آئیے چینی باشندوں سے جان پہچان بڑھائیں

سی پیک کے مختلف پہلوؤں پر بحث کی جارہی ہے مگر کسی نے اس کے معاشرتی اور ثقافتی پہلوؤں کا جائزہ بھی لیا ہے؟
اپ ڈیٹ مئ 07, 2017 01:03am

آج کل ملک بھر میں پاک چین اقتصادی راہدری اور اس کے معاشی فوائد یا تحفظات پر ہر بحث ہو رہی ہے۔ مجموعی طور پر قومی قیادت اور عوام اس بات پر متفق نظر آتی ہے کہ اقتصادی راہدری منصوبہ ملک میں معاشی ترقی کا پیش خیمہ ہوگا۔

جہاں اس منصوبے کے اقتصادی اور معاشی پہلو ہیں وہیں اس منصوبے کے ثقافتی پہلو بھی ہیں، جنہیں نظر انداز کرنے یا ان کی طرف توجہ نہ دینے سے دو طرفہ اعتماد کو عوامی سطح پر بڑھانے اور ابلاغ کو بہتر بنانے میں مشکلات ہو سکتی ہیں۔

کچھ عرصہ قبل پاک چین اقتصادی راہداری کے موضوع پر ایک سمینار میں پاکستان نیوی کے سابق سربراہ شاہد کریم اللہ کا کہنا تھا کہ پاک چین اقتصادی راہدری کے مختلف پہلوؤں پر بحث کی جارہی ہے مگر کسی نے اس اقتصادی راہداری کے معاشرتی اور ثقافتی پہلوؤں کا جائزہ بھی لیا ہے؟

شاہد کریم اللہ کا کہنا تھا کہ اقتصادی راہداری کے منصوبے شروع ہونے پر 10 لاکھ چینی کراچی میں موجود ہوں گے۔ ان کے مزاج، تفریح اور دیگر عادات کے بارے میں معلومات نہ ہونے کی وجہ سے ثقافتی ٹکراؤ یا تناؤ پیدا ہوسکتا ہے۔

سال 2010 میں چین کا سفر کرنے کا موقع ملا جس نے ذاتی مشاہدے اور تجربے کی بنیاد پر چین سے متعلق معلومات میں کئی گنا اضافہ کیا۔ اس کے علاوہ بزنس رپورٹنگ کے دوران چینی سرمایہ کاروں سے ملاقات کرنے اور ان کے ساتھ کھانا کھانے، بات چیت کرنے کے بھی کافی مواقع ملے۔

ان تمام مشاہدات اور تجربات اور تھوڑی بہت تحقیق کے بعد چینی ثقافت اور روایات پر یہ تحریر لکھ رہا ہوں۔ یہ تحریر چین اور اس کی ثقافت کو کوئی گہرا جائزہ نہیں بلکہ ایک اجمالی نظر تصور کی جائے۔

چین جغرافیائی لحاظ سے چوتھا اور آبادی کے لحاظ سے دنیا کا سب سے بڑا ملک ہے۔ چین کی ثقافت دنیا کی قدیم ترین تہذیب کا حصہ ہے۔ چینی باشندوں کا دعویٰ ہے کہ ان کا تہذیبی ورثہ پانچ ہزار سال قدیم ہے۔ جبکہ ملنے والے آثار قدیمہ اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ چین کم از کم ساڑھے تین ہزار سال سے بھی قدیم تہذیب ہے۔

چین کی امیر ثقافت کا عکس چین میں بنائے جانے والے مخصوص طرز کے برتن، تعمیرات، موسیقی، تائی چی، مارشل آرٹ، کھانے اور رسومات میں نظر آتا ہے۔

عالمی اور علاقائی سطح پر چین کی معیشت، ثقافت، سیاست میں چینی اثر رسوخ کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ چین دنیا کی دوسری معیشت ہے اور یہ توقع بھی کی جا رہی ہے کہ بہت جلد چین امریکا کو چت کر کے سب سے بڑی اقتصادی طاقت بن جائے گا۔ دنیا کی آبادی کے سب سے بڑا ملک چین جہاں دنیا کی بڑی معیشت ہے وہیں یہ ایک بڑی کنزیومر مارکیٹ بھی ہے جو کہ پاکستان کے پڑوس میں واقع ہے۔

تصویر: shutterstock
تصویر: shutterstock


چینیوں جیسا کاروبار ، تو علی الصبح اُٹھنا ہوگا


چند سال قبل برطانوی نشریاتی ادارے کی چین کی افریقی ملکوں میں سرمایہ کاری اور کاروبار سے متعلق ایک رپورٹ پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ جس ایک جملہ میرے ذہن میں جم کر رہ گیا وہ یہ تھا کہ، ’چینیوں سے کاروبار میں مقابلہ کرنا ہے تو صبح جلدی اٹھانا ہوگا۔’

اس کا مشاہدہ میں نے اپنے سفرِ چین اور پاکستان میں ہونے والی متعدد تقریبات میں بھی کیا۔ چینی رات جلدی سوتے ہیں اور صبح جلدی اٹھ کر اپنی سرگرمیاں شروع کر دیتے ہیں۔ چین میں چائنہ موبائل کے چیف ایگزیکٹو سے ملاقات، انٹرویوز اور ٹیکنالوجی سینٹر کے دورے کے بعد شام کے ساڑھے پانچ بج گئے تھے۔

ہماری گائیڈ کا کہنا تھا کہ اگر ہم کسی ہوٹل پر کھانا کھانے نکلے تو ٹریفک کی وجہ سے کسی بھی مقام پر وقت پر پہنچ نہیں پائیں گے۔ اس لیے ہم تقریباً ایک گھنٹہ مرکزی بیجنگ کی سڑکوں پر گھومتے رہے اور تقریباً سات بجے مسلم وہیگر ریسٹورنٹ پہنچے، شاید اس ریسٹورنٹ کا نام آفندی تھا۔

ہمارا استقبال کیا گیا اور مسلم کھانے کے ساتھ روایتی وہیگر رقص بھی پیش کیا گیا۔ کھانے اور رقص کی محفل رات تقریباً 8 بجے ختم ہوئی اور جب ہم اپنی بس میں سوار ہو رہے تھے تب فنکار بھی اپنے اپنے گھروں کو روانہ ہونے لگے تھے۔ ہماری گائیڈ ویکی نے بتایا کہ یہی ہے چین کی نائٹ لائف۔

دوسرے روز چینی جمناسٹک کا شو بھی دیکھا جو کہ شام سات بجے شروع ہوا اور ساڑھے آٹھ بجے ختم ہوا تو اس جمناسٹک کے فنکار بھی ساتھ ہی گھروں کو روانہ ہو گئے۔

اوپر تو چین کے بیان کردہ تجربات تھے مگر پاکستان میں بھی چینی باشندوں نے اپنی روش میں کوئی بڑی تبدیلی پیدا نہیں کی ہے۔ چین کے بینک آئی سی بی سی کے ایک سال مکمل ہونے کی تقریب میں موجودہ اور سابق گورنر اسٹیٹ بینک مدعو تھے۔

تقریب شام 6 بجے شروع ہوئی اور سات بجے ختم ہو گئی۔ مگر منتظمین سے کھانا لگانے میں تاخیر ہو گئی جس پر چینی افراد نے پوری طرح کھانا لگنے کا انتظار کیے بغیر ہی کھانا نکالنا اور کھانا شروع کر دیا۔ ہمارے میزبان نے یہ صورتحال دیکھی تو وضاحت کرنے لگے کہ ہم چینی جلدی کھانا کھا کر سونے کے عادی ہیں اس لیے یہ سب لوگ ایسا کر رہے ہیں۔

تصویر: shutterstock
تصویر: shutterstock


خریداری میں مول تول لازمی


تجارت اور کاروبار چینی باشندوں کے خون میں شامل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چین نے شاہراہ ریشم کی بنیاد کئی ہزار سال قبل ہی رکھ دی تھی۔ مگر چینی جس کے ساتھ کاروبار کر رہے ہوں اس کی ضروریات کی نشاندہی کرنے اور خریدار کی ضرورت کے مطابق اشیاء فروخت کرنے میں مہارت رکھتے ہیں۔

چین میں کہیں سے بھی خریداری کریں چاہے وہ سڑک پر لگے اسٹالز ہوں یا شاپنگ مالز، ہر چیز کی خریداری پر مول تول کیا جاتا ہے۔ چینی اپنی مصنوعات فروخت کرنے کا کافی عمدہ ہنر رکھتے ہیں۔ میں نے خود اس کا مشاہدہ چین میں کیا۔ میرے ساتھیوں نے چین سے الیکٹرانک اور کپڑے کی بڑے پیمانے پر خریداری کی جبکہ میں اچھے کپڑے کا متلاشی تھا اور وہ مل بھی گیا۔

ہماری خاتون ٹور گائیڈ نے پہلے ہی آگاہ کر دیا تھا کہ خریداری میں جس قدر ہو سکے بارگین یا مول تول کریں۔ چینی دکاندار جس چیز کی سونے جیسی قیمت لگائیں آپ اس کی قیمت مٹی کر دیں۔ چینی دکاندار آپ کو جھڑکنے کے بجائے آپ کو اپنی شے بیچنے کی ہر ممکن کوشش کرے گا۔ سو یوان کی چیز ممکنہ طور پر آپ کو 6 سے 10 یوان میں مل سکتی ہے۔

بیجنگ کی ریشم مارکیٹ میں کپڑے کی دکان پر موجود سیلز مین ڈیوڈ مجھے کبھی نہیں بھول سکتا ہے۔ اس کا اصل نام تو نہ جانے کیا تھا مگر اس نے غیر ملکی سیاحوں کے لیے اپنا نام ڈیوڈ رکھا تھا۔ ایسا ماہرسیلز میں نے پاکستان میں کبھی نہیں دیکھا تھا۔

اس کی دکان پر ڈسپلے کپڑا پسند آ گیا، اس کی مختلف ورائٹی اور پرنٹ بھی موجود تھے۔ اس کپڑے کی فی گز قیمت ڈیڑھ سو یوان بتائی گئی۔ تقریباً آدھا گھنٹہ اس کے ساتھ مول تول چلتا رہا۔ کئی مرتبہ ایسا ہوا کہ میں ڈیل چھوڑ کر جانے لگتا مگر ڈیوڈ مجھے دوبارہ پکڑ کر لے آتا، میرے اور ڈیوڈ کے درمیان مول تول ہمارے گروپ کے تمام لوگ مشاہدہ کرر ہے تھے۔ مول تول کے بعد قیمت 50 یوان طے پائی۔

تصویر: shutterstock
تصویر: shutterstock


کاروبار میں باہمی اعتماد کی اہمیت


چین میں کام یا کاروبار میں باہمی اعتماد کو بہت اہمیت دی جاتی ہے۔ پاک چین اقتصادی راہدری کو ہی دیکھ لیں، چینی حکام نے طویل عرصے تک پاکستانی قوم اور سیاستدانوں کے رویے کا جائزہ لیا۔ پاک چین اقتصادی راہدری منصوبے کا اعلان کرنے سے قبل ہی چین نے پاکستان میں دو تعمیراتی منصوبے کئی سال قبل مکمل کردیے تھے۔

اقتصادی راہدری کا پہلا منصوبہ 70 کی دہائی میں شاہراہ قراقرم یا شاہراہ ریشم اور دوسرا منصوبہ گوادر کی بندرگاہ ہے جسے مشرف دور حکومت میں شروع اور مکمل کیا گیا تھا۔

مغرب میں کمپنیوں سے کاروباری لین دین اور معاہدہ ہوتا ہے جبکہ چین میں لین دین اور معاہدے افراد سے کیے جاتے ہیں۔ کوئی بھی بڑا لین دین یا ڈیل چینی ایک نشست میں مکمل نہیں کرتے ہیں۔ وہ متعدد بار کسی فرد سے ملتے ہیں۔ اگر متعدد مرتبہ ملنے کا موقع نہ بھی ملے تو ہر معاہدے پر ہر رخ سے جائزہ لینے کی کوشش کرتے ہیں اور اپنی تسلی کے لیے ہر طرح کے سوالات پوچھتے ہیں۔

چینی باشندوں کے اس رویے کو بعض اوقات مغرروریت تصور کیا جاتا ہے اور اکثر پاکستانی اس رویے سے ناواقف ہوتے ہیں، اسی لیے وہ کاروباری ڈیل کرنے میں مشکلات کا شکار بھی ہو جاتے ہیں۔ اگر کسی چینی کے ساتھ کاروباری ڈیل نہ بن رہی ہو تو اس کا حل ہے کہ اسے ایک مرتبہ کھانے کی دعوت دے دی جائے جس کے بعد چینی کے رویے میں نمایاں تبدیلی آئے گی۔ جس طرح آپ کسی چیز کو خریدنے میں مول تول کرتے ہیں، اسی طرح چینی باشندے بھی پرائس ٹیگ سے کم قیمت پر اشیاء خریدنے کے قائل ہیں۔

تصویر: shutterstock
تصویر: shutterstock


کم بولو کام زیادہ کرو


چینی صحافیوں کو جب کراچی پریس کلب میں مدعو کیا تو پاکستانی صحافیوں نے ہر موضوع پر کھل کر بات چیت کی مگر چینی صحافیوں نے باوجود اس کے کہ انہیں انگریزی زبان آتی تھی۔ محفل میں کھل کر بات نہیں کی۔ جس کی وجہ سے محفل میں یک طرفہ ابلاغ ہوا۔ مگر جب انفرادی سطح پر بات چیت شروع ہوئی تو چینی صحافیوں نے ہر طرح کے سوال کا جواب بھرپور انداز میں دیا۔

چینی ’کم بولو کام زیادہ کرو’ کے مہاورے پر عمل کرتے ہیں۔ چین تاریخی طور ایک جاگیرادار معاشرہ اور پھر ایک کمیونسٹ ملک میں تبدیل ہوا لہٰذا چینی معاشرے میں کھل کر اختلاف رائے کرنے کی عادت نہیں ہے۔

چین میں اپنے باس یا مینیجر کا بہت احترام کیا جاتا ہے اور ان کے فیصلوں سے اختلاف کے بجائے اس پر عمل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، اسی لیے چین میں یہ کہاوت مشہور ہے کہ مغرب کے لیے ہر وقت کاغذی کام میں مصروف رہتے ہیں جبکہ چینی کام کو میدان عمل میں کرنے کا شوق اور نظریہ رکھتے ہیں۔

مگر اب چین کی نوجوان نسل میں تبدیلی آ رہی ہے اور وہ زیادہ آزادانہ طریقے سے بات چیت میں حصہ لینے لگے ہیں۔

تصویر:shutterstock
تصویر:shutterstock


سوچ سمجھ کر زبان کھولیں


چینی قوم اپنی زبان کو بہت اہمیت دیتی ہے اور ان کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ اپنی ہی زبان میں بات چیت کریں مگر چینی باشندوں کی یہ خصوصیت ہے کہ وہ جس ملک میں جاتے ہیں وہاں کی زبان لازمی سیکھتے ہیں۔

کراچی اور پاکستان میں تعینات رہنے والے چینی سفارت کار اکثر اردو زبان میں بھی گفتگو کرتے تھے۔ مشرف کے دورِ حکومت میں کوسٹل ہائی وے بنائی جارہی تھی۔ جس کو تین حصوں میں تقسیم کیا گیا تھا۔ اورماڑہ سے پسنی کے حصے پر حکومت کی دلچسپی تھی کہ کوئی غیر ملکی سرمایہ کاری کرے۔

چین سے ایک وفد کوسٹل ہائی وے پر ممکنہ سرمایہ کاری کے لیے آیا۔ بریفنگ میں سوالات کا سلسلہ طویل ہوا تو پاکستانی اعلیٰ افسران نے اردو میں اپنے ماتحت کو کہا کہ معاملہ جلد نمٹائیں۔ چینی وفد نے ان کے الفاظ سمجھ لیے اور اس کا برا بھی منایا۔

چینی وفد نے اس موقع پر صحافیوں سے اردو زبان میں بات کی، منصوبے کی تعریف تو کی مگر سرمایہ کاری نہیں کی۔

تصویر: shutterstock
تصویر: shutterstock


پہلے تحائف کا تبادلہ، پھر کاروبار


چین میں کاروباری تعلقات کے لیے لفظ Guangxi استعمال ہوتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ جس کے ساتھ کاروبار کیا جاتا ہے اس کے ساتھ قریبی تعلق قائم کیا جائے اور تحائف کا تبادلہ بھی کیا جائے۔

Guangxi کو مغرب یا ہمارے معاشرے میں رشوت تصور کیا جاسکتا ہے مگر چین میں یہ کاروبار کرنے کا طریقہ ہے۔ مگر یہ ضروری نہیں کہ تحائف دینے کے باوجود Guangxi کا تعلق قائم ہو جائے۔ بعض اوقات آپ کو کئی ہفتے یا مہینے بھی لگ سکتے ہیں۔ اس لیے چینی افراد سے کاروبار کی ابتداء کرنا مشکل ہے۔

اسی طرح کا تجربہ ہمیں چائنہ موبائل کے صدر دفتر میں ہوا۔ چائنہ موبائل کے چیئرمین اور چیف ایگزیکٹو Wang Jianzhou نے رسمی اجلاس کے دوران کوئی خاص بات نہیں کی اور نہ ہی بات چیت میں زیادہ گرم جوشی دکھائی۔ اجلاس کے دوران تو کوئی خاص بات نہیں ہوئی مگر بعد ازاں میزبانوں نے ہر موضوع پر کھل کر بات چیت کی۔

گروپ میں شامل میرا دوست رومیل شیراز کینتھ ان دنوں سی این بی سی پاکستان کے ساتھ منسلک تھا، انہیں چائنہ موبائل کے صدر کا انٹرویو کرنا تھا۔ رسمی ملاقات کے فوری بعد رومیل نے اپنے ادارے کی جانب سے ایک آفس گالف اسٹک کا تحفہ دیا۔

اس تحفے کو لیتے ہی ان کے رویے میں نمایاں تبدیلی آ گئی جبکہ لہجہ خوشگوار اور گرم جوش ہو گیا۔ رومیل کو انٹرویو کے دوران کئی تیکنکی مسائل کا سامنا بھی رہا۔ جس کی وجہ سے انٹرویو میں اچھا خاصا وقت لگ گیا مگر چائنہ موبائل کے صدر نے کسی قسم کی بے چینی کا اظہار نہیں کیا۔

اس لیے ضروری ہے کہ اگر کسی چینی کے ساتھ ملاقات کے لیے جائیں تو کوئی بھی تحفہ، چاہے وہ کتنا ہی کم قیمت کیوں نہ ہو، لے کر جائیں۔

تصویر: shutterstock
تصویر: shutterstock


خواتین کے بارے میں رجحانات اور چینی خواتین کے رویئے


اقتصادی راہداری منصوبے میں چینی باشندوں کی بڑی تعداد پاکستان کا رخ کر رہی ہے۔ اور مزید کئی لاکھ چینی آنے والے دنوں میں پاکستان کا رخ کر سکتے ہیں۔ پاکستان آنے والے چینیوں میں پورا خاندان یا انفرادی غیر شادی شدہ مرد و خواتین ہوسکتے ہیں۔ ضروری ہے کہ خواتین کے بارے میں چینی روایات اور رجحانات کا اجمالی جائزہ بھی لیا جائے۔

چین میں مشرقی روایات کا امین ملک ہے۔ وہاں کی خواتین نہایت وفاشعار اور مخلص ہوتی ہیں۔ مگر جدیدیت کے دور میں ماضی کی روایات کسی قدر دم توڑ رہی ہیں۔ پھر بھی چینی باشندوں کی اکثریت ان روایتوں کی پاسدار ہے۔ چینیوں میں اکثر جلد شادی کا رجحان ہے۔ اس لیے اکثر لڑکے اور لڑکیاں 20 سے 25 سال کی عمر میں رشتہ ازدواج میں منسلک ہو جاتے ہیں۔

چینی مرد اس کی عمر جتنی زیادہ ہی کیوں نہ ہو جائے وہ کم از کم 30 سال یا اس سے کم عمر کی خاتون کو شریکِ حیات بناتے ہیں۔ وہ خواتین جن کی بروقت شادی نہیں ہو پاتی ہے یا وہ اپنے کریئر کی وجہ سے بروقت شادی نہ کر سکیں تو انہیں Sheng Nu یا Left over Women کہا جاتا ہے۔ ان سے کوئی عام چینی مرد شادی کے لیے تیار نہیں ہی ہوتا۔

چینی خواتین کے رویئے کو عام مغربی خواتین کے رویئے کی طرح جانچنا ایک مشکل کام ہوگا۔ چینی خواتین حساس طبعیت رکھنے کے ساتھ ساتھ ایک مستقل تعلق کو قائم کرنا چاہتی ہیں۔ کوئی چینی خاتون، جو کہ غیر شادی شدہ ہو، آپ سے دوستی کرے تو یہ سمجھ لیں کہ وہ کسی عارضی تعلق کے لیے نہیں بلکہ شادی کے لیے آپ سے قریب ہوئیں ہے۔

آئی بی اے کے سینٹر فار ایکسی لینس جرنلزم میں دستاویزی فلم کی تربیت کے لیے ہمارے امریکی پروفیسر برینٹ نے بھی ایک چینی خاتون سے شادی کی ہوئی تھی اور دونوں امریکا میں اپنے دونوں بچوں کے ساتھ خوش زندگی گزار رہے ہیں۔

تصویر: shutterstock
تصویر: shutterstock


چینی مرد


چینی زیادہ عمر کی عورت سے شادی تو نہیں کرتے مگر چین میں کئی دہائیوں سے جاری ون چائلڈ پالیسی اور چینی باشندوں کی اولاد نرینہ کی خواہش نے چینی آبادی میں جنسی عدم توازن قائم کر دیا ہے۔

چینی ٹیلی ویژن سی سی ٹی وی نیوز کے مطابق چینی حکومتی ایجنسی کے اعدادوشمار سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ چین میں سال 2020 تک کنوارے مردوں کی تعداد 3 کروڑسے تجاوز کر جائے گی۔ چینی خواتین کی اسی قلت کی وجہ سے دیہی علاقوں میں خصوصاً مردوں کی بڑی تعداد کنواری رہ گئی ہے۔

چین کے صوبہ ہنان میں ایک سو خواتین کے مقابلے 130 مرد ہیں۔ جبکہ بعض علاقوں میں یہ تناسب 170 تک پہنچ جاتا ہے۔

تصویر: shutterstock
تصویر: shutterstock


خاندانی نظام


دیگر ایشیائی معاشروں کی طرح چین میں خاندانی نظام بہت مضبوط ہے۔ چین میں خاندان اور خصوصاً بزرگوں کا انتہائی احترام اور اہمیت ہے جبکہ مغربی ثقافت میں انفرادیت کو اہمیت دی جاتی ہے۔

چین میں تمام تر ترقی اور جدیدیت کے باوجود مشترکہ خاندانی نظام کی جڑ ابھی بھی مضبوط ہے۔ چین میں ایک بچہ پالیسی کی وجہ سے خاندان زیادہ سے زیادہ سات افراد پر مشتمل ہو سکتا ہے۔ جس کو چار، دو اور ایک کہا جاتا ہے۔

یعنی دادی دادا، نانی نانا (چار)، والدین (دو) اور ایک بچہ چونکہ لڑکی اور لڑکے کے والدین کی اولاد ایک ہی ہوتی ہے تو اکثر چینی خاندان میں نانی نانا اور دادی دادا سب اکھٹے ہی رہتے ہیں۔ اس طرح اپنی ملازمت میں مصروف والدین کو بچوں کی دیکھ بھال کی فکر ختم ہو جاتی ہے۔

چین نے 1979 میں ایک بچہ پالیسی اپنائی جس کا مقصد تیزی سے بڑھتی آبادی کو کنٹرول کرنا تھا۔ مگر اس پالیسی کا سختی سے اطلاق شہری علاقوں میں رہنے والے چینی باشندوں پر کیا گیا۔ اس پالیسی کا اطلاق شہروں میں پیدا ہونے والے جڑواں بچوں، دیہات کے رہنے والے افراد، چین کی اقلیتی لسانی اور نسلی گروپس پر نہیں کیا جاتا ہے۔

چین کی ون چائلڈ پالیسی نے کسی قدر آبادی کو کنٹرول کرنے میں معاونت تو کی مگر شہری علاقوں میں انسانی تہذیب کے متعدد رشتے ختم کردیے، جیسا کہ چچا، تایا، ماموں، کزن وغیرہ کو ختم کر دیا ہے۔

مگر یہ ضروری نہیں ہے کہ چین کے شہری علاقوں میں رہنے والوں کی ایک ہی اولاد ہو۔ شہری علاقوں میں طبقہ امراء ایک سے زائد بچے پیدا کرنے کے لیے اضافی ٹیکس ادا کرتے ہیں، یعنی ٹیکس یا جرمانے کی ادائیگی پر ان کے اضافی بچے کو قانونی حیثیت مل جاتی ہے۔

تصویر: shutterstock
تصویر: shutterstock


چینی کھانے


گزشتہ سال کراچی پریس کلب میں چینی صحافیوں کے لیے ظہرانے کا اہتمام کیا گیا تھا۔ کھانے میں پاکستانی باربی کیو، کڑاھی، فرائیڈ رائس اور دیگر لوازمات تھے۔ مگر چینی صحافی خالی پیٹ ہونے کے باوجود زیادہ دلجمعی سے کھانا نہیں کھا سکے۔

بعدازاں جب اس بات کا جائزہ لیا گیا تو پتہ چلا کہ پیش کردہ کھانا چینی مزاج کے مطابق نہیں۔ چینی چھری کانٹنے سے کھانا کھانے میں مہارت نہیں رکھتے جبکہ چینی کھانوں پیش کردہ گوشت بغیر ہڈی کے ہوتا ہے اور وہ بھی اس قدر باریک اور چھوٹا کٹا ہوا کہ ایک لقمے میں کھایا جا سکے۔

چینی یورپی اور امریکی طرز پر گوشت کے بڑے بڑے ٹکڑے (اسٹیکس) کو چھری سے کاٹ کر کھانے کو بد تہذیبی تصور کرتے ہیں۔ چین میں کھانا پکانے اور کھانے کا طریقہ کار مغربی اور برصغیر کے لوگوں سے مختلف ہے۔

دھاتوں کے استعمال نے چینی برتنوں کے ساتھ ساتھ کھانا پکانے کے انداز میں انقلابی تبدیلی پیدا کر دی۔ اور چینی باشندوں نے مٹی کے برتنوں میں دیرتک اور آہستگی سے کھانا پکانے کے بجائے تیز آنچ پر کھانا پکانے کا طریقہ اپنایا جسے اسٹیئر فرائے Stir Fry کا نام دیا جاتا ہے۔ کھانا گھنٹوں کے بجائے 10 سے 15 منٹ میں تیار کر لیا جاتا ہے۔ اس کھانے کو فوری گرما گرم کھایا بھی جاتا ہے۔ ٹھنڈا ہونے پر چینی کھانا بدمزہ اور بد ذائقہ ہو جاتا ہے۔

چینی کھانے اس طرح بنائے جاتے ہیں کہ معدے پر بھاری اور طبعیت پر گراں نہ گزریں۔ چینی کھانوں میں تیل کا استعمال کم سے کم ہوتا ہے جبکہ سوپ کے لیے سبزیوں اور گوشت کے علاوہ کارن فلور بھی استعمال کیا جاتا ہے۔

چینی میٹھا نہیں کھاتے

چینیوں کی عام خوراک میں میٹھا نہیں کھایا جاتا ہے۔ ویسے تو اکثر پاکستانی ریسٹورنٹس یا گھر پر چائنیز کھانے کھائے ہوئے تھے۔ مگر سال 2010 میں پہلی مرتبہ چین کے دارالحکومت بیجنگ کا دورہ کیا تو یہ حقیقت کھل کر سامنے آئی کہ چینی خوراک میں کوئی بھی روایتی میٹھا نہیں۔

اکثر چینی مسلم ریسٹورنٹس میں کھانا کھانے کے بعد کسی قسم کا میٹھا پیش نہیں کیا گیا بلکہ اس کی جگہ تربوز، پھل، یا آئس کریم پیش کی گئی۔

دو دن بعد ایک ریسٹورنٹ کے شیف سے پوچھ ہی لیا، بھائی ہم چین کا روایتی میٹھا کھانا چاہتے ہیں۔ شیف حیرانگی کے عالم میں خاموش کھڑا رہا، پھر ہماری گائیڈ ویکی نے انکشاف کیا کہ چینی میٹھا نہیں کھاتے۔ وہ اپنے کھانوں میں کسی قدر میٹھا اور کھٹا پن تو شامل کرتے ہیں مگر چینی کھانوں میں کوئی مٹھائی روایتی طور پر موجود نہیں ہے۔

تصویر: shutterstock
تصویر: shutterstock


کھانے کے آداب


چینی باشندوں کے کھانا کھانے کا طریقہ بھی دنیا سے کچھ الگ ہی ہے۔ چین میں کھانا کھانے کے لیے چاپ اسٹک استعمال کی جاتی ہیں۔ یہ دو پینسل نما لمبی گول لکڑی کی چھڑیاں ہوتی ہیں۔ چین میں چاولوں کو پلیٹ کے بجائے پیالے میں پیش کیا جاتا ہے۔ پیالے سے چاول کھانے کے لیے چینی یا تو منہ کو پیالے کے قریب لے جاتے ہیں یا پھر پیالے کو اٹھا کر منہ کے قریب لے جاتے ہیں۔

چین میں ایسے چاول کھائے جاتے ہیں جو اپنے اسٹارچ میں پک کر چپکے ہوتے ہیں۔ انہیں باآسانی چاپ اسٹک سے کھایا جا سکتا ہے۔ مگر چاپ اسٹک سے کھانا کھانا ایک فن سے کم نہیں ہے۔

چین میں کھانا گرم برتنوں میں کھانا پیش کیا جاتا ہے۔ بعض کھانے اس طرح پیش کیے جاتے ہیں کہ ان کے نیچے آگ جل رہی ہوتی ہے۔ چین میں کھانے انفرادی سرونگ کے بجائے اجتماعی طور پر ایک ٹیبل پر پیش کیے جاتے ہیں۔ پیش کردہ کھانے کے پیالے میں موجود کوئی مخصوص چیز چن کر نہ کھائیں کیونکہ یہ بد تہذیبی تصور کی جاتی ہے۔ آپ کو سامنے جو کچھ بھی دستیاب ہو اس کو کھا لیں۔

چینی باشندے برتنوں کو چاپ اسٹک یا کسی اور چیز سے بجانے کو سخت ناپسند کرتے ہیں۔ اکثر چینی کھانے کی اشیاء اس سائز میں بنائی جاتی ہیں کہ ایک ہی لقمے میں کھا لی جائیں۔

چاپ اسٹک کو نہ تو ٹیبل پر بیٹھے کسی فرد کی طرف کریں اور نہ ہی اسے اپنے چاول یا نوڈلز کے پیالے میں گاڑیں اس عمل کو نہایت بدتمیزی اور ذاتی بے عزتی تصور کیا جاتا ہے۔ چاپ اسٹک کو پیالے کے اوپر رکھنے کا مطلب ہے کہ آپ کھانا کھا چکے ہیں۔ چاپ اسٹک کو پیالے کے ایک طرف یا چاپ اسٹک اسٹینڈ پر رکھنے کا مطلب ہے کہ ابھی آپ نے کھانے میں وقفہ لیا ہے۔

تصویر: shutterstock
تصویر: shutterstock


چینی مہمان نوازی


مشرقی معاشروں کی طرح چین میں مہمانوں کی تواضع روایتی طریقوں سے کی جاتی ہے۔ چینی مہمانداری سے خوش ہوتے ہیں۔ ان کے مہمان بننے کے لیے ضروری ہے کہ کوئی بھی چھوٹا ہی سہی کھانے پینے کا تحفہ ساتھ لے جائیں۔

چینی گھر کے اندر باہر پہنے جانے والے جوتے یا چپل نہیں پہنتے، گھر میں داخل ہوتے وقت بیرونی دروازے پر جوتے اتار دیں اور اکثر گھروں میں گھر کے اندر پہنے جانے والے سلیپر دیے جاتے ہیں۔

تصویر: shutterstock
تصویر: shutterstock


چین میں خوش بختی کا تصور اور علم الاعداد


چین میں سرکاری سطح پر مذہب کی نفی کی جاتی ہے اور سرکاری طور پر چینی کسی بھی مذہب کے پیروکار نہیں ہیں۔ مگر چینی حکومت اور عوام چند قدیم روایات پر پھر بھی یقین رکھتے ہیں۔ اس میں ان کی قدیم تہمات بھی ہیں۔ جو کہ صدیوں سے چینی معاشرے کا حصہ ہیں اور کسی حد تک چینی سرکار میں بھی اسے اہمیت دی جاتی ہے۔

چینی علم الاعداد پر یقین رکھتے ہیں۔ چین میں 8 کے ہندسے کو بہت اہمیت حاصل ہے۔ ہندسہ 8 کو چین میں خوش بختی اور خوش قسمتی کی علامت تصور کیا جاتا ہے۔

چینی گھروں کے نمبر، موبائل فون نمبر، کار نمبر پلیٹ، رجسٹریشن نمبر، کلاس کے رول نمبر میں کم از کم ایک ہندسہ یا جس قدر ممکن ہو ہندسہ 8 کے ہونے کو خوش قسمتی سے تعبیرکیا جاتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ چین میں پہلا اولمپک کا آغاز سال 2008 کے آٹھویں مہینے کی 8 تاریخ کو رات 8 بج کر 8منٹ پر ہوا۔


راجہ کامران گزشتہ 15 سال سے صحافت کے پیشے سے وابستہ ہیں اور اس وقت نیو ٹی وی میں بطور سینئر رپورٹر کام کر رہے ہیں۔


ڈان میڈیا گروپ کا لکھاری اور نیچے دئے گئے کمنٹس سے متّفق ہونا ضروری نہیں۔

Email


Your Name:


Recipient Email: