عوامی نیشنل پارٹی - اے این پی
عوامی نیشنل پارٹی کی جڑیں سن اُنیّسو تیس کی دہائی میں خان عبدالغفار خان المعروف باچا خان کی قائم کردہ تحریک 'خدائی خدمت گار' سے جا ملتی ہیں۔
یہ دائیں بازو نظریات کی حامل، برطانوی راج کی مخالف اور سیکولر تحریک تھی۔ اے این پی نے اپنے سیاسی سفر میں کئی اتار چڑھاؤ اور مشکل ادوار دیکھے ہیں۔
اگرچہ اب بھی جماعت بظاہر سیکولر سوچ پر استوار ہے تاہم حقیقت یہ ہے کہ عملی طور پر اس کے دائیں بازو کے نظریات، وقت کے ساتھ ساتھ بڑی حد تک تبدیل ہوچکے۔
جماعت واضح طور ولی اور بلور خاندانوں کے زیرِ اثر ہے اور وہ اپنے ایجنڈے کے مطابق پختون قوم پرستی پر زیادہ توجہ مرکوز رکھتی ہے۔
سن دو ہزار آٹھ کے انتخابات کے بعد، قومی اسمبلی میں اس کی نشستوں کی تعداد تیرہ رہی۔ (دو ہزار تیرہ کے انتخابات سے قبل) سینیٹ میں اس کی بارہ نشستیں تھیں۔
تاریخ
باچا خان کے فرزند خان عبدالولی خان نے اپنی جماعت نیشنل عوامی پارٹی (نیپ) پر پابندی کے بعد سن اُنیّسو چھیاسی میں عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کی بنیاد رکھی تھی۔
وزیرِ اعظم ذوالفقارعلی بھٹو نے اپنے پارٹی رہنما اور صوبائی وزیر حیات محمد شیرپاؤ کے پشاور میں قتل کے بعد، نیپ پر پابندی عائد کردی تھی۔ اُس وقت قتل کے شبہ میں عبدالولی خان کو گرفتار کر کے ساہیوال جیل بھیج دیا گیا تھا۔
بعد ازاں، سن اُنیّسو چھیاسی میں کالعدم نیپ، عوامی نیشنل پارٹی کے نام سے سیاسی منظر نامے پر ابھری۔ اگرچہ جماعت کے عہدیداروں میں سندھی، بلوچ اور پختون قوم پرست بھی شامل رہے تاہم یہ ایک ایسے گروپ کی شہرت اختیار کرگئی جو صرف پختونوں کی نمائندہ ہے۔
جنرل ضیا کے ساتھ ہی اُن کا دورِ آمریت بھی اپنے انجام کو پہنچا اور بعد کے ادوار میں، سن اُنیّسو اسّی اور سن اُنیّسو نوّے کی دہائی میں، اے این پی بالترتیب پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ کی اتحادی رہی۔
تاہم اے این پی کا سیاسی حکومتوں میں شراکت داری کا سفر اس لیے بھی مختصر رہا کہ نوّے کی دہائی میں یکے بعد دیگرے، بہت مختصر عرصے میں چار سویلین حکومتوں کا بوریا بستر گول کردیا گیا۔
علاوہ ازیں، اسی دوران اے این پی کی قیادت میں تبدیلی آئی۔ جماعت کی سربراہی ولی خان سے سینئر رہنما اور پشتو زبان کے معروف شاعر اجمل خٹک کو منتقل کردی گی۔
اجمل خٹک نوّے کی دہائی میں اے این پی کی قیادت کرتے رہے۔ ولی خان اگرچہ سیاست سے کنارہ کشی کرچکے تھے تاہم اس کے باوجود وہ اندرونی طور پر اپنی اہلیہ بیگم نسیم ولی خان کے ذریعے جماعت کے معاملات پر گرفت رکھتے تھے۔
سن اُنیّسو ننانوے میں جنرل پرویز مشرف اقتدار میں آئے۔ اجمل خٹک کی اُن سے باضابطہ ملاقات ہوئی، جس میں انہوں نے ان کی پالیسیوں کی حمایت کی۔
اس پر اے این پی کے اندر سخت ردِ عمل ہوا اور یوں بڑھتے اختلافات کے باعث اجمل خٹک نے جماعت کی صدارت سے استعفیٰ دے دیا۔
اجمل خٹک کے بعد، ولی خان کے صاحبزادے اسفند یار ولی نے جماعت کی صدارت سنبھال لی۔ اگرچہ اے این پی گذشتہ تمام انتخابات کے دوران بہت اچھی کارکردگی دکھاتی رہی تھی تاہم دو ہزار دو کے انتخابات میں انہیں بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
بعض سیاسی مبصرین کی رائے ہے کہ مذہبی جماعتوں کو فائدہ پہنچانے کے لیے انتخابات میں دھاندلی کی گئی تھی۔
یہی وہ وقت تھا جب سیاست میں بیگم نسیم ولی خان کا کردار محدود کرنا شروع کردیا گیا۔ جس کا سبب اسفند یار اور ان کی سوتیلی والدہ کے درمیان بڑھتی کشیدگی بتایا جاتا ہے۔
علاوہ ازیں، اے این پی نے اجمل خٹک، جن کی جماعت کے اندر خاصی مقبولیت تھی، کو دوبارہ شمولیت پر رضامند کرلیا۔ وہ سیاست سے سبکدوشی تک جماعت کا ہی حصہ رہے۔
سن دو ہزار آٹھ کے عام انتخابات میں اے این پی صوبے کی سب سے بڑی جماعت بن کر ابھری۔ وفاق میں اس نے پیپلز پارٹی کی مخلوط حکومت میں شرکت کی اور صوبے میں خود مخلوط حکومت تشکیل دی۔
سیاسی موقف
عوامی نیشنل پارٹی کے بزرگ واضح طور پر مارکسی خیالات کے حامی تھی تاہم وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ جماعت کے نظریات میں تبدیلی آتی چلی گئی۔
اے این پی صوبائی خود مختاری اور پختون قوم پرستی کی کٹّر حامی ہے۔ اس نے شمال مغربی صوبہ سرحد کا نام تبدیل کر کے خیبر پختونخوا رکھنے کے لیے سخت جدوجہد کی۔
اے این پی خود کو سیکولر اور روشن خیال پارٹی کے طور پر بھی آگے لے کر بڑھتی نظر آتی ہے تاہم سن اُنیّسو ستر میں اس نے دائیں بازو کی مذہبی جماعتوں بشمول جے یو آئی اور، سن اُنیّسو نوّے کی دہائی میں پاکستان مسلم لیگ سے اتحاد بھی کیا۔
اے این پی دفاعی بجٹ میں واضح کمی کر کے، اس رقم کو عوام کی معاشی و سماجی بہتری کے منصوبوں پر خرچ کرنے کی سخت حامی ہے۔
اگرچہ اے این پی 'مارکیٹ اپروچ کے تحت پبلک سیکٹر ڈویپلمنٹ پر توجہ مرکوز' کرنے کی حامی ہے، تاہم ساتھ ہی وہ ملک کے کم آمدنی والے طبقے کے لیے معاشی تحفظ بھی چاہتی ہے۔
علاوہ ازیں، اے این پی ' مزدور اور ملازم پیشہ طبقات کے مفادات کے تحفظ' کی بھی خواہاں ہے۔ جماعت کی کوشش رہی ہے کہ سرکاری ملازمین کی کم از کم اور زیادہ سے زیادہ تنخواہ کے درمیان فرق کو دور کیا جاسکے۔
وہ پاکستان کے سیاسی معاملات میں فوجی مداخلت کی بھی سخت مخالف ہے۔ عوامی نیشنل پارٹی نے اپنے منشور میں اختیارات کی علیحدگی کی مزید وضاحت کرتے ہوئے، عدلیہ کو انتظامات سے الگ کرنے پر زور دیا ہے۔
اے این پی شہریوں کے 'پرائیویسی رائٹس' کے تحفظ کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کمیونیکیشن کو نجی معاملہ قرار دیتی ہے۔
وہ ' فون ٹیپ کرنے، سینسر شپ اور نجی ملکیت میں قانونی اجازت نامے کے بغیر داخلے' کی بھی سخت مخالف ہے۔
اس کا موقف ہے کہ شہریوں کے 'سیاسی حقوق اور آزادیوں' کو فروغ دے کر اسے 'سماجی و اقتصادی ترقی سے ہم آہنگ کیا جائے۔'
جماعت 'صنفی مساوات' کی حامی ہے۔ اس کا موقف ہے کہ 'تمام امتیازی قوانین کا خاتمہ کیا جائے۔' وہ خواتین کے حقوق پر زور دیتے ہوئے انہیں گھر، برادری، معاشرے اور ملکی سطح پر فیصلہ سازی میں شریک کرنے پر زور دیتی ہے۔
وہ پاکستان۔ افغانستان، پاکستان اور ہندوستان کے مابین بہتر تعلقات کی خواہاں ہے۔ پاکستان کے قبائلی علاقوں پر کیے جانے والے امریکی ڈرون حملوں کی سخت مخالف جماعت ہونے کے باوجود وہ پاکستان اور امریکا کے درمیان بھی قریبی تعلقات چاہتی ہے۔
اے این پی پاکستانی طالبان کے ساتھ مذاکرات کی حامی ہے، تاہم وہ سمجھتی ہے کہ وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقوں (فاٹا) میں عسکریت پسندوں کے خلاف فوجی آپریشن بہتر آپشن ہے۔
طالبان کے ساتھ امن معاہدے کی ناکامی کے بعد، اے این پی نے سوات میں فوجی آپریشن کی حمایت کی تھی۔ ابھی حال ہی میں اے این پی نے کُل جماعتی کانفرنس منعقد کی، جس نے عسکریت پسندوں سے مذاکرات پر زور دیا تھا۔
ماہ و سال
عوامی نیشنل پارٹی کا روایتی حلقہ تو خیبر پختونخوا ہے تاہم پچھلی چند دہائیوں کے دوران کراچی کی پختون آبادی میں نہایت تیزی سے اضافہ ہوا، جس کے باعث جماعت ملک کے تجارتی مرکز میں داخل ہوئی۔
اب وہ شہر کی ایک اہم سیاسی قوت بن کر سامنے آچکی ہے۔ جس کی بنا پر کراچی کی سب سے بڑی سیاسی قوت متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) اور خود کو پختونوں کی آواز قرار دینے والی جماعت کے درمیان، میٹروپولیٹن میں ایک نئی طرز کے تنازعہ کا آغاز بھی ہوا۔
مزید برآں، جماعت کو اس کے سیکولردعوے اور مفاہمت کے خلاف موقف رکھنے کے سبب، بالخصوص تحریکِ طالبان پاکستان کے متواتر دہشت گرد حملوں کا سامنا ہے۔
شمال مغرب میں واقع عسکریت زدہ، اے این پی کا روایتی مضبوط علاقائی حلقہ، صوبہ خیبر پختون خواہ بھی ان کے لیے غیر محفوظ ہو چکا جہاں، بالخصوص، فروری دو ہزار آٹھ کے بعد سے ابھی حال تک، جماعت کے کئی اہم مرکزی رہنماؤں کو متعدد جان لیوا حملوں کا سامنا کرنا پڑا۔
اکتوبر، دو ہزار آٹھ میں پارٹی سربراہ اسفند یار ولی خود کش حملے میں بال بال بچے، جبکہ ان کی ہمشیرہ اور معروف سرجن گلالئے پر بھی، اگست دو ہزار دس میں قاتلانہ حملہ ہوا، جس کے نتیجے میں انہیں متعدد مہلک زخم آئے تھے۔
اسی طرح، سن دو ہزار دس میں ہی جماعت کے سینئر رہنما اور صوبائی وزیر میاں افتخار حسین کے اکلوتے بیٹے کو گولیاں مار کر ہلاک کردیا گیا۔
اُسی ہفتے غمزدہ خاندان کے گھر پر بھی تباہ کُن حملہ کیا گیا۔ میاں افتخار حسین کے بیٹے کے قتل اور ان کے گھر پر حملے کی ذمہ داری تحریکِ طالبان پاکستان نے قبول کی تھی۔
علاوہ ازیں، نوشہرہ میں اجمل خٹک کے مقبرے پر بھی عسکریت پسندوں نے حملہ کیا۔ دھماکے کے نتیجے میں مقبرے کے ڈھانچے، گنبد اور دیواروں کو نقصان پہنچا۔
حال ہی میں اے این پی کے سینئر صوبائی وزیر اور اہم رہنما بشیر احمد بلور، پشاور میں تحریکِ طالبان پاکستان کے خود کش حملے میں ہلاک ہوگئے تھے۔
سن دو ہزار بارہ کی آخری سہ ماہی میں اے این پی اُس وقت ایک بار پھر خبروں میں آئی، جب اس کے ایک سینئر رہنما اور وفاقی وزیر غلام احمد بلور نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برخلاف، مسلمانوں کے لیے دل آزار فلم بنانے والے امریکی فلم ساز کے سر کی قیمت لگاتے ہوئے، اسے قتل کرنے والے کے لیے انعام کا اعلان کیا۔
ابھی حال ہی میں، جماعت پر بدستور ہونے والے دہشت گرد حملوں کے باوجود، اے این پی نے ایک اہم قدم اٹھایا اور عسکریت پسندوں سے مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع کا اعلان کیا۔
اس حوالے سے جماعت نے کُل جماعتی کانفرنس منعقد کی، تاہم کانفرنس کی قراردادوں، لائحہ عمل اور اعلامیے کو تحریک طالبان پاکستان نے مسترد کردیا۔
اس کے بجائے طالبان نے اسی ضمن میں جے یو آئی کی کُل جماعتی کانفرنس اور اس کے اعلامیے پر سنجیدگی ظاہر کی۔
اہم شخصیات
اسفند یار ولی خان، میاں افتخار حسین، افراسیاب خٹک، امیر حیدر خان ہوتی، غلام احمد بلور، شاہی سید، زاہد خان، عاقل شاہ۔
تحقیق و تحریر: حماد عباسی
انگریزی سے اُردو ترجمہ: مختار آزاد











لائیو ٹی وی