ہندوستان نے کشمیر آپریشن ختم کردیا
سری نگر: ہندوستانی فوج نے کل بروز منگل کو متنازعہ علاقے کشمیر میں دو ہفتوں سے جاری آپریشن کو ختم کردیا، جس میں سلسلہ وار فائرنگ کے تبادلوں میں کم سے کم آٹھ جنگجو ہلاک ہوئے۔
فوج کے ایک سینیئر کمانڈر لفٹنینٹ جنرل سنجیو چھاچر نے لائن آف کنٹرول پر دورے کے بعد نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے مشترکہ آپریشن کو ختم کرنے کی ہدایت دے دی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے کیران میں آپریشن کے دوران 59 بھاری ہتھیاروں کے ساتھ بڑی تعداد میں گولہ بارود اور خوراک کا سامان قبضے میں لیا گیا۔
جنرل چھاچر نے الزام عائد کیا کہ ہتھیاروں پر موجود نشانات سے یہ اشارہ ملا ہے کہ شدت پسندوں کو پاکستانی فوج کی مدد حاصل تھی جہنوں نے آپریشن میں دراندازی کی۔
سری نگر میں ایک پریس کانفرنس میں انہوں نے مزید کہا کہ پاکستانی مدد کے بغیر یہ ممکن نہیں ہوسکتا۔
یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے ایک اور سینیئر کمانڈر نے ابندونڈ گاؤں کے قریب جنگجوؤں کے علاقے میں 12 شدت پسندوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا تھا، لیکن جنرل چھاچر نے صرف آٹھ ہلاکتوں کی تصدیق کی۔
انہوں نے کہا کہ آپریشن کے مقام سے کوئی اور لاش نہیں برآمد ہوئی۔
ہندوستانی فوج کا کہنا ہے کہ ایک طویل عرصے سے پاکستان کی لائن آف کنٹرول پر دراندازی کا سلسلہ جاری ہے جس میں حالیہ دنوں میں اضافہ ہوا ہے۔
جنرل سنجیو چھاچر نے اس بات کو مسترد کیا کہ شدت پسندوں نے ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر کیرن میں کسی چوکی پر قبضہ کیا تھا۔












لائیو ٹی وی