پارا چنار: پاک سرزمین شاد باد

ایک بزرگ خاتون ایسی ملی کہ جو روز اپنے بیٹے کی کال کے انتظار میں یہ مشکل چڑھائی چڑھ جاتی ہے مگر اس کا بیٹا فون نہیں کرتا
اپ ڈیٹ اگست 28, 2019 04:27pm

ایک پرانی کہاوت ہے کہ دھرتی ایک کھلی کتاب ہے اور جو لوگ سفر نہیں کرتے وہ اس کتاب کا ایک ہی صفحہ پڑھتے ہیں۔

سفر کرنے کی چاہ نے مجھے ہمیشہ سے بے چین رکھا ہے۔ جمود میرے اندر بے چینی بھرنے لگتا ہے۔ ایک جگہ ٹک کر زیادہ دیر نہیں رہا جاسکتا۔ گزشتہ 12 سالوں کے دوران میں نے گلگت بلتستان سے لے کر بلوچستان تک ملک کے طول و عرض میں سفر کیے اور اپنے فن کو بروئے کار لاتے ہوئے اس ملک کا خوبصورت چہرہ دنیا کو دکھاتا رہا۔

پاکستان کا شمار دنیا کے قدرتی حسین ممالک میں ہونا چاہیے تھا مگر امن و امان کی ناقص صورتحال نے اپنوں کے ساتھ غیر ملکیوں کو بھی پاکستان میں سفر کرنے سے متعلق تذبذب کا شکار رکھا۔

اک عرصے سے میری خواہش رہی کہ سابقہ فاٹا اور موجودہ خیبر پختونخوا کی ان وادیوں میں سفر کروں جو انتہا پسندی سے متاثر ہوئے اور وہاں کے لوگوں کے دکھ سنوں۔ سابقہ فاٹا کی 7 ایجنسیاں تھیں جو اب خیبر پختونخوا میں ضم ہوکر ڈسٹرکٹ بن چکی ہیں۔ ان اضلاع نے مذہبی انتہاپسندی کو بھگتا ہے۔ سوات سے لے کر سابقہ فاٹا تک خونریزی رہی اور اب جب افواجِ پاکستان کی لازوال قربانیوں اور کاوشوں سے امن بحال ہوچکا تو جون کی ایک تپتی دوپہر کو میں نے لاہور کو چھوڑا۔ میری منزل ضلع کرم کا صدر مقام پارا چنار تھی۔

گرم دُھول اڑاتے دن میں موٹروے پر سفر ہوتا رہا۔ میرے خیالوں میں ان دنوں کے پارا چنار کی تصویریں آتی رہیں جب کوہِ سفید کے دامن بسی یہ وسیع وادی امن و خوشحالی کا گہوارا ہوا کرتی تھی۔ جہاں چاند نکلتا تو رباب کی آواز وادی میں گونجا کرتی۔ یہاں بسنے والے پڑھے لکھے باشعور لوگ تھے مگر پھر فرقہ واریت کی ایسی آگ پھیلی کہ وادی میں چاند نکلنا بند ہوگیا۔

میرے خیالوں میں ان دنوں کے پارا چنار کی تصویریں آتی رہیں جب یہ وادی امن و خوشحالی کا گہوارا ہوا کرتی تھی
میرے خیالوں میں ان دنوں کے پارا چنار کی تصویریں آتی رہیں جب یہ وادی امن و خوشحالی کا گہوارا ہوا کرتی تھی

خونریزی ایک دو دہائیوں تک ہوتی رہی۔ رباب بجانے والوں کے ہاتھ بندوقیں آگئیں۔ پھر فرقہ ورانہ قتل و غارت کا وہ سلسلہ شروع ہوا جس نے بالخصوص پارا چنار اور بالمعوم ضلع کرم کو اپنے حصار میں لیا۔ 2015ء میں پاک فوج کی کوششوں سے امن قائم ہوا اور اب پارا چنار میں معمولاتِ زندگی بحال ہوئے 3 سے 4 سال ہوچکے ہیں۔ چاند وادی پر دمکتا ہے تو چنار کے پتوں کی سرسراہٹ رباب کی کمی پوری کر دیتی ہے۔

سفر کے خواب بنتے پشاور آیا۔ میں نے کچھ ضرورت کی اشیا جمع کیں اور کوہاٹ جانے والی سڑک کو ہو لیا۔ میرا ارادہ برآستہ درہ آدم خیل کوہاٹ اور وہاں سے ٹل سے ہوتے ہوئے اپنی منزل کو پہنچنے کا تھا۔ آدم خیل کے آتے آتے شام پھیل رہی تھی۔ ڈھلتے سورج کی سنہری کرنیں درہ آدم خیل کے چوک میں ایستادہ عجب خان آفریدی کے مجسمے کو چمکا رہی تھیں۔

عجب خان آفریدی 1885ء میں درہ آدم خیل میں پیدا ہوئے۔ پشتون قبائل انگریز سرکار کے کاروانوں پر حملہ آور ہوتے اور ساز و سامان لوٹ کر لے جاتے۔ اس کی ایک وجہ پشتون قبائل کی برطانوی سامراج سے نفرت تھی۔ سرکار برطانیہ ان قبائل کو باغی سمجھتی تھی اور ان کی سرکوبی کے لیے چھاپہ مار دستے تیار کرتی، مگر یہ قبائل جنگجو جوانوں پر مشتمل ہوتے جس کی وجہ سے برطانوی سپاہیوں کو بھاری جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑتا۔

کوہاٹ گریژن کبھی بھی پشتونوں کو زیر نہیں کرسکی تھی۔ دن بہ دن بڑھتی شورش کی وجہ سے انگریز فوج نے اردگرد کے دیہاتوں کی ناکہ بندی کی اور گھر گھر تلاشی کا کام شروع کیا۔ پشتون روایات کو نظرانداز کرتے ہوئے گورا سرکار قبائیلیوں کے گھروں میں داخل ہوئی اور خواتین کو گھر سے باہر نکال کر تلاشی کا کام شروع کیا۔ پشتون روایات میں خواتین کی چادر اور چاردیواری کی بہت اہمیت ہے۔ عجب خان آفریدی ان دنوں اپنے علاقے سے دُور تھے۔ جب واپسی پر انہیں اس واقع کی خبر ملی تو انہوں نے اپنی والدہ سے عہد کیا کہ وہ اس بے عزتی کا بدلہ انگریز فوج سے ضرور لیں گے۔

عجب خان نے لشکر تیار کیا اور کوہاٹ گریژن پر حملہ آور ہوکر میجر ایلس جو تلاشی کے دوران اپنی پلٹون کو کمانڈ کر رہا تھا اسی کی بیوی کو قتل کر دیا اور بیٹی مولی ایلس کو اغوا کرکے قبائلی علاقے میں منتقل کردیا۔ عجب خان نے مس مولی کو اپنی والدہ و بہن کے سپرد کیا تاکہ وہ اس کی اچھی دیکھ بھال کرسکیں۔

اس واقع اور اغوا کی سنسنی خیز خبریں برطانیہ کے اخبارات میں شائع ہوئیں۔ کوہاٹ کے ڈپٹی کمشنر نے پولیٹکیل ایجنٹ کے ذریعے عجب خان آفریدی سے مس مولی کی واپسی کے لیے مذاکرات شروع کیے اور بالآخر 1923ء کی صبح مس مولی کو اس شرط پر واپس کردیا گیا کہ آئندہ سے انگریز فوج قبائلیوں کے گھروں پر حملہ آور نہیں ہوگی اور ان کی خواتین سے بدسلوکی نہیں کرے گی۔

مس مولی کی واپسی کے بعد انگریز ڈاکٹر نے ان کا طبّی معائنہ کیا۔ مس مولی نے ڈپٹی کمشنر کو بیان ریکارڈ کروایا کہ اس کے ساتھ کسی قسم کی بدسلوکی نہیں کی گئی بلکہ وہ عجب خان آفریدی کی مہمان نوازی اور اخلاق سے بہت متاثر ہوئی ہے۔ بعد ازاں مس مولی کو اس کی مرضی کے خلاف برطانیہ بھیج دیا گیا۔ وقت گزرا مگر مس مولی عجب خان کو نہ بھول پائی۔ 1984ء میں اس واقع کے 61 سال بعد مس مولی نے سرکاری پروٹوکول میں کوہاٹ کا دورہ کیا۔ دورے کے دوران انہوں نے عجب خان آفریدی کی رہائش گاہ کا وزٹ کیا اور عجب خان کو یاد کرکے رو پڑیں۔

درہ آدم خیل کے مرکزی چوک میں نصب عجب خان آفریدی کا مجسمہ اب سائے میں آچکا تھا۔ سورج کروٹ لے کر پہاڑوں کے عقب میں جا چھپا تھا۔ درہ آدم خان کبھی ایشیا کی سب سے بڑی اسلحہ مارکیٹ ہوا کرتی تھی۔ اس بازار میں ہلکے اسلحے سے لے کر بھاری اسلحہ باآسانی دستیاب ہوا کرتا۔ پاکستان پر دہشت گردی مسلط ہوئی تو پاک فوج نے درہ آدم خیل کو اسلحے سے پاک کیا۔ وہ مقامی لوگ جو اس کاروبار سے نسلوں سے وابستہ تھے ان کو دوسرے کاروبار میں منتقل کرنے کی خاطر ان کی ہر طرح سے مدد کی گئی۔

درہ آدم خیل کے پہاڑ کوئلے سے بھرے ہیں۔ اب قبائل کوئلے کی کانوں پر کام کرتے ہیں اور ان سے کوئلہ نکال کر اپنا اچھا گزر بسر کر رہے ہیں۔ مقامی لوگ کوئلے کی دریافت سے خوش ہیں۔ اس علاقے میں خوشحالی ہے۔ کوئلے سے حاصل شدہ آمدن میں سارا قبیلہ حصہ دار ہوتا ہے اور ہر ایک کو اس کا ماہانہ حصہ ملتا ہے چاہے وہ ایک دن کا پیدا شدہ بچہ ہی کیوں نہ ہو۔

میرا سفر کوہاٹ کی طرف جاری رہا۔ تھوڑا آگے چلا تو بائیں ہاتھ اولس خان پارک و لائبریری کا بورڈ نظر پڑا۔ مقامی لوگوں کی تفریح کی خاطر یہاں پارک اور اس سے ملحقہ لائبریری موجود تھی۔ لائبریری میں داخل ہوا تو خوشگوار حیرت کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ لائبریری جدید طرز پر تعمیر کی گئی ہے اور کتب کی فراہمی کو یقینی بنایا گیا ہے۔ اطراف سے نوجوان اس لائبریری کا رخ کرتے ہیں۔ لائبریری کے عقب میں ایک کنٹین بھی موجود ہے جہاں اولس خان سے ملاقات ہوگئی۔

اولس خان نے بتایا کہ اپنی یہ زمین انہوں نے لائبریری اور پارک کے لیے ہدیہ کردی تھی تاکہ شورش و بدامنی سے لوگ نکل کر تفریح کی طرف متوجہ ہوں اور کتب بینی کا شوق پالیں۔ اس پشتون بزرگ کے خیالات سن کر دل اولس خان پارک کی طرح باغ باغ ہوگیا۔

اگلی صبح میں کوہاٹ کی طرف روانہ ہوا۔ دُور پہاڑ کی چوٹی پر ایک ریزارٹ سا بنا نظر آیا تو میں نے گاڑی اسی طرف موڑ لی۔ بل کھاتے پہاڑی راستے پر چڑھائی کے بعد ایک وسیع منظر کھلا۔ پہاڑ کی ٹاپ پر بنا یہ ریزارٹ مقامی لوگوں کو تفریح کے ساتھ کھانا بھی مہیا کرتا ہے۔ یہاں سے کوہاٹ شہر کا منظر بھی دلفریب ہے۔ شام کے وقت مقامی لوگ بال بچوں سمیت اس جگہ کا رخ کرتے ہیں۔ بلندی پر ہونے کی وجہ سے یہاں ٹھنڈی ہوا چلتی رہتی ہے۔

شام ڈھلے جب کوہاٹ شہر کی بتیاں جلتی ہیں تو منظر کو چار چاند لگ جاتے ہیں۔ میری آمد پر میری تواضع گُڑ سے بنے مقامی مشروب سے کی گئی۔ سیاحت کے فروغ کی خاطر یہاں اسلام آباد مارگلہ کے پہاڑوں جیسی ایک واکنگ ٹریل بنائی گئی ہے جو ’اللہ ہو‘ ٹریل کے نام سے جانی جاتی ہے۔ اس ٹریک پر چلتے جہاں اردگرد مقامی جڑی بوٹیوں کی خوشبو پھیلی ہے وہیں اس بلندی سے دُور دُور تک ہتھیلی کی طرح پھیلی وادیوں کا منظر بھی دلفریب ہے۔

کوہاٹ شہر میں داخل ہوئے تو سورج سر پر آن کھڑا تھا۔ بازار میں چہل پہل تھی۔ یہاں گرمی کی شدت قدرے کم ہونے کی وجہ سے دھوپ چبھتی نہیں تھی۔ چلتے چلتے کوہاٹ کا قلعہ ہینڈی سائیڈ نظر آیا۔ قلعے کی سمت جانے کا ارادہ کیا تو معلوم ہوا کہ یہ تاریخی قلعہ پاک فوج کی 9 ڈیو آرمی کا ہیڈ کوارٹر ہونے کے سبب عام عوام کی پہنچ سے باہر ہے۔ میری درخواست پر مجھے اس قلعے کی بیرونی دیوار تک جانے کی رسائی دے دی گئی۔ بیرونی دیوار سے کوہاٹ شہر کا منظر دیکھا تو دل کیا یہیں شام ہوجائے۔ فطری مناظر نے مجھے ہمیشہ سے بے چین رکھا ہے خاص طور پر جب میں ان کا نظارہ کسی تاریخی مقام سے کر رہا ہوں۔

قلعہ ہینڈی سائیڈ کی بنیاد درانی قبیلے نے 18ویں صدی میں رکھی۔ قلعہ کی تعمیر اس وقت کچی ہوا کرتی تھی۔ 1934ء میں برطانوی فوج نے باغیوں یعنی قبائل کو شکست دے کر اس قلعے پر قبضہ کرلیا اور اسے پکی بنیادوں پر دوبارہ استوار کیا۔ اس قلعہ پر قبضے کی جنگ میں برطانوی فوج کا میجر ہینڈی سائیڈ قبائیلیوں کے ہاتھوں مارا گیا۔ اسی کی یاد میں اس قلعے کو یہ نام ملا۔

قلعے کی دیوار سے اتر کر شہر کی مرکزی سڑک تک آنے میں چند منٹ لگے۔ اگلی منزل تانڈہ ڈیم تھی جو کوہاٹ شہر سے کچھ فاصلے پر واقع ہے۔ یہ ڈیم بارانی پانی کو ذخیرہ کرکے کھیتوں کو سیراب کرنے کی خاطر بنایا گیا۔ ڈیم پر مقامی لوگوں کا رش تھا۔ یہ ایک سیاحتی مقام بن چکا ہے۔ بچے اپنی ماؤں کے ساتھ کھیلنے میں مشغول تھے۔ مرد اِدھر اُدھر چہل قدمی کر رہے تھے۔ سورج کی کرنیں ڈیم سے بنی جھیل کے پانیوں پر ناچ رہی تھیں۔ ہلکی ہوا کے جھونکے جھیل کے اطراف لگے درختوں کے پتوں اور بالوں کو سہلانے لگے۔ اس وسیع جھیل میں مقامی لوگ کشتی رانی کر رہے تھے۔ میں نے اس جھیل کی خوبصورتی کو آنکھوں میں بھرا اور سورج ڈھلنے سے پہلے چل دیا۔

اگلی منزل تانڈہ ڈیم تھی جو کوہاٹ شہر سے کچھ فاصلے پر واقع ہے
اگلی منزل تانڈہ ڈیم تھی جو کوہاٹ شہر سے کچھ فاصلے پر واقع ہے

سورج کی کرنیں ڈیم سے بنی جھیل کے پانیوں پر ناچ رہی تھیں
سورج کی کرنیں ڈیم سے بنی جھیل کے پانیوں پر ناچ رہی تھیں

یہ ڈیم بارانی پانی کو ذخیرہ کرکے کھیتوں کو سیراب کرنے کی خاطر بنایا گیا
یہ ڈیم بارانی پانی کو ذخیرہ کرکے کھیتوں کو سیراب کرنے کی خاطر بنایا گیا

گاڑی ہنگو کی سمت دوڑتی رہی، راستے میں کئی قصبے و بازار آئے۔ پشتون بچے گاڑی کو دیکھ کر ہاتھ ہلاتے اور میں ان کا جواب بھی ہاتھ ہلاکر دیتا تو نیلی آنکھیں خوشی سے پھیل جاتیں۔ ہنگو شہر سے گزر کر میری گاڑی کا رخ سمانا گاؤں کی سمت ہوا۔ سمانا گاؤں پہاڑ کی ٹاپ پر آباد چیڑ کے سدابہار درختوں میں گھرا ہوا خوبصورت گاؤں ہے۔ 6 ہزار فٹ کی بلندی پر واقع ہونے کی وجہ سے یہاں موسم گرمیوں میں بھی خوشگوار رہتا ہے۔ مقامی لوگ یہاں سیر و تفریح کی غرض سے آتے ہیں۔ اسے سمانا ٹاپ کے نام سے بھی پکارا جاتا ہے۔ گاڑی چڑھائی چڑھتی رہی اور سوا گھنٹے کی مسافت کے بعد میں سمانا کے مقام پر موجود تھا۔ میری بائیں سمت کرم ایجنسی کی وادی دُور دُور تک پھیلی نظر آتی تھی اور دائیں سمت اورکزئی ایجنسی حدِنظر تک کھلی تھی۔ اسی وجہ سے اس جگہ کی اہمیت کو دیکھتے ہوئے برطانوی فوج نے یہاں اپنی آوٹ پوسٹ قائم کی تھی تاکہ دُور سے ہی لوگوں کی نقل و حمل پر نظر رکھی جا سکے۔ یہ آوٹ پوسٹ آج بھی جوں کی توں موجود ہے۔ اس پہاڑی مقام پر پاک فوج کا ٹریننگ سینٹر و کالج بھی ہوا کرتا تھا مگر جب طالبان نے قبضہ کیا تو یہ جگہ ان کے زیرِ تسلط چلی گئی۔ اب جب امن قائم ہوچکا تو ایف سی نے دوبارہ اپنی پوسٹس اور کالج سنبھال لیا ہے۔

میری بائیں سمت کرم ایجنسی کی وادی دُور دُور تک پھیلی نظر آتی تھی اور دائیں سمت اورکزئی ایجنسی حدِنظر تک کھلی تھی
میری بائیں سمت کرم ایجنسی کی وادی دُور دُور تک پھیلی نظر آتی تھی اور دائیں سمت اورکزئی ایجنسی حدِنظر تک کھلی تھی

کوہِ سفید کا پہاڑی سلسلہ کرم ایجنسی یا کرم ڈسٹرکٹ کو افغانستان سے جدا کرتا ہے
کوہِ سفید کا پہاڑی سلسلہ کرم ایجنسی یا کرم ڈسٹرکٹ کو افغانستان سے جدا کرتا ہے

سمانا پر اس دن تیز ہوائیں چل رہی تھیں، سردی ہوا میں بھری ہوئی تھی۔ پشتون نوجوان ٹولیوں کی صورت بار بی کیو بنانے میں مصروف تھے۔ مجھے اجنبی جانتے ہوئے انہوں نے گفتگو کا آغاز کیا اور اپنی دعوت میں شامل کرلیا۔ شام ان سے حالات و واقعات سنتے بیت گئی۔ سورج ڈھلا تو سردی کی شدت میں اضافہ ہونے لگا۔ سمانا ٹاپ پر ٹکے رہنا مشکل ہوتا گیا۔ رات پھیلنے تک میں ہنگو واپس آچکا تھا۔

سورج کی کرنیں ابھی پربت اجال رہی تھیں جب میں کرم ایجنسی میں داخل ہوا۔ تنگ مگر قدرتی مناظر و درختوں سے گھری اس سڑک پر سفر ہوتا رہا۔ دریائے کرم میرے ساتھ ساتھ چلتا رہا۔ کوہِ سفید کے پہاڑی سلسلے سے برف کے پگھلنے سے جنم لینے والا یہ دریا سارا سال رواں رہتا ہے۔ کوہِ سفید کا پہاڑی سلسلہ کرم ایجنسی یا کرم ڈسٹرکٹ کو افغانستان سے جدا کرتا ہے۔ یہ ڈیورنڈ لائن ہوا کرتی تھی مگر اب پاک فوج اس پر خاردار تار لگا کر بارڈر محفوظ بنا رہی ہے۔

سمانا پر اس دن تیز ہوائیں چل رہی تھیں، سردی ہوا میں بھری ہوئی تھی
سمانا پر اس دن تیز ہوائیں چل رہی تھیں، سردی ہوا میں بھری ہوئی تھی

سمانا گاؤں پہاڑ کی ٹاپ پر آباد چیڑ کے سدابہار درختوں میں گھرا ہوا خوبصورت گاؤں ہے
سمانا گاؤں پہاڑ کی ٹاپ پر آباد چیڑ کے سدابہار درختوں میں گھرا ہوا خوبصورت گاؤں ہے

پارا چنار کو جاتی ایک واحد سڑک دریائے کرم کی صحبت میں چلتی رہی۔ راستے میں ایک مقام ایسا آیا کہ میں نے دیکھا ایک پہاڑ کی پگڈنڈی پر خواتین رنگ برنگی برقعے پہنے قطار در قطار چلی جا رہی ہیں۔ وہیں پاس ایف سی کی چیک پوسٹ واقع تھی۔ پشتون علاقوں میں سفر کرتے عورت مجھے شاذ و نادر ہی دیکھنے کو ملی اس کی وجہ پشتون روایات ہیں۔

میں پہلے پہل تو یہ سمجھا کہ شاید یہ خواتین کسی عزیز کی شادی یا موت پر چلی جا رہی ہیں۔ میرے استفسار پر ایف سی کی چوکی پر موجود جوان نے بتایا کہ اس علاقے میں موبائل سگنلز کا بہت مسئلہ ہے، یہ خواتین روزانہ شام کو پہاڑ کی ٹاپ پر چڑھتی ہیں جہاں موبائل سگنلز آجاتے ہیں اور وہاں 2، 3 گھنٹے بیٹھ کر بیرون ملک محنت مزدوری کرتے اپنے مردوں کے فون کا انتظار کرتی ہیں۔ کبھی تو فون آجاتا ہے اور کبھی نہیں آتا۔ اگلے دن پھر سے بات کرنے کی چاہ میں یہ خواتین اسی وقت چلنا شروع کرتی ہیں۔

پارا چنار کو جاتی ایک واحد سڑک دریائے کرم کی صحبت میں چلتی رہی
پارا چنار کو جاتی ایک واحد سڑک دریائے کرم کی صحبت میں چلتی رہی

تنگ مگر قدرتی مناظر و درختوں سے گھری اس سڑک پر سفر ہوتا رہا اور دریائے کرم میرے ساتھ ساتھ چلتا رہا
تنگ مگر قدرتی مناظر و درختوں سے گھری اس سڑک پر سفر ہوتا رہا اور دریائے کرم میرے ساتھ ساتھ چلتا رہا

جوان نے بتایا کہ ایک بزرگ خاتون ایسی ملی کہ جو روز اپنے بیٹے کی کال کے انتظار میں یہ مشکل چڑھائی چڑھ کر جاتی ہے مگر اس کا بیٹا فون نہیں کرتا۔ یہ عمل یہاں کی خواتین کا معمول ہے۔ مرد ملک سے باہر محنت مزدوری کرتے ہیں۔ زیادہ تعداد متحدہ عرب امارات میں کام کر رہی ہے۔ یہ سن کر جب میں نے پہاڑ پر چڑھتی خواتین کی قطار پر نظر ڈالی تو قطار دھندلی ہوچکی تھی۔ بہتی ہوا میری آنکھ میں نمی بھر گئی تھی۔

سفر جاری رہا اور میرا دھیان ان خواتین کے المیے پر مرکوز رہا۔ اپنے باپ، بھائی، شوہر و بیٹے کی خیریت معلوم کرنے اور آواز سننے کی چاہ نے ان خواتین کو کیسے بے چین کر رکھا ہے۔ کھڑکی سے باہر کے مناظر دھندلے رہے۔ کوہِ سفید کے پہاڑوں پر ایک اور شام ڈھل رہی تھی جب میرا قدم پارا چنار کی زمین پر پڑا۔

بازار میں چہل پہل ختم ہونے کو تھی۔ پہاڑی علاقوں میں بسے یہ بازار شام کے بعد بند ہونے لگتے ہیں، لوگ اپنے اپنے گھروں کو لوٹنے لگتے ہیں۔ میرا ارادہ پارا چنار میں موجود واحد سُنّی مسجد جانے کا تھا۔ اس مسجد کا نام ہی سُنّی مسجد ہے۔ پارا چنار کی آبادی اہل تشیع پر مشتمل ہے۔

80 کی دہائی میں پارا چنار روس کے خلاف لڑنے والے مجاہدین کا بیس کیمپ ہوا کرتا تھا۔ اس کی وجہ پارا چنار کی منفرد لوکیشن تھی۔ اس کو اک جانب سے افغانستان کا صوبہ پکتیا لگتا ہے تو دوسری جانب سے خوست، تیسری سمت ننگرہار ہے۔

مسجد کا دالان پنجاب کی پرانی حویلیوں جیسا تھا۔ مجھے ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے میں کسی پرانی حویلی کے دالان میں کھڑا ہوں
مسجد کا دالان پنجاب کی پرانی حویلیوں جیسا تھا۔ مجھے ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے میں کسی پرانی حویلی کے دالان میں کھڑا ہوں

سُنّی مسجد کا فضائی منظر
سُنّی مسجد کا فضائی منظر

تکون کی شکل پر محیط پارا چنار خوبصورت ہوا کرتا تھا۔ چنار کے درختوں کی بہتات کی وجہ سے اس کو پارا چنار کا نام ملا۔ پارا پشتو میں پتے کو کہا جاتا ہے۔ یہاں ایک چنار کا درخت ہوا کرتا جس کی چھاؤں میں بیٹھ کر مقامی جرگہ زر، زن و زمین کے فیصلے کیا کرتا۔ شیعہ سُنّی آپس میں یوں گھل مل کر رہتے کہ اک دوجے سے رشتے ہوا کرتے۔ ایک دوجے کے دُکھ سُکھ میں شریک ہونا عبادت سمجھی جاتی تھی۔ مجاہدین نے پارا چنار کو بیس بنا کر افغانستان میں مداخلت کی اور دنیا کی سپر پاور روس کو شکست سے دوچار کیا۔

روس کی شکست کے بعد پاکستان کی دشمن طاقتوں نے منظم منصوبہ بندی کرکے پارا چنار میں فرقہ ورانہ فسادات کی داغ بیل ڈالی۔ لوگ غلط فہمیوں کا شکار ہونے لگے اور پھر اک دوجے کے خون کے پیاسے ہوگئے۔ کئی گھر ٹوٹ گئے۔ قتل و غارت 2 دہائیوں تک ہوتی رہی۔ خونریزی اتنی شدید ہوچکی تھی کہ پارا چنار کو پاکستان سے ملانے والا واحد روڈ کئی سال آمد و رفت کے لیے مکمل بند رہا۔

کوہِ سفید کے پہاڑوں پر ایک اور شام ڈھل رہی تھی جب میرا قدم پارا چنار کی زمین پر پڑا
کوہِ سفید کے پہاڑوں پر ایک اور شام ڈھل رہی تھی جب میرا قدم پارا چنار کی زمین پر پڑا

پارا چنار میں بستی سُنّی آبادی نے وہاں سے ہجرت کی اور تھوڑا پیچھے بسے ایک شہر صدا میں آکر آباد ہوگئی جہاں سُنّی مسلمانوں کی اکثریت تھی۔ خونریزی چلتی رہی، نوجوان قتل ہوتے رہے، گھر جلائے جاتے رہے۔ پارا چنار کے لوگ پاکستان کے دوسرے علاقوں میں جانے کے لیے ڈیورنڈ لائن عبور کرتے اور افغانستان کے صوبے خوست میں داخل ہوکر طورخم بارڈر کے راستے پاکستان میں داخل ہوتے۔

طالبان کے خلاف آپریشن کا آغاز ہوا تو فوج نے پارا چنار میں امن کی بحالی کی خاطر امن جرگوں کا انعقاد کروایا۔ آپس کی رنجشیں و غلط فہمیاں دُور کروائی گئیں۔ 2015ء سے پارا چنار میں امن و امان کی فضا قائم ہے۔ وہ سُنّی آبادی جو یہاں سے منتقل ہوچکی تھی وہ واپس اپنے گھروں میں آکر آباد ہو رہی ہے۔ شہر کی فضا میں پچھلے 4 سالوں سے مکمل امن ہے۔ معمولاتِ زندگی بحال ہوچکے ہیں۔ لوگ پھر سے ہنس بس رہے ہیں۔ یہی وجہ تھی کہ میں نے پارا چنار کو سفر کرنے کا ارادہ کیا تھا۔

پارا چنار شہر کا فضائی منظر
پارا چنار شہر کا فضائی منظر

سُنّی مسجد میں داخل ہونے تک مغرب کی اذان ہوچکی تھی۔ لوگ وضو کرنے میں مصروف تھے۔ مسجد کا دالان پنجاب کی پرانی حویلیوں جیسا تھا۔ مجھے ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے میں کسی پرانی حویلی کے دالان میں کھڑا ہوں۔ لکڑی کے شہتیر، لکڑی کے بالوں کی چھتیں۔ نماز ادا کرکے میں نے امام مسجد صاحب سے موجودہ صورتحال سے متعلق دریافت کرنا چاہا۔ وہ مسکراتے ہوئے بولے اللہ کا شکر ہے کہ حالات نارمل ہیں اور سب کی توجہ اپنے کاروبار کے پھیلاؤ کی جانب ہے۔ اس شام مسجد سے باہر نکل کر اپنے شب بسری کے مقام پر آنے تک رات پھیل چکی تھی۔ پہاڑی علاقوں میں سرِشام ہی بازار بند ہونے لگتے ہیں۔ وادی چاندنی میں نہانے لگی اور پھر نیند کی دیوی نے بانہیں پھیلا دیں۔

اگلی صبح چنار کے درختوں سے چھنتی اتری۔ جیپ پاک افغان بارڈر کی طرف بھاگنے لگی۔ آگے چڑھائیاں تھیں۔ اکا دکا ٹرک مال لوڈ کیے برابر سے گزرتے رہے۔ سورج سر پر آن کھڑا تھا۔ سرحدی چوکی میں اندراج کروا کر اپنے آنے کا مقصد بیان کیا تو پاک فوج کا کپتان مجھے پہچان کر مسکرایا۔ پشتون نوجوان کی نیلی آنکھیں اس کے لبوں کی مسکراہٹ کے ساتھ پھیل گئیں۔ وہ مجھے اپنے علاقے کی تفصیلات سے آگاہ کرتے میرے ساتھ سرحد تک چند قدم چلا۔

آگے بیرئیر لگا تھا۔ بیرئیر کے پاس افغان فوج کے جوان ڈیوٹی پر موجود تھے۔ ہمیں دیکھ کر وہ ہماری جانب چلتے آئے۔ سرحدی بیرئیر کے اوپر سے مصافحہ ہوا۔ قہوے کی دعوت دی گئی اور کچھ دیر میں افغانی قہوہ آگیا۔ میں اور کپتان صاحب بیرئیر کے اس پار پاکستان کی زمین پر کھڑے اور افغان فورسز کے جوان اپنی سرزمین پر کھڑے قہوہ نوش کرنے لگے۔ پشتو سے ناآشنا ہونے کے باعث مجھے ان کی گفتگو سمجھ نہیں آ رہی تھی۔ کپتان صاحب مترجم کے فرائض سر انجام دے رہے تھے۔ اس دوپہر پاک و افغان جوانوں کی ہنسی قہوے کی مصری میں ڈھل کر سرحد پر گونجتی رہی۔ دھوپ میں ہلکی تمازت تھی۔

اگلی صبح چنار کے درختوں سے چھنتی اتری اور جیپ پاک افغان بارڈر کی طرف بھاگنے لگی
اگلی صبح چنار کے درختوں سے چھنتی اتری اور جیپ پاک افغان بارڈر کی طرف بھاگنے لگی

میں پاک افغان سرحد پر موجود تھا۔ یہ میری آخری منزل تھی۔ میرے سفر کا اختتام ہوچکا تھا۔ کرم ایجنسی میری قدم بوسی و مہمان نوازی کرچکی تھی۔ آنکھ کے پردے نے سب مناظر اور مقامی لوگوں کی ہنسی ذہن میں محفوظ کرلی تھی۔ وہیں کہیں سے فاختہ کے چہچہانے کی آواز گونجنے لگی۔

اب جب امن و امان کی فضا قائم ہوئے 4 سال ہونے کو آئے ہیں تو اب مقامی حکومت اور خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت کو ایک قدم آگے بڑھتے ہوئے کرم ایجنسی میں سیاحتی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے پشتون روایات کو پس منظر میں رکھتے کھیلوں، میلوں اور سیاحتی مقامات پر رہائش کی سہولتوں کے لیے منصوبہ بندی کرنے کی ضرورت ہے۔

ایک سیاح کے لیے واپسی کا سفر ہمیشہ ہی خوشی و غم سے گندھا ہوتا ہے۔ خوشی گھر واپسی کی اور غم مہمان نواز لوگوں و وادیوں سے رخصت کا۔ واپسی کے سفر میں جگہ جگہ ایف سی کی چوکیوں میں موجود جوان ہاتھ کے اشارے سے خدا حافظ کہتے رہے۔


لکھاری پیشے کے اعتبار سے شعبہ درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔ فوٹوگرافی شوق ہے، سفر کرنا جنون ہے اور شاعری بھی کرتے ہیں۔ ان کا فیس بک پیج یہاں وزٹ کریں۔


ڈان میڈیا گروپ کا لکھاری اور نیچے دیے گئے کمنٹس سے متّفق ہونا ضروری نہیں۔