پاکستان کے بہترین فوجی ڈرامے

حب الوطنی پر مبنی ڈرامے مختلف ادوار میں نشر ہوتے رہے ہیں جنھوں نے مقبولیت کی نئی تاریخ رقم کی۔
اپ ڈیٹ ستمبر 12, 2018 10:28am

پاکستان میں ڈرامہ کی تاریخ لگ بھگ پچاس سال پرانی ہے جس میں بیشتر اوقات سماجی مسائل یا طنز و مزاح پر ہی توجہ مرکوز رکھی گئی مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ حب الوطنی پر مبنی ڈرامے بھی مختلف ادوار میں نشر ہوتے رہے ہیں جنھوں نے مقبولیت کی نئی تاریخ رقم کی۔

ہم نے ایسے ہی ہر دور کے 10 بہترین ڈراموں کی فہرست مرتب کی ہے جو حب الوطنی کا درس دینے کے ساتھ ساتھ سپر ہٹ کا درجہ حاصل کرنے میں بھی کامیاب رہے۔


سپاہی مقبول حسین

سپاہی مقبول حسین پاکستان کی تاریخ کا وہ باب ہے جو چار دہائیوں تک بند رہنے کے بعد کھلا تو اس نے غم و غصے کی لہر پوری قوم میں دوڑا دی۔

40 سال تک ہندوستان کی قید میں رہنے والے پاکستانی سپاہی مقبول حسین کے حالات زندگی پر ڈرامہ سیریل آئی ایس پی آر اور انٹرفلو کمیونیکشن لمیٹڈ کے باہمی اشتراک سے تیار کی گئی تھی جس میں دکھایا گیا تھا کہ کس طرح آزاد کشمیر رجمنٹ میں شامل یہ سپاہی 1965 کی پاک انڈیا جنگ کے دوران لاپتہ ہوگیا تھا۔

حسن نیازی نے نوجوان مقبول حسین کا کردار ادا کیا جبکہ حیدر امام رضوی نے اس کی ہدایات دیں، جس میں دکھایا گیا تھا کہ اس سپاہی سے اس کی شناخت معلوم کرنے کے لیے کتنا تشدد کیا گیا مگر وہ ہمیشہ جواب میں ایک نمبر 335139 ہی لکھتا رہا، تشدد کے دوران اس کی زبان اور ناخن بھی اکھاڑے گئے۔

چالیس سال بعد 2005 میں ہندوستان سے سول قیدیوں کے تبادلے کے دوران مقبول حسین کو بھی واہگہ بارڈر پر پاکستان کے حوالے کیا گیا تو ان کے ماں باپ اور بھائی وغیرہ سب دنیا سے گزر چکے تھے۔ اس ڈرامے کے آخر میں حقیقی سپاہی مقبول حسین کو دکھایا گیا ہے جسے فوج کی جانب سے پھولوں اور احترام سے نوازا جا رہا ہوتا ہے۔


الفا براوو چارلی

اپنے دور کے اس مقبول ترین ڈرامے کے ہدایت کار شعیب منصور تھے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے تعاون سے بنائی گئی اس ڈرامہ سیریل میں تین دوستوں کی کہانی بیان کی گئی ہے جو زندگی کے مختلف نشیب و فراز سے گزرتے ہیں۔ کاشف کی فوج کو خیرباد کہہ دینے کی خواہش اور فراز کی اپنے دوست کو بیدار کرنے کے لیے کی جانے والی شرارتیں آپ کو اُس وقت تک سکرین پر نظریں جمائے رکھنے پر مجبور کردیں گی جب تک کہ سنجیدہ معاملات شروع نہیں ہو جاتے۔

اسی طرح شرارتی کاشف کا سیاچن گلیشیئر پہنچ کر بتدریج سنجیدہ ہونا اور اپنے ملک کے لیے جان کو داﺅ پر لگا دینے کی ادا تو سب پر جادو سا کر دیتی ہے۔ پاک فوج کے لیے دل میں محبت جگانے والی اس سیریل نے اپنے دور میں ہر طرح کے ریکارڈز توڑ دیئے تھے اور اب بھی اسے دیکھ کر وہی مزہ آتا ہے جو پہلی دفعہ دیکھ کر آتا تھا۔


ولکو

پاکستان ٹیلی ویژن پر سیونتھ اسکائی انٹرٹینمنٹ اور آئی ایس پی آر کے اشتراف سے بنے اس ڈرامے کو نشر کیا گیا تھا جس کی ہدایات احسن طالش نے دی تھیں، جبکہ اس کی کاسٹ میں ہمایوں سعید، عدنان صدیقی، احسن طالش، لیلیٰ زبیری، آمنہ شیخ، بینش چوہان اور عمران عباس جیسے بڑے اسٹارز شامل تھے۔

اس ڈرامے کی کہانی میں دکھایا گیا کہ فوج نہ صرف پاکستان کو دشمنوں سے بچانے کا کام کرتی ہے بلکہ وہ کس طرح قدرتی آفات سے متاثر ہونے والے افراد کی امداد کے لیے آگے آتی ہے۔ اس کے اختتام پر ہمایوں سعید کی موت دیکھنے والوں کو افسردہ کردیتی ہے اور دکھاتی ہے کہ فوجی اہلکاروں میں قربانی دینے کا جذبہ کتنا قوی ہوتا ہے۔


دھواں

پی ٹی وی کی تاریخ میں اگر پہلے ایکشن ڈرامے کا اعزاز کسی کو حاصل ہے تو وہ 'دھواں' ہی ہے جو حب الوطنی کا اظہار بھی کرتا ہے۔

عاشر عظیم نے اسے تحریر کیا اور انہوں نے ہی پولیس افسر اور ایک خفیہ ایجنٹ کا مرکزی کردار بھی کیا، جبکہ نبیل، نازلی نصر اور نیئر اعجاز کے کرداروں کو بھی آج تک یاد کیا جاتا ہے۔ سجاد احمد کی ہدایات میں بننے والے اس ڈرامے میں پاکستانی معاشرے میں جرائم پیشہ عناصر کی سرگرمیوں اور پولیس کی کمزوریوں کی بہت خوبصورتی سے عکاسی کی گئی تھی جن سے نمٹنے کا بیڑہ چند نوجوان اٹھاتے ہیں، جن کی دوستی بھی دیکھنے والوں کے ذہن کو متاثر کرتی ہے۔ اس ڈرامے کا المیہ اختتام بھی انتہائی پُر اثر ثابت ہوا اور آج بھی اسے کلاسیک سمجھا جاتا ہے۔


خدا زمین سے گیا نہیں ہے

سی آر ایس کا یہ پراجیکٹ جس کے لیے لاجسٹک سپورٹ آئی ایس پی آر نے فراہم کی، پی ٹی وی اور ہم ٹی وی پر مشترکہ طور پر 2009 میں پیش کیا گیا، اصغر ندیم سید نے اسے تحریر کیا جبکہ کاشف نثار نے ہدایات سنبھالیں۔ سولہ اقساط پر مشتمل اس ڈرامے کی کہانی سوات اور قبائلی علاقوں میں سرگرم ایک شدت پسند رہنما کے گرد گھومتی ہے۔ پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے تعاون سے اس میگا سیریل کی شوٹنگ میں پاکستانی فوج کے ہیلی کاپٹرز اور جوانوں نے شرکت کی۔ پاکستانی فوج کے ایک میجر کو بھی اس ڈرامے میں اہم کردار دیا گیا۔

ڈرامے میں گزشتہ برسوں کے دوران ملک میں دہشت گردی کی متعدد کارروائیوں اور کرداروں کی حقیقی کہانیوں کو ڈرامائی شکل دی گئی، سولہ اقساط میں متعدد مقامات پر ملک میں دہشت گردی کی وارداتوں کے پیچھے کارفرما ایک خفیہ کردار کو بھی اجاگر کیا گیا ہے۔ اس کردار کا نہ تو پورے سیریل میں چہرہ دکھایا گیا ہے اور نہ ہی اسے کوئی نام دیا گیا ہے۔ ’خفیہ ہاتھ‘ سے تعبیر اس کردار کا کام ڈرامے کے ولن شدت پسند رہنما کو ٹیلی فون پر دہشت گردی کی کارروائیوں کی ہدایات دینا اور اس کا معاوضہ پہنچانا بتایا گیا ہے۔ اس ڈرامے کی کاسٹ میں جبران، سارہ چوہدری، ایوب کھوسو، نعمان اعجاز، عائشہ خان اور ارم اختر شامل تھے۔

اس ڈرامے کی ایک خاص بات یہ ہے کہ اسے 2009 کے پی ٹی وی ایوارڈز میں سال کے بہترین ڈرامے کا ایوارڈ ملا جبکہ لکس اسٹائل ایوارڈز 2010 کے لیے اسے 5 کیٹیگریز میں نامزد کیا گیا جن میں بہترین ڈرامہ سیریل 2009، خاور اظہر (پروڈیوسر)، بہترین رائٹر اصغر ندیم سید، بہترین ڈائریکٹر کاشف نثار، بہترین اداکار نعمان اعجاز اور بہترین اداکارہ عائشہ خان شامل تھے، جن میں سے یہ بہترین ڈرامے اور بہترین رائٹر کے ایوارڈز اپنے نام کرنے میں کامیاب رہا۔


جان ہتھیلی پر

یہ ڈرامہ پی ٹی وی اور اردو ون پر نشر کیا گیا، جس کی کہانی اور ہدایات سید حسین عباس اور شمیم بازل نے مشترکہ طور پر دیں، اس ڈرامے میں بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کی دہشت گردی کی جنگ کو مؤثر طریقے سے پیش کیا گیا تھا۔

طویل عرصے سے بلوچ عوام دہشت گردی کا شکار ہیں، اس ڈرامے میں بتایا گیا کہ وہ پاکستان کا حصہ ہیں اور پاکستانی اپنے بھائیوں کو تنہا نہیں چھوڑیں گے۔ اس ڈرامے کی کاسٹ میں اسد ملک، ندیم بیگ، نعمان اعجاز، شمعون عباسی، مدیحہ افتخار اور دیگر شامل تھے۔


آہن

نوے کی دہائی میں پی ٹی وی پر نشر ہونے والا یہ ڈرامہ معروف شاعر وصی شاہ نے تحریر کیا تھا جبکہ انہوں نے اس میں کردار بھی ادا کیا۔

حسام قاضی، اقبال حسین اور دیگر بھی اس ڈرامے کا حصہ تھے۔

یہ ڈرامہ بھی ملک میں دہشت گردی اور اس سے نمٹنے کے لیے فوجی ایکشن پر مبنی تھا جس میں حب الوطنی کا زبردست درس دیا گیا ہے اور آج بھی اسے کلاسیک سمجھا جاتا ہے۔


سنہرے دن

یہ ڈرامہ بھی پی ٹی وی پر نشر ہوا جس میں پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول کے نوجوان کیڈٹس کی زندگیوں کی عکس بندی بہت خوبصورتی سے کی گئی۔

ڈرامے میں سلیم شیخ نے اپنی ماں کی خواہش کے باوجود فوج میں جانے کا فیصلہ کیا جہاں انہیں اور دیگر نئے کیڈٹس کو سینئر افسران کے سخت رویے کا سامنا کرنا پڑا، مگر یہ ان کی سخت اور منظم تربیت کا ہی حصہ ہوتا ہے۔

اس ڈرامے کے بیشتر مناظر کافی پُر مزاح ہیں اور اس میں دکھایا گیا ہے کہ کس طرح ایک رات کے لیے جونیئرز سینئر بن جاتے ہیں تو وہ اپنے افسران سے انتقام لیتے ہیں۔


فصیلِ جاں سے آگے

آئی ایس پی آر اور سی آر ایس پبلک ریلیشنز کے باہمی اشتراک سے تیار کردہ ڈرامہ سیریز 'فصیلِ جاں سے آگے' پاکستانی سپاہیوں کی بہادری اور بے مثال شجاعت کی مختلف کہانیوں پر مشتمل تھا۔ اس ڈرامے میں اُن بہادر پاکستانیوں کو شاندار خراجِ عقیدت پیش کیا گیا جنہوں نے ملک میں جاری دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف شجاعت کی عظیم اور لازوال داستانیں رقم کر کے پاکستان کے آنے والے کل کو محفوظ بنانے میں اپنا بھرپور کردار ادا کیا۔ اس کے علاوہ ڈرامے میں دہشت گردی کے خلاف جنگ سے عام عوام اور فوجی جوانوں کی زندگیوں پر مرتب ہونے اثرات اور جدوجہد کی عکاسی بھی کی گئی۔


نشان حیدر سیریز

پاکستان ٹیلی ویژن کی جانب سے پاک فوج کے قومی ہیروز کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے نشان حیدر کا اعزاز پانے والے فوجی جوانوں کی زندگی پر ڈرامے پیش کیے گئے۔ ان میں 'کیپٹن سرور شہید ، میجر محمد طفیل شہید، عزیز بھٹی شہید اور راشد منہاس شہید ' کے ڈراموں نے کافی شہرت حاصل کی۔