سارک کا کردار
جنوبی ایشیائی علاقائی تعاون کی تنظیم (سارک) نے اپنی ستائیسویں سالگرہ سات دسمبر بروز ہفتہ کو منائی۔ آٹھ ممالک پر مشتمل اس تنظیم کو امن، استحکام، ہم آہنگی اور اس خطے کی ترقی کے لیے بنایا گیا تھا۔ تنظیم کا مقصد خودمختاری اور برابری کے اصولوں، علاقائی سالمیت، قومی آزادی، طاقت کا استعمال نہ کرنا اور نمام مسائل کا حل ڈھونڈنا تھا۔
دو دہائیوں سے زائد عرصہ گزر جانے کے بعد تنظیم میں شامل ممالک کے تعلقات معاشی اور تجارتی لحاظ سے تو بہتر ہوئے ہیں تاہم یہ کہنا مشکل ہے کہ اس کے چارٹر پر پوری طرح عمل کیا گیا ہے۔
امن ابھی بھی سارک میں شامل آٹھوں ممالک خاص کر پاک افغان خطے کا ایک بڑا مسئلہ ہے۔ ہندوستان پاکستان کے درمیان کشمیر تنازعہ تاحال ڈیڈ لاک کا شکار ہے جس کی وجہ سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات سرد رہتے ہیں اور اس سے پورا خطہ بھی متاثر ہوتا ہے۔
دوسری جانب حال ہی میں میانمار میں ہونے والے فسادات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ اس خطے کی ریاستوں کے سربراہان مسائل کا قابل عمل حل نکالنے میں ناکام رہے ہیں۔
ادھر سری لنکا میں حکومت اور تامل ٹائیگرز کی چھبیس سالہ خانہ جنگی کے اختتام کے باوجود جزیرہ ابھی بھی عدم استحکام کا شکار ہے۔
افغانستان، جو دو ہزار سات میں سارک کا رکن بنا تھا، میں دیائیوں سے تنازعات جاری ہیں اور کسی قسم کے استحکام کے لیے ابھی بہت کچھ کیا جانا باقی ہے۔
اس کے علاوہ لوگوں کے درمیان رابطوں کو فروغ دینے کے لیے ویزوں کی چھوٹ صرف چند ممالک اور ان میں بھی عام آدمی کے بجائے اعلیٰ شخصیات اور حکومتی اہلکاروں تک محدود ہے۔
کیا سارک ممالک کے لیے یہ ممکن ہے کہ وہ اس کے چارٹر پر پوری طرح عمل کرتے ہوئے خطے میں امن اور استحکام کو فروغ دے سکیں؟
تنظیم میں شامل ممالک غربت اور سماجی مسائل کو ختم کرنے کے لیے ایک دوسرے کی کیسے مدد کرسکتے ہیں؟
کیا سماجی، ثقافتی اور کھیلوں سے متعلق تقاریب کے انعقاد سے ان ممالک میں تعاون بڑھے گا؟












لائیو ٹی وی