• KHI: Partly Cloudy 30.2°C
  • LHR: Rain 36.4°C
  • ISB: Partly Cloudy 27.2°C
  • KHI: Partly Cloudy 30.2°C
  • LHR: Rain 36.4°C
  • ISB: Partly Cloudy 27.2°C

قطری شہزادے کو سپریم کورٹ میں پیش نہ ہونے کا مشورہ

شائع January 6, 2017 اپ ڈیٹ January 6, 2017 11:57am

اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان کا کہنا ہے کہ اگر قطر کے سابق وزیراعظم حماد بن جاسم بن جبر الثانی سپریم پاناما کیس میں وزیراعظم نواز شریف کو بچانے کے لیے بھیجے گئے اپنے خط کی توثیق کے لیے سپریم کورٹ آف پاکستان میں پیش ہوئے تو انھیں جیل بھیج دیا جائے گا۔

بنی گالہ میں اپنی رہائش گاہ پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا، 'اگر قطری شہزادے جیل نہیں جانا چاہتے تو انھیں پاکستان نہیں آنا چاہیے'۔

عمران خان نے وزیراعظم نواز شریف سے مطالبہ کیا کہ اگر وہ منی لانڈرنگ میں ملوث نہیں ہیں اور لندن میں جائیداد خریدنے کے لیے انھوں نے قانونی طریقے سے رقم باہر بھجی تو وہ ان سب کے ثبوت جمع کروائیں۔

مزید پڑھیں:قطری شہزادے کا خط اور وزیراعظم کا موقف مختلف: سپریم کورٹ

ان کا کہنا تھا کہ قطری شہزادے کا خط جھوٹا ثابت ہوگیا ہے کیونکہ وزیراعظم کی صاحبزادی مریم نواز لندن جائیداد کی مالک تھیں۔

عمران خان نے کہا، 'قطری شہزادے کا خط جھوٹا ہے، مجھے نہیں معلوم اب ان کے دفاع کے لیے کون سا شہزادہ آئے گا'۔

پی ٹی آئی چیئرمین نے الزام عائد کیا کہ وزیراعظم نواز شریف منی لانڈرنگ میں ملوث تھے، کیونکہ انھوں نے غیر قانونی طریقوں سے رقم بیرون ملک بھیجی اور اپنے بچوں کے نام پر باہر کمپنیاں بنائیں، ان کا کہنا تھا، 'وزیر خزانہ اسحٰق ڈار کا ایفی ڈیوٹ نواز شریف کی منی لانڈرنگ کا دستاویزی ثبوت ہے'۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت گذشتہ 8 ماہ سے شریف خاندان کی کرپشن کو چھپانے کی کوشش کر رہی ہے اور پوری (وفاقی) کابینہ نواز شریف کی کرپشن چھپانے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:’قطری شہزادے کے خط کی کوئی قانونی حیثیت نہیں‘

عمران خان نے کہا کہ شریف خاندان کا نام واضح طور پر پاناما پیپرز انکشافات میں سامنے آیا ہے اور وہ پاناما لیکس کے بعد سے متضاد بیانات دے رہے ہیں۔

انھوں نے سوال کیا کہ اگر پاناما پیپرز غلط تھے تو شریف خاندان انٹرنیشنل کنسورشیم آف انویسٹی گیٹو جرنلسٹس کے خلاف عدالت کیوں نہیں گیا۔

پی ٹی آئی چیئرمین کے مطابق جمہوری نظام میں اپوزیشن اس بات کی ذمہ دار نہیں ہے کہ وہ غیر قانونی سرگرمیوں کے ثبوت فراہم کرے، بلکہ حکومت کو اپوزیشن کی جانب سے اٹھائے گئے سوالات کا جواب دینا چاہیے۔

عمران خان نے مزید کہا کہ مریم نواز نے دعویٰ کیا کہ بیرون ملک ان کے خاندان کے نام پر کوئی جائیداد نہیں لیکن بدھ 4 جنوری کو سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی دستاویزات کچھ اور ہی بتا رہی تھیں۔

یہ خبر 6 جنوری 2017 کے ڈان اخبار میں شائع ہوئی

تبصرے (1) بند ہیں

Israr MuhammadkhanYousafzai Jan 07, 2017 02:03am
اگر قطرے شہزادے کا خط غیر اھم ھے تو پی ٹی ائی وکیل نعیم بخاری نے خط کو نکالنے کیلئے دلائل کیوں دیئے خط کی اس مقدمے میں بڑی اور کلیدی اہمیت ھے اس لئے پی ٹی ائی والے قطرے شہزادے کے خط کے پیچھے پڑے ھیں کبھی جعلی کہتے ھیں کبھی غلطی کہتے ھیں کبھی شہزادے پر گرفتاری کا دباؤ ڈالتے ھیں کورٹ نے خط کو اہم قرار دیا ھے اور خط کو بطور ثبوت مقدمے سے نکالنے سے انکار کردیا ھے شریف خاندان پر جو الزامات لگائے جاچکے ھیں ان سب کے حوالے سے انہوں نے کاغذات جمع کروا دیئے ھیں اسکے بعد نعیم بخاری کے پاس دلائل کیلئے کچھ نہیں رہا عمران عوام کو ایک بار پھر ٹرک کی بتی کے پیچھے لگارہے ھیں مقدمہ افشور کمپنیوں سے شروع ھوا لیکن اج بات صرف مریم نواز پر ھورہی ھے نوازشریف نے جھوٹ بولا ھے جوکہ غیر متعلقہ باتیں ھیں اسکا مقدمے سے کوئی تعلق ہی نہیں بنتا یاد رہے کہ افشور کمپنیوں میں وزیراعظم کا نام کہیں بھی موجود نہیں

کارٹون

کارٹون : 24 اپریل 2026
کارٹون : 23 اپریل 2026