—فوٹو: بشکریہ لکھاری

’برفانی چیتوں کا تحفظ‘ مگر کیسے؟

چین، کرغزستان، پاکستان، بھارت، بھوٹان اور منگولیا سمیت وسطی و جنوبی ایشیائی ممالک برفانی چیتوں کے تحفظ کے لیے کوشاں۔
اپ ڈیٹ ستمبر 19, 2017 01:02pm
  • انفرادی کوششیں
  • کنک کو محکمہ جنگلیات کے اہلکاروں نے اس وقت بچایا تھا، جب اسے سرکس میں پرفارمنس کے لیے لے جایا جا رہا تھا، وہ اس وقت بہت چھوٹا تھا، اس کے لیے اسے کرغزستان کی جھیل اسیک کول کے قریب برفانی چیتوں کے بحالی مرکز لے جایا گیا تھا، لیکن اب وہ ایک بڑا چیتا بن چکا ہے۔

    ایلکو ایک اور برفانی مادہ چیتا ہے، جو اسی سینٹر میں رہ رہی ہیں،جب وہ چھوٹی تھیں تو انہیں شکاریوں کی جانب سے پھنسائے جانے کی کوششوں کے دوران وہ زخمی ہوگئیں تھیں، لیکن اسے بھی محکمہ جنگلیات کے رضاکاروں نے بچایا۔

    ایلکو کو بچانے والا رضاکاروں کا گروپ جانوروں کے تحفظ سے متعلق جرمن تنظیم ’دی نیچر اینڈ بیوڈورسٹی کنزرویشن یونین‘ (نابو) کے ساتھ کام کر رہا تھا۔

    آخری تین بڑی بلیاں بھی اس مقام میں رہ رہی ہیں، جو 2002 میں نابو نے کرغزستان کی حکومت کی شراکت سے برفانی چیتوں کے لیے بنایا گیا تھا، اس جگہ کو برفانی چیتوں کی سب سے بڑی محفوظ جگہ کا درجہ حاصل ہے۔

    اس مرکز میں بلیوں کو بہت بڑے جنگل کے پہاڑوں پر آنے وار جانے کی بھی اجازت ہے۔

    برفانی چیتوں کو شکاریوں سے بچانے اور انہیں بحالی مرکز میں لانے والے یونٹ کے ساتھ کام کرنے والے میکس نے بتایا کہ وہ 2009 سے یہ کام کر رہے ہیں، اور اب وہ ان جانوروں کو اپنے قریب محسوس کرتے ہیں۔

    یہ مرکز زخمی پرندوں کی دیکھ بھال اور ان کی مدد کرنے کی سہولت بھی فراہم کرتا ہے، بحالی سینٹر میں پرندوں کو اس وقت تک رکھا جاتا ہے، جب تک وہ دوبارہ اڑان بھرنے کے قابل نہ ہوجائیں۔

    ان پرندوں کے برعکس برفانی چیتوں کو شکار کے لیے اڑان نہیں بلکہ واپس جنگل میں جانے کی ضرورت ہوتی ہے۔

    برفانی چیتے نیچر کے بہت ہی قریب ہوتے ہیں، اس لیے ان کا جنگل میں زیادہ دیر تک گزارا کرنا مشکل بن جاتا ہے، انہیں بہت بڑی اراضی کی ضرورت پڑتی ہے، اس سینٹر میں صرف چند برفانی چیتے موجود ہیں۔

    یہ بھی پڑھیں: برفانی چیتے کا تحفظ لڑکیاں کرنے لگیں

    جب کہ جنوبی و وسطی ایشیا کے اس 18 لاکھ اسکوائر کلو میٹر رقبے پر پھیلے علاقے میں تقریباََ 3 ہزار 900 سے 6 ہزار 300 برفانی چیتے موجود ہیں۔

    اس اراضی میں موجود برفانی چیتوں کی یہ تعداد 12 ممالک سے حاصل کی گئی معلومات پر مبنی ہے۔

    —فوٹو: بشکریہ لکھاری
    —فوٹو: بشکریہ لکھاری

    سنو لیوپرڈ ٹرسٹ کے سائنس اینڈ کنزویشن ڈائریکٹر چرودت مشرا کا کہنا ہے کہ انہیں اس خطے میں موجود برفانی چیتوں کی درست تعداد اور ان کی حالت سے متعلق بہت زیادہ معلومات نہیں، وہ محدود سائنسی تکنیکی آلات جیسے کیمروں اور چہروں کو شناخت کرنے والے آلات کی مدد سے اندازوں پر مبنی معلومات پر انحصار کر رہے ہیں۔

    ساتھ ہی اس علاقے میں موجود بڑی بلیوں کی محدود تعداد، ان کی صحت اور حفاظت کے لیے بھی مسئلہ ہے، یہ بلیاں اس پہاڑی دریائی نظام کے ارد گرد زندگی گزار رہی ہیں، جو دریائی نظام ایشیا کے 20 اہم ممالک کے ایک ارب 40 کروڑ افراد کو پانی فراہم کرتا ہے۔

    گزشتہ ماہ کرغزستان کے شہر بشکک میں ہونے والی عالمی کانفرنس’گلوبل سنو لیوپرڈ اینڈ ایکوسسٹم پروٹیکشن پروگرام (جی ایس ایل ای پی) میں حکومتی نمائندوں، سائنسدانوں، جانوروں کے تحفظ سے متعلق کام کرنے والے رضاکاروں نے برفانی چیتوں کو درپیش عالمی ماحولیاتی چینلجز پر بات کی، اور ان کے تحفظات کے لیے کوششیں تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

    کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کرغزستان کے صدر الماس بیگ آتامبایف نے کہا کہ برفانی چیتے کرغیز کے پہاڑوں کی خوبصورت علامت ہیں‘ اور عالمی برادری کو ان کے تحفظ پر ہونے والی تشویش کو مدنظر رکھتے ہوئے کرغیز حکومت نے ان کے تحفظ کے لیے اقدامات اٹھائے ہیں۔

    —فوٹو: بشکریہ لکھاری
    —فوٹو: بشکریہ لکھاری

    اس موقع پر الماس بیگ آتامبایف نے اعلان کیا کہ 12 اپریل کو12 ممالک کے اندر برفانی چیتوں کا عالمی دن منایا جائے گا، جو پہلے ہی 23 اکتوبر کو منایا جاتا ہے۔

    اس وقت کرغزستان میں برفانی چیتوں کو موسمیاتی تبدیلیوں سمیت دیگر کئی اہم مسائل درپیش ہیں، جن میں مویشی پالنے والے افراد کی جانب سے انہیں قتل کرنے جیسے مسائل بھی شامل ہیں، مویشیوں کے مالکان انہیں اپنے پالتو جانوروں سے لڑنے پر مار دیتے ہیں۔

    برفانی چیتوں کو شکاریوں کے ساتھ ساتھ ہائڈرو پاور اور روڈوں کی تعمیر سمیت دیگر تعمیراتی منصوبوں سے بھی خطرات لاحق ہیں، ان کاموں کی وجہ سے ان کے اعضاء خراب ہوجاتے ہیں۔

    —فوٹو: دی تھرڈ پول
    —فوٹو: دی تھرڈ پول

    عالمی سطح پر وائلڈ لائف کے حوالے سے جانوروں کو درپیش مسائل کی نگرانی کرنے والی ایک این جی او کی رپورٹ کے مطابق 2010 سے برفانی چیتوں کے شکار میں اضافہ ہوا، اور اندازاََ سالانہ 450 برفانی چیتے ہلاک کیے جا رہے ہیں۔

    گلوبل ٹائیگر انیشیٹو کونسل (جی ٹی آئی سی) کے چیف ایگزیکٹو (سی ای او) کشیو ورما کا کہنا ہے کہ ان کی تنظیم گذشتہ پانچ سال سے 42 کروڑ ڈالر خرچ کر چکی ہے، جب کہ مزید ڈیڑھ کروڑ ڈالر خرچ کیے جائیں گے۔

    خیال رہے کہ جی ایس ایل ای پی کانفرنس میں دنیا کے 20 ممالک شامل تھے، جن میں چین، بھارت، پاکستان، بھوٹان، نیپال، منگولیا، افغانستان اور کرغزستان سمیت دیگر ممالک شامل ہیں۔

    —فوٹو: دی تھرڈ پول
    —فوٹو: دی تھرڈ پول

    کانفرنس کے اختتام پر مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا، جس میں جنگلی بلیوں اور دیگر جانوروں کے تحفظ کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ مزید تعاون اور کوششیں کرنے پر اتفاق کیا گیا۔

    کانفرنس میں 2013 میں بشکک میں کیے گئے معاہدے پر عمل درآمد پراتفاق کیا گیا، اس معاہدے میں تجویز دی گئی تھی کہ 2020 تک برفانی چیتوں کے 20 لینڈ اسکیپ کو سیاسی کوششوں اور سائنسی بنیادوں پرمحفوظ بنایا جائے گا۔

    مزید پڑھیں: پاکستان برفانی چیتےکی واپسی کا خواہش مند

    کانفرنس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ برفانی چیتوں کے لیے لینڈ اسکیپ کو محفوظ بنانے کے لیے مینیجمنٹ سطح کے پلان کو 2018 تک حتمی شکل دی جائے۔

    انفرادی کوششیں

    اگرچہ کرغزستان برفانی چیتوں کے حوالے سے چین کے بعد دوسرا بڑا ملک ہے، اور وہ برفانی چیتوں کے تحفظ کے لیے ضروری کوششیں بھی کر رہا ہے، لیکن نیپال وہ پہلا ملک ہے، جس نے برفانی چیتوں کے تحفظ کے لیے پہلا اسمارٹ برفانی لینڈ اسکیپ متعارف کرایا ہے۔

    انڈیا اور کرغزستان کی سنو لیوپرڈ ٹرسٹ کے سینیئر سائنسدان ییش ویر بھٹناگر کے مطابق نیپال کے اسمارٹ برفانی لینڈ اسکیپ میں بہترین سائنسی تکنیک کا استعمال کیا گیا۔

    نیپال کے اسمارٹ لینڈ اسکیپ میں ایم کوریڈورز اور ٹرانس باؤنڈریز کی نقل و حرکت کا تجزیہ کرنے کے لیے ڈیٹا سسٹم موجود ہے، جو موسمی تبدیلی، درختوں کی صورتحال اور پانی کے بہاؤ سمیت دیگر چیزوں سے متعلق معلومات بھی فراہم کرتا ہے۔

    پاکستان جنگلی جانوروں کی زندگی کو محفوظ بنانے اور شکار کو کم کرنے کی کوششیں کر رہا ہے، بلتستان وائلڈ لائف کنزرویشن اینڈ ڈویلپمینٹ آرگنائیزیشن (بی ڈبلیو سی ڈی او) نے برفانی چیتوں کو شکار سے بچانے کے لیے بہت بڑے علاقے میں 50 حفاظتی دائرے بنائے ہیں، جنہیں ہر طرف سے تاروں، لوہے کی سیخوں یا لکڑیوں سے بند کیا گیا ہے۔

    —فوٹو: دی تھرڈ پول
    —فوٹو: دی تھرڈ پول

    یہ حفاظتی دائرے برفانی چیتوں کو رات کے وقت تحفظ فراہم کرتے ہیں، اس کام کے لیے اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یو این ڈی پی کی جانب سے بی ڈبلیو سی ڈی او کو ایوارڈ بھی دیا گیا۔

    امریکی شہر ہارٹ فورڈ میں موجود ٹرنٹی کالج کے اینتھروپالاجی کے اسسٹنٹ پروفیسر شفقت حسین کے مطابق گزشتہ 15 برس میں پہلی بار کسی عالمی ادارے کی جانب سے پاکستان کو اس طرح کا ایوارڈ ملا۔

    بی ڈبلیو سی ڈی او نے 1999 میں کمیونٹی بیسڈ جنگلی جانوروں کے تحفظ کے حوالے سے ایک گاؤں میں پروگرام شروع کیا تھا، آج بلتستان بھر میں ایسے 17 پروگرام جاری ہیں۔

    بھوٹان کو اپنے جنگلی جانوروں اور جنگلات کے تحفظ کے حوالے سے پہلے ہی پریشانی لاحق ہے، اس نے تحفظاتی منصوبہ شروع کرنے کے لیے ملک گیر فنڈ جمع کرنے کے لیے بھوٹان ٹرسٹ فنڈ کا قیام کردیا ہے۔

    بھارت میں جنگلی جانوروں کے تحفظ کے لیے کمیونٹی بیسڈ پروگرامات کا آغاز کردیا گیا ہے، ہیمی سپیٹی میں مقامی افراد کیمروں کی مدد سے بہت بڑے علاقے میں جانوروں پر نظر رکھ رہے ہیں۔

    چین میں اگرچہ 60 فیصد برفانی چیتے پائے جاتے ہیں، اور بیجنگ نے ان کے تحفظ کے حوالے سے کئی خاطر خواہ اقدامات بھی اٹھائے ہیں، تاہم وہ اپنے ہاں بہت بڑے علاقے پر پھیلے برفانی چیتوں کی وجہ سے اب تک مربوط و جامع منصوبہ تشکیل نہیں دے پایا۔

    سنو لیوپرڈ ٹرسٹ کے سائنس اینڈ کنزویشن ڈائریکٹر چرودت مشرا تسلیم کرتے ہیں چین کے پاس بہت بڑا علاقہ ہے، اس لیے اسے اس علاقے کا سروے کرنے اور وہاں کے مسائل سمجھنے میں مشکلات درپیش ہیں۔

    یہ بھی پڑھیں: چترال کے دیہاتی برفانی چیتوں، بلیوں سے خوف زدہ

    چین کے ایک عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر’دی تھرڈ پول‘ کو بتایا کہ چین کے پاس جہاں برفانی چیتوں کے لیے سب سے بڑا لینڈ اسکیپ موجود ہے، وہیں اس حوالے سے بہت بڑی کمی بھی ہے، چینی حکومت صرف نیشنل سروے اور مانیٹرنگ پر انحصار نہیں کر رہی، بلکہ حکومت نے برفانی چیتوں کے تحفظ کے لیے کئی تجرباتی پروگرام بھی منعقد کیے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ جی ایس ایل ای پی کے پاس اس حوالے سے محدود فنڈز ہیں، اور ساتھ ہی چین کے پاس بھی اتنے زیادہ فنڈ نہیں، تاہم اب چینی حکومت نے اس منصوبے کے لیے زیادہ سے زیادہ فنڈ جمع کرنے پر کام شروع کردیا ہے، اور آئندہ پانچ برس میں حالات مختلف ہوں گے۔

    روس اور چین کی ورلڈ کنزرویٹو سوسائٹی کے پروجیکٹ اسسٹنٹ ژیانگ زنگ بیان کے مطابق برفانی چیتوں کا غیر قانونی کاروبار زیادہ تر ’سنکیانگ‘ کے شہر ’ارومقی‘ صوبے ’ننگشیا‘ کے شہر ’لنشیا‘صوبے ’گینسو‘ کے شہر ’گولمڈ‘ اور ’شیننگ‘ میں ہوتا ہے، اور کئی مقامات پر برفانی چیتوں کے لیے کتے بھی بہت بڑا خطرہ ہیں۔

    ویسے زیادہ تر آوارہ کتے اور برفانی چیتے ایک دوسرے کے ساتھ ہی ہوتے ہیں، زیادہ تر ان کے کھانے اور رہنے کی عادت بھی ایک جیسی ہوتی ہے، تاہم کبھی کبھار ان میں بہت بری جنگ بھی ہوتی ہے۔

    ژیانگ زنگ نے ایک اور مسئلے کی جانب توجہ دلاتے ہوئے بتایا کہ چین میں مذہب کا عمل دخل بھی برفانی چیتوں کے تحفظ میں اہم کردارادا کر رہا ہے، ان کے مطابق تبت میں بدھ مت اوراسلام کے پیروکار جانوروں کے تحفظ کی تعلیمات دیتے ہیں۔


    یہ مضمون ابتدائی طور پر ’دی تھرڈ پول‘ میں شائع ہوا اور مذکوہ ویب سائٹ پر اسے اجازت سے شائع کیا گیا۔

    Email


    Your Name:


    Recipient Email: