  • ISB: Partly Cloudy 22.9°C
  • KHI: Cloudy 28.3°C
  • LHR: Partly Cloudy 26.8°C
  • ISB: Partly Cloudy 22.9°C

صدر کی تضحیک: سابق ’مس ترکی‘ کو 14 ماہ کی سزا

شائع June 1, 2016 اپ ڈیٹ June 1, 2016 11:34am

انقرہ: ترکی کی عدالت نے صدر رجب طیب اردگان کی توہین کرنے پر سابق ’مِس ترکی‘ کو 14 ماہ قید کی سزا سنادی۔

سابق ترک حسینا مروے بیوک سارچ نے سوشل میڈیا پر صدر کے خلاف نازیبا پوسٹ شیئر کی تھی، جس پر انہیں سزا سنائی گئی تاہم عدالت نے اس شرط پر ان کی سزا معطل کردی کہ وہ اگلے 5 سال تک کوئی جرم نہیں کریں گی۔

27 سالہ مروے بیوک سارچ کو سزا سنائے جانے کے بعد ان تحفظات کو مزید تقویت ملی ہے کہ ترکی میں آمرانہ طرز حکومت کا رواج قائم کیا جارہا ہے۔

ترک حسینا کے وکیل کا کہنا ہے کہ وہ عدالتی فیصلے کے خلاف یورپی عدالت انصاف کا دروازہ کھٹکھٹائیں گے۔

2006 میں مس ترکی کا اعزاز حاصل کرنے والی مروے بیوک سارچ کو گزشتہ سال بھی سوشل میڈیا پر طنزیہ نظم شیئر کرنے پر مختصر وقت کے لیے حراست میں لیا گیا تھا۔

پراسیکیوٹرز نے اس نظم کو اس وقت کے ترک وزیر اعظم رجب طیب اردگان کی بے عزتی گردانتے ہوئے مروے بیوک سارچ کو حراست میں لیا، تاہم انہوں نے اس الزام سے انکار کردیا تھا۔

رجب طیب اردگان کے 2014 میں اقتدار میں آنے کے بعد، صدر کی تضحیک کے قانون کے تحت تقریباً 2 ہزار افراد کو سزائیں سنائی جاچکی ہیں۔

آزادی اظہار کی وکالت کرنے والوں کا کہنا ہے کہ ناقدین کے منہ بند کرنے کے لیے اس قانون کو جارحانہ طور پر استعمال کیا جارہا ہے اور اس قانون کے تحت سزا پانے والوں میں اسکول کے بچے اور صحافی بھی شامل ہیں۔

یہ خبر یکم جون 2016 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔


آپ موبائل فون صارف ہیں؟ تو باخبر رہنے کیلئے ڈان نیوز کی فری انڈرائیڈ ایپ ڈاؤن لوڈ کریں۔

تبصرے (1) بند ہیں

حمیداللہ خٹک Jun 01, 2016 10:26am
آزادی اظہار ،انسانی حقوق،عدل وانصاف اور جمہوریت کا ڈھنڈورامغرب اور ان کے سیکولر اور لبرل حواریوں کا ایک ڈھونگ ہے۔کسی سربراہ مملکت کو گالی دینے کی پاداش میں علامتی سزا پانے والی حسینہ کے لیے شور اٹھتاہے لیکن ڈرون حملوں میں ہزاروں حواتین اور بچوں کی ہلاکتوں پر خاموشی۔بنگلہ دیش میں اسلام کے نام لیواوں کا دن دیہاڑے عدالتی قتل ہوتا ہے نہ آزادی اظہار کے علمبرداروں کو کانوں کان خبر ہوتی ہے نہ انسانی حقوق کو کوئی مسئلہ پیش آتا ہے۔طالبان افغانستان میں بدھ مت کے مجسموں کو توڑتے ہیں پوری دنیا چیخ اٹھتی ہے ۔تنگ نظری،تعصب اور عدم برداشت کے نعرے لگتے ہیں لیکن کچھ عرصے بعد صرف ایک بندے یعنی اسامہ کو پناہ دینے کی پاداش میں یورپ اور امریکا افغانستان پر یلغار کرتے ہیں کارپٹ بمباری ہوتی ہے ہزروں بلکہ لاکھوں بے گناہ افغان بچے ،بوڑھے اور خواتین کو موت کے گھاٹ اتارا جاتا ہے۔انسانی حقوق کے علم بردار،آزادی اطہار کے وکیل جمہوریت اورانصاف کی مال جپنے والے سب نے چپ سادھ لیا اب تک خاموش ہے ۔یہ دھرا معیار ،منافقت بلکہ بدمعاشی ہے

کارٹون

کارٹون : 1 اپریل 2026
کارٹون : 31 مارچ 2026