عالمی ادارہ صحت نے 11 مارچ کی شب کورونا کو عالمی وبا قرار دیا—فوٹو: اے ایف پی

عالمی وبا کیا ہے، اس کا اعلان کیوں ہوتا ہے، دنیا نے کتنی وباؤں کا سامنا کیا؟

عالمی ادارہ صحت نے 11 مارچ کی شب نئے کورونا وائرس کو عالمی وبا قرار دیا مگر یہ پہلا موقع نہیں کہ ایسا ہوا ہو۔

اپ ڈیٹ مارچ 12 2020 05:32pm

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے 11 مارچ کی شب دسمبر 2019 میں چین سے شروع ہونے والے ’نوول کووڈ 19 کورونا وائرس‘ کو عالمی وبا قرار دیا تو دنیا میں ایک نئی بحث چھڑ گئی اور کافی لوگ اس اعلان سے قدرے خوف زدہ بھی ہوگئے۔

عالمی ادارہ صحت نے ’نوول کووڈ 19 کورونا وائرس‘ کو عالمی وبا قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ انفیکشن کے تشویشناک حد تک پھیلنے پر دنیا کو فکر ہے مگر عالمی وبا کی اصطلاح کا مطلب ’وائرس‘ سے ہار ماننا نہیں بلکہ اس کی درجہ بندی اور اس سے حفاظت کے لیے اقدامات کرنا ہے۔

کورونا وائرس کو عالمی وبا قرار دیے جانے کے بعد دنیا بھر میں ’عالمی وبا‘ کے موضوع پر بحث چھڑ گئی اور کئی لوگ اس اصطلاح سے ڈر گئے۔

یہ بھی پڑھیں: عالمی ادارہ صحت نے نئے کورونا وائرس کو عالمی وبا قرار دے دیا

دنیا کے زیادہ تر افراد یہ نہیں جانتے کہ ’عالمی وبا کیا ہوتی ہے، اس کا کب اور کیوں اعلان کیا جاتا ہے اور جب اس کا اعلان کیا جاتا ہے تو اس کا مطلب کیا ہوتا ہے؟

بہت سارے لوگ یہ بھی نہیں جانتے کہ کیا عالمی وبا کا پہلی بار اعلان کیا گیا ہے یا اس سے قبل بھی اس طرح کے اعلانات سامنے آئے۔

اس مضمون میں ایسے ہی کچھ سوالوں کےجوابات دیے گئے ہیں اور کوشش کی گئی ہے کہ قارئین کو آسانی سے سمجھایا جاسکے کہ ’عالمی وبا‘ کیا ہے اور اس کا اعلان کب اور کیوں ہوتا ہے؟

عالمی وبا کیا ہے؟

نیا کورونا وائرس چین سے دسمبر 2019 میں شروع ہوا تھا—فوٹو: اے پی
نیا کورونا وائرس چین سے دسمبر 2019 میں شروع ہوا تھا—فوٹو: اے پی

عالمی ادارہ صحت کے مطابق کسی بھی بیماری کو عالمی وبا قرار دیے جانے کا کوئی مخصوص طریقہ کار نہیں تاہم کسی بھی بیماری کو اس وقت ’عالمی وبا‘ قرار دیا جا سکتا ہے جب مذکورہ بیماری ایک سے دوسرے ملک سفر کرکے بہت سارے اور ہر عمر کے افراد کو متاثر کرے۔

کسی بھی بیماری کو ’عالمی وبا‘ قرار دیے جانے سے قبل اسے ابتدائی طور پر ’خطرناک‘ اور ’وبا‘ قرار دیا جاتا ہے تاہم ایسا بھی ممکن ہے کہ کسی بیماری یا وائرس کو براہ راست عالمی وبا قرار دیا جائے۔

عالمی ادارہ صحت کی جانب سے ’نئے کورونا وائرس‘ کو ’عالمی وبا‘ قرار دیے جانے سے قبل 2010 میں ’سوائن فلو‘ کو عالمی وبا قرار دیا گیا تھا۔

اس بار ڈبلیو ایچ او نے کورونا وائرس کو اس وقت عالمی وبا قرار دیا جب وہ دنیا کے 114 سے زائد ممالک میں پھیلا اور اس سے تقریباً سوا ایک لاکھ افراد متاثر ہوئے اور مذکورہ وائرس تیزی سے ایک سے دوسرے ملک اور پھر واپس اسی ملک میں پھیلنے لگا جہاں سے وہ شروع ہوا تھا۔

’وبا‘ اور ’عالمی وبا‘ میں کیا فرق ہے؟

کسی بھی بیماری کو پہلے وبا اور پھر عالمی وبا قرار دیا جاتا ہے—اسکرین شاٹ/ یوٹیوب
کسی بھی بیماری کو پہلے وبا اور پھر عالمی وبا قرار دیا جاتا ہے—اسکرین شاٹ/ یوٹیوب

نئے کورونا وائرس کے شروع ہونے سے ہی انگریزی کا لفظ (Epidemic) استعمال کیا جانے لگا جسے اردو میں ’وبا‘ کہا جاتا ہے، وبا عام طور پر اس بیماری کو کہا جاتا ہے جو کہ تیزی سے ایک سے دوسرے شخص اور ایک ملک سے دوسرے ملک میں پھیلے۔

اگرچہ وبا کو ہی عالمی وبا قرار دیا جاتا ہے مگر کسی بھی وبا کو اس وقت ہی عالمی وبا قرار دیا جاتا ہے جو تیزی سے دنیا کے ہر خطے میں اور تقریباً ہر عمر کے افراد کو متاثر کرے لیکن اگر کوئی بھی وبا ہر عمر کے افراد کو متاثر نہ بھی کرے تو عالمی ادارہ صحت اس وبا کو مختلف چیزوں کی بنیاد پر عالمی وبا یعنی (Pandemic) قرار دے سکتا ہے۔

عالمی ادارہ صحت نے بھی کورونا کی وبا کو اسی بنیاد پر عالمی وبا قرار دیا۔

کسی بھی بیماری کو ’عالمی وبا‘ قرار دینے کا فیصلہ کیسے کیا جاتا ہے؟

نوول کوڈ 19 کورونا وائرس نے دنیا کے 115 سے زائد ممالک کو متاثر کیا—فوٹو: اے ایف پی
نوول کوڈ 19 کورونا وائرس نے دنیا کے 115 سے زائد ممالک کو متاثر کیا—فوٹو: اے ایف پی

عالمی ادارہ صحت کی جانب سے کسی بھی بیماری کو اس وقت ہی ’عالمی وبا‘ قرار دیا جاتا ہے جب کوئی بیماری تیزی سے ایک سے دوسرے ملک یا انسان میں پھیلنے سمیت سماج کے دیگر جانداروں یعنی جانوروں اور پودوں کو بھی متاثر کرتی ہے۔

بعض مرتبہ جانوروں اور پودوں سے شروع ہونے والی بیماری یا وائرس کو بھی ’عالمی وبا‘ قرار دیا جاسکتا ہے کیوں ایسی بیماری بڑے پیمانے پر انسانوں کو بھی متاثر کرتی ہے۔

اگر کسی بیماری یا وائرس کو ’عالمی وبا‘ قرار دیا جائے تو دنیا کے تمام ممالک، عام افراد، عالمی اداروں سمیت دنیا کے ہر شخص پر یہ اخلاقی فرض بنتا ہے کہ وہ ’وبا‘ کو عالمی سطح پر پھیلنے سے روکنے میں اپنا کردار ادا کرے۔

کسی بیماری کو ’عالمی وبا‘ قرار دینے کا اختیار کس کے پاس ہوتا ہے؟

ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل ٹیدروس ادہانوم کورونا کو عالمی وبا قرار دینےکا اعلان کرتے ہوئے— فوٹو: اے ایف پی
ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل ٹیدروس ادہانوم کورونا کو عالمی وبا قرار دینےکا اعلان کرتے ہوئے— فوٹو: اے ایف پی

کسی بھی بیماری یا وائرس کو ’عالمی وبا‘ قرار دینے کا اختیار صرف عالمی ادارہ صحت کے پاس ہوتا ہے جو صحت سے متعلق ایک بین الاقوامی ادارہ ہے۔

عالمی ادارہ صحت دراصل اقوام متحدہ (یو این) کا ذیلی مگر خودمختار ادارہ ہے۔

عالمی ادارہ صحت کا قیام 7 اپریل 1948 میں عمل میں آیا اور یہ ادارہ اس وقت دنیا بھر کے 150 ممالک اور 6 براعظم میں کام کر رہا ہے اور اس کے ملازمین کی تعداد 7 ہزار تک ہے۔

عالمی ادارہ کے پاس ہی کسی بیماری کو ’عالمی وبا‘ قرار دینے کا اختیار ہے اور یہی ادارہ بیماریوں اور وائرس سے متعلق علاج کے اور ٹیسٹ کے طریقہ کار بھی متعارف کرواتا ہے۔

دنیا کے تمام ممالک اس ادارے کے ساتھ تعاون کرنے اور اس کی ہدایات پر عمل کرنے کے اخلاقی پابند ہوتےہیں اور اس ادارے کی ہدایات پر عمل نہ کرنے والے ممالک کو پابندیوں سمیت کئی طرح کے سیاسی مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

کورونا وائرس کو ’عالمی وبا‘ قرار دیے جانے سے کیا ہوگا؟

عالمی وبا کا مقصد وائرس کا مل کر مقابلہ کرنا ہے—فوٹو: اے ایف پی
عالمی وبا کا مقصد وائرس کا مل کر مقابلہ کرنا ہے—فوٹو: اے ایف پی

اگرچہ نئے کورونا وائرس کو عالمی وبا قرار دیے جانے سے اس کے پھیلاؤ یا خطرے میں اضافہ یا کمی نہیں ہوگی تاہم اسے عالمی وبا قرار دیے جانے کے بعد تمام ممالک اس مرض کا مقابلہ کرنے کے لیے متحد ہوں گے۔

کورونا وائرس کو عالمی وبا قرار دیے جانے کے بعد دنیا بھر کی حکومتیں جہاں ایک دوسرے سے وائرس سے متعلق تعاون اور روابط کو بڑھائیں گی، وہیں تمام ممالک اپنے ملک میں بھی اس سے نمٹنے کے لیے سخت اقدامات کریں گی۔

کورونا وائرس کو عالمی وبا قرار دیے جانے کے بعد دنیا کے ہر فرد پر بھی اخلاقی طور پر یہ ذمہ داری عائد ہوگئی کہ وہ نہ صرف اپنا بلکہ اپنے ارد گرد کے افراد اور معاشرے کو بھی محفوظ بنانے کے لیے کردار ادا کرے۔

اب تک کتنی بیماریوں کو عالمی وبا قرار دیا جا چکا ہے؟

ماضی میں بھی بیماریوں کو عالمی وبا قرار دیا جا چکا ہے—فوٹو: اے ایف پی
ماضی میں بھی بیماریوں کو عالمی وبا قرار دیا جا چکا ہے—فوٹو: اے ایف پی

چوں کہ عالمی ادارہ صحت کا قیام جنگ عظیم دوئم کے اختتام کے بعد ہوا اور اس سے قبل بھی دنیا میں کئی بڑی بیماریاں اور وائرسز پھیلے تھے اور انہیں بھی ’عالمی وبا‘ قرار دیا گیا مگر ڈبلیو ایچ او نے بھی اپنے قیام کے بعد کئی بیماریوں کو عالمی وبا قرار دیا۔

’نئے کورونا وائرس‘ سے قبل 2003 میں بھی ایک کورونا وائرس دنیا میں پھیلا تھا مگر عالمی ادارہ صحت نے اسے عالمی وبا قرار نہیں دیا تھا کیوں کہ وہ محدود ممالک میں پھیلا تھا۔

’نوول کووڈ 19 کورونا وائرس‘ کو ’عالمی وبا‘ قرار دیے جانے سے قبل عالمی ادارہ صحت ’سوائن فلو، پولیو اور ایچ آئی وی‘ سمیت دیگر بیماریوں اور وائرسز کو ’عالمی وبا‘ قرار دے چکا ہے۔

اب تک عالمی وبا قرار پانے والے مرض

ہیضے کی وبا سے ایک لاکھ 30 ہزار تک افراد ہلاک ہوئے تھے—فوٹو: این ٹی وی
ہیضے کی وبا سے ایک لاکھ 30 ہزار تک افراد ہلاک ہوئے تھے—فوٹو: این ٹی وی

ہیضے کی وبا

ہیضے کی وبا کو جدید دنیا کی سب سے خطرناک وبا مانا جاتا ہے، اگرچہ یہ 19 ویں صدی کے آغاز سے قبل ہی دنیا میں سامنے آئی تھی تاہم جنگ عظیم اول سے قبل اور انیسویں صدی کی پہلی دہائی میں یہ بیماری امریکا میں پھوٹ پڑی، جہاں سے یہ بیماری دنیا کے دیگر خطوں میں بھی پھیلی۔

اس بیماری سے 1910 سے 1912 تک 13 لاکھ افراد متاثر ہوئے اور اس سے اندازے کے مطابق ایک لاکھ 30 ہزار تک ہلاکتیں ہوئیں۔

اسپینش فلو

اسپینش فلو نے ہیضے سے بھی زیادہ نقصان کیا—فوٹو: ہسٹری ڈاٹ کام
اسپینش فلو نے ہیضے سے بھی زیادہ نقصان کیا—فوٹو: ہسٹری ڈاٹ کام

اسپینش فلو جنگ عظیم اول کے دوران سامنے آئی اور ایک اندازے کے مطابق اس بیماری نے دنیا کے ہر تیسرے شخص کو متاثر کیا، اس کو جدید دنیا کی بدترین عالمی وبا بھی مانا جاتا ہے، اس بیماری سے 1918 اور 1920 کے دوران 5 کروڑ لوگ متاثر ہوئے جب کہ اس سے تقریبا 50 لاکھ افراد ہلاک ہوئے اور یہ بیماری بھی انفلوائنزا کی ایک قسم تھی۔

اسپینش فلو نے بھی 20 سے 40 سال کی عمر کے مرد و خواتین کو متاثر کیا تھا اور یہ بیماری امریکا سے لے کر یورپ اور ایشیا سے لے کر افریقہ تک پھیلی تھی۔

چیچک - ماتا

چیچک کی وبا 1976 میں ختم ہوئی مگر بیماری اب بھی دنیا میں موجود ہے—فوٹو: ڈبلیو ایچ او
چیچک کی وبا 1976 میں ختم ہوئی مگر بیماری اب بھی دنیا میں موجود ہے—فوٹو: ڈبلیو ایچ او

یہ وبا بھی 18 ویں صدی میں پہلی بار دنیا بھر میں پھوٹ پڑی تھی تاہم یہ وبا جنگ عظیم دوئم کے اختتام کے بعد 1950 میں ایک بار پھر سامنے آئی اور اور اس بیماری نے محض 2 دہائیوں میں 3 سے 5 کروڑ افراد کو متاثر کیا اور 1970 تک اس بیماری سے ہر سال 50 لاکھ افراد متاثر ہونے لگے تھے۔

عالمی ادارہ صحت نے 1976 میں تصدیق کی کہ اب چیچک کی بیماری دنیا میں وبا کی صورت میں نہیں رہی تاہم بیماری دنیا میں موجود ہے اور رہے گی۔

خسرہ

خسرہ پاکستان میں بھی موجود ہے—فوٹو: یونیسیف
خسرہ پاکستان میں بھی موجود ہے—فوٹو: یونیسیف

یہ بیماری بھی 1920 اور 1930 کے درمیان دنیا میں سامنے آئی اور ابتدائی سال میں اسے بھی وبا قرار دیا گیا اور یہ بیماری اب بھی دنیا بھر میں موجود ہے۔

اس بیماری میں 1960 کے بعد واضح کمی دیکھی گئی کیوں کہ اسی سال عالمی ادارہ صحت نے اس کی ویکسین متعارف کرائی تھی مگر یہ بیماری اب بھی دنیا بھر میں موجود ہے، یہ بیماری عام طور پر کم عمر بچوں کو لگتی ہے تاہم اس سے نو عمر افراد بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔

صرف 2018 میں ہی افریقہ اور ایشیا میں خسرہ سے ایک لاکھ 40 ہزار اموات ہوئی تھیں۔

جذام - کوڑھ

اب جذام کی بیماری دنیا میں انتہائی کم رہ گئی ہے—فوٹو: اے ایف پی
اب جذام کی بیماری دنیا میں انتہائی کم رہ گئی ہے—فوٹو: اے ایف پی

یہ وبا بھی جنگ عظیم دوئم سے قبل ہی شروع ہوئی اور اس کی شدت 1950 تک رہی مگر اس وبا نے کئی دہائیوں تک دنیا کے لاکھوں افراد کو متاثر کیا۔

اس بیماری میں 1990 کے بعد دنیا بھر میں مسلسل واضح کمی دیکھی گئی اور 2016 میں عالمی ادارہ صحت نے ’جذام فری دنیا‘ کی مہم کا آغاز بھی کیا اور امید ہے کہ جلد ہی دنیا اس بیماری سے آزاد ہوجائے گی۔

یہ بیماری انسانی جلد کو متاثر کرتی ہے اور یہ بیماری بھی چیچک کی طرح ہوتی ہے، اس بیماری کی علامات بعض اوقات 20 سال تک سامنے نہیں آتیں لیکن اب یہ بیماری دنیا میں انتہائی کم رہ گئی ہے۔

پولیو

پولیو اب تک پاکستان میں موجود ہے—فائل فوٹو: ڈان
پولیو اب تک پاکستان میں موجود ہے—فائل فوٹو: ڈان

پولیو بھی 1950 کے بعد سامنے آیا اور اس بیماری نے دنیا بھر میں لاکھوں افراد کو معذور بنایا لیکن ہر گزرتے سال اس وائرس پر قابو پانے کی ہمت افزا خبریں سامنے آتی رہیں۔

اس وقت تک پولیو تقریبا دنیا کے تمام ممالک سے ختم ہوچکا ہے مگر بدقسمتی سے پاکستان سمیت چند ایسے ممالک ہیں جہاں اب بھی پولیو کے کیسز سامنے آ رہے ہیں تاہم عالمی ادارہ صحت کو امید ہے کہ آئندہ چند سال میں یہ بیماری دنیا سے ختم ہوجائے گی۔

ایشیا فلو

ایشیا فلو نے انتہائی کم وقت میں دنیا میں خوف پھیلایا—فوٹو: فائل اے پی
ایشیا فلو نے انتہائی کم وقت میں دنیا میں خوف پھیلایا—فوٹو: فائل اے پی

ایشیا فلو کا وائرس 1957 میں ہانک کانگ اور چین سے شروع ہوا اور ابتدائی 6 ماہ میں ہی اس بیماری سے 14 ہزار افراد ہلاک ہوئے، ایشیا فلو نے انتہائی کم عرصے میں براعظم ایشیا کے کئی افراد کو متاثر کیا اور مذکورہ وائرس ایشیا سے نکل کر دوسرے براعظم تک پھیل گیا۔

ہانگ کانگ فلو

اس وائرس نے بھی دنیا کے کئی ممالک میں لوگوں کو متاثر کیا—فوٹو: ساؤتھ چائنہ مارننگ پوسٹ
اس وائرس نے بھی دنیا کے کئی ممالک میں لوگوں کو متاثر کیا—فوٹو: ساؤتھ چائنہ مارننگ پوسٹ

ایشیا فلو سے ایک دہائی بعد ہانگ کانگ سے ہی پھیلنے والے ’ہانگ کانگ فلو‘ کو بھی انتہائی خطرناک وبا سمجھا جاتا ہے، اس وائرس کو ایشیا فلو کا تسلسل قرار دیا گیا اور اس وائرس سے تقریبا 10 لاکھ افراد متاثر ہوئے۔

ہانگ کانگ فلو کو ایشیا فلو سمیت اسپینش فلو کا تسلسل قرار دیا گیا اور اس وائرس نے بھی دنیا بھر میں کئی انسانوں کی جانیں لیں۔

ایچ آئی وی

ایچ آئی وی کا شمار اب تک کی خطرناک بیماریوں میں ہوتا ہے—فوٹو: اے ایف پی
ایچ آئی وی کا شمار اب تک کی خطرناک بیماریوں میں ہوتا ہے—فوٹو: اے ایف پی

ایچ آئی وی جیسے مہلک وائرس کی علامات 1970 کے بعد براعظم افریقہ میں دیکھی گئیں تاہم ایچ آئی وی کا پہلا کیس 1981 میں امریکا میں سامنے آیا جس کے بعد یہ وائرس انتہائی تیزی سے ایک سے دوسرے ملک اور ایک شخص سے دوسرے شخص میں منتقل ہوا۔

ایچ آئی وی کے تیزی سے پھیلنے کے بعد اس وبا قرار دیا گیا اور اس وقت دنیا بھر میں اس مرض کے شکار افراد کی تعداد 32 لاکھ تک ہے تاہم غیر رجسٹرڈ مریضوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔

اس بیماری کو اب بھی دنیا میں سب سے خطرناک بیماریوں میں شمار کیا جاتا ہے کیوں کہ اس سے بچاؤ کی کوئی ویکسین دستیاب نہیں، البتہ دوائیوں کے ذریعے اس وائرس کو قابو کیا جاسکتا ہے۔

تپ دق- ٹی بی

ٹی بی سے اب بھی دنیا میں لاکھوں ہلاکتیں ہوتی ہیں—فوٹو: شٹر اسٹاک
ٹی بی سے اب بھی دنیا میں لاکھوں ہلاکتیں ہوتی ہیں—فوٹو: شٹر اسٹاک

ٹی بی اب بھی دنیا میں بڑے پیمانے پر موجود ہے اور صرف 2018 میں اس مرض سے دنیا بھر میں 15 لاکھ افراد لقمہ اجل بنے، ان ہلاکتوں میں ڈھائی لاکھ ایسے افراد تھے جنہیں ایچ آئی وی بھی لاحق تھا۔

ٹی بی کو بھی کئی سال تک وبا کی حیثیت حاصل رہی مگر بعد ازاں اس کا علاج سامنے آنے کے بعد اس کے متاثرہ افراد میں واضح کمی دیکھی گئی مگر یہ بیماری اب بھی دنیا بھر کی بڑی بیماریوں میں شمار ہوتی ہے۔

ملیریا

ملیریا سے اب بھی سالانہ 40 لاکھ تک ہلاکتیں ہوتی ہیں—فوٹو: اے ایف پی
ملیریا سے اب بھی سالانہ 40 لاکھ تک ہلاکتیں ہوتی ہیں—فوٹو: اے ایف پی

اس بیماری کو وبا کی طرح سمجھا جاتا رہا ہے کیوں کہ تاحال ملیریا سے بچاؤ کی کوئی ویکسین دستیاب نہیں ہے، البتہ اس بیماری کا علاج مختلف دوائیوں کے ذریعے کیا جاتا ہے۔

یہ بیماری بھی کئی دہائیوں سے دنیا میں موجود ہے اور صرف 2018 مین ہی دنیا بھر میں ملیریا کے 2 کروڑ 80 کیس رپورٹ ہوئے جب کہ اسی سال اس مرض سے دنیا بھر میں 40 لاکھ سے زیادہ ہلاکتیں بھی ہوئیں۔

سوائن فلو - ایچ ون، این ون

سوائن فلو کا وائرس عام طور پر سوئر سمیت مختلف جانوروں اور پرندوں میں پایا جاتا ہے—فوٹو: میڈیکل نیوز ٹوڈے
سوائن فلو کا وائرس عام طور پر سوئر سمیت مختلف جانوروں اور پرندوں میں پایا جاتا ہے—فوٹو: میڈیکل نیوز ٹوڈے

یہ بیماری 2005 میں شروع ہوئی تھی تاہم 2009 میں یہ بیماری ایک بار پھر سامنے آئی اور جانوروں سے شروع ہونے والی اس بیماری کا آغاز ویتنام سے ہوا تھا، یہ وائرس ’انفلوائنزا‘ (فلو) کی ایک قسم تھا اور اسے (ایچ ون، وین ون) کا نام دیا گیا تھا۔

سوائن فلو سے دنیا بھر میں اندازا ڈیڑھ کروڑ افراد متاثر ہوئے تھے اور اس سے ہلاکتوں کی تعداد 3 سے 5 لاکھ تک پہنچ گئی تھی۔

عالمی ادارہ صحت نے ’سوائن فلو‘ کو اگست 2010 میں ’عالمی وبا‘ قرار دیا تھا۔

نوول کووڈ 19 کورونا وائرس

دسمبر 2019 میں چین کے شہر ووہان سے شروع ہونے والے کورونا وائرس نے 11 مارچ تک دنیا بھر کے 115 ممالک کے تقریبا ایک لاکھ 20 ہزار افراد کو متاثر کیا اور اس وائرس سے اسی عرصے میں تقریبا 4 ہزار ہلاکتیں بھی ہوئیں۔

چین سے شروع ہونے والے اس وائرس نے تقریبا دنیا کے نصف ممالک جن میں پاکستان، امریکا، اٹلی، جرمنی، ایران، سعودی عرب، بھارت اور برطانیہ جیسے ممالک بھی شامل ہیں ان کو اپنی لپیٹ میں لیا، جس کے بعد عالمی ادارہ صحت نے 11 مارچ کی شب اسے عالمی وبا قرار دیا۔

اس سے قبل ہی عالمی ادارہ صحت کورونا وائرس کو وبا قرار دے چکا تھا تاہم جب اس وائرس میں شدت آگئی اور یہ نصف دنیا تک پھیل گیا تو ڈبلیو ایچ او نے اسے عالمی وبا قرار دیا۔

کورونا وائر سے متعلق اہم معلومات اور خبروں کے لیے یہاں کلک کریں۔

کورونا وائرس سے 11 مارچ تک دنیا بھر میں ایک لاکھ 20 ہزار تک افراد متاثر ہوئے—فوٹو: رائٹرز
کورونا وائرس سے 11 مارچ تک دنیا بھر میں ایک لاکھ 20 ہزار تک افراد متاثر ہوئے—فوٹو: رائٹرز