کراچی میں کی خراب صورتحال پر سینیٹ میں احتجاج

اسلام آباد: سینٹ اراکین نے کراچی میں ٹارگٹ کلنگ اور امن و امان کی خراب صورتحال پر شدید احتجاج کیا ہے۔
عوامی نیشنل پارٹی نے سینٹ اجلاس سے واک آؤٹ کیا۔ سینیٹر شاہی سید کا کہنا تھا کہ یہ احتجاج 'کراچی میں گرتی ہوئی لاشوں' کی وجہ سے کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ طالبان پانچ فیصد تشدد کے واقعات میں ملوث ہیں لیکن باقی پچانوے فیصد دوسرے 'مجرم' ہیں۔
سینیر زاہد خان نے کہا ہے کہ وزیرستان سے زیادہ لاشیں کراچی میں گررہی ہیں۔
حزب اختلاف کی جمعیت علمائے اسلام کے مولانا عطارحمان جنہوں نے سب سے پہلے قومی اسمبلی میں آواز اٹھائی کا کہنا تھا کہ اتھارٹیوں نے مدرسوں سے سیکیورٹی ہٹا کر انہیں غیر محفوظ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس پالیسی کی وجہ سے مدرسے کے گیارے لوگ ہلاک کیے جاچکے ہیں۔
مولانا عطارحمان کی شکایت تھی کہ مدرسے میں ہلاک ہونے والے طالب علموں کی ہلاکت کے مسئلے کو ویسے اجاگر نہیں کیا گیا جیسے ملالئے پر طالبان کے حملے کو اجاگر کیا گیا تھا۔
وسیم اختر، جن کی پارٹی مرکز اور سندھ میں پیپلز پارٹی کی زیر قیادت اتحادی حکومت کی پارٹنر ہے، کا کہنا تھا کہ کراچی اور حیدرآباد میں ٹارگٹ کلنگ ایک ' جامع سازش' ہے۔
صاحبزادہ فضل کریم، حزب اختلاف کی پاکستان مسلم لیگ (ن) میں ایک سنی مذہبی شخصیت، کا کہنا تھا کہ سنی اور شیعہ لوگوں کو لڑانے کی سازش کی جارہی ہے۔
سینٹ میں بلوچستان نیشنل پارٹی عوامی کی کلسم پروین کا کہنا تھا کہ کراچی اور بلوچستان میں کوئی بھی محفوظ نہیں۔ انہوں نے تجویز دی کہ کراچی اور کوئٹہ میں کم سے کم محرم کے دس دنوں کی سیکیورٹی آرمی کو سونپ دی جائے۔
پی پی پی کے سینیٹر اور سابق وزیر قانون بابر اعوان نے اتھارٹیوں کی ' مجرمانہ غفلت' کی بات کرتے ہوئے کہا کہ قانون نافذ کرنے والی ایجنسیاں صرف 'کاغذی کارروائیاں کرتی ہیں۔
پاکستان مسلم لیگ ق کے سینیٹر محسن لغاری نے کہا کہ سندھ حکومت نے رینجرز پر اربوں روپے خرچ کرڈالے ہیں بہتر ہوگا کہ پولیس کو امن و امن کی ذمہ داریاں سونپی جائے۔
وزیر داخلہ دونوں ایوانوں سے غیر حاضر تھے لحاضہ حکومت کی طرف سے بولنے والا وہاں کوئی نہیں تھا۔











لائیو ٹی وی