’عہدِ کورونا‘ میں ہمارے ادیبوں کے گزرتے شب و روز

’ایک وائرس نے پوری دنیا کو روک دیا، یہ الگ بات ہےکہ ہم فخر کرتے رہیں کہ انسان نے چاند کو تسخیرکرلیا اور مریخ پر پہنچ گیا

اپ ڈیٹ 21 اپريل 2020 07:30am

پاکستان سمیت دنیا بھر میں کورونا کی وبا نے ہر ایک کو اپنے گھر تک محدود رہنے پر مجبور کردیا ہے۔ شاہراہیں ویران اور گلیاں کوچے سنسان ہیں، بازاروں میں سناٹا اور راستوں پر خاموشی کا راج ہے۔

اس جبری فرصت اور تنہائی (لاک ڈاؤن) کو جھیلنے کے لیے، اپنے اپنے گھروں میں محصور افراد نے اپنی اپنی دلچسپی کے مطابق مصروفیات ڈھونڈلی ہیں۔ کسی نے خود کو سوشل میڈیا کے جنگل میں گم کرلیا، تو کوئی فلمیں اور ڈرامے دیکھ رہا ہے، کسی نے کتابوں کے مطالعے میں اپنا دل لگا لیا تو کوئی اپنی تخلیقی دنیا میں ہر پل مصروف ہے۔

اچانک مسلط ہوجانے والی اس جبری فرصت میں پاکستان کے ادیب اور شعرا کیا کر رہے ہیں، اور کس طرح خود کو مشغول رکھے ہوئے ہیں؟ یہ جاننے کے لیے ہم نے ان سے رابطہ کیا۔

اس دوران ان سے ہونے والی خصوصی گفتگو اور تاثرات کو یہاں پیش کیا جا رہا ہے تاکہ آپ کو بھی اندازہ ہوسکے کہ بڑے لوگ مشکل وقت میں بھی غیر معمولی برتاؤ اختیار کرتے ہیں، جس طرح ان تخلیق کاروں نے کیا ہے۔

اردو ادب میں ادوار یا عہد کی بنیاد پر بات کی جاتی ہے کہ وہ فلاں شاعر کا دور تھا، یا وہ عہد فلاں ادیب کا تھا، وغیرہ وغیرہ لیکن ابھی ہم اردو ادب کے جس عہد سے گزر رہے ہیں یہ کورونا کا عہد ہے، جس میں کئی کہانیاں، مکالمے اور شاعری تخلیق ہوگی اور اس کو عہدِ کورونا کے نام سے یاد رکھا جائے گا۔ اس سے پہلے یہ تخلیقات مکمل ہوں اور آپ تک پہنچیں، ہم نے اس سے پہلے ہی چند منتخب ادیبوں تک پہنچ کر پیشگی احوال دریافت کیا ہے، جو یہاں پیش کر رہے ہیں۔

مستنصر حسین تارڑ

پاکستان کے عصری ادبی منظرنامے پر موجود مستنصر حسین تارڑ ایک نامور تخلیق کار ہیں اور خاص طور پر اردو ناول نگاری میں گزشتہ کئی دہائیوں سے شہرت کی نئی بلندیوں پر فائز ہیں۔

پی ٹی وی سے نشر ہونے والے پاکستان کے اوّلین مارننگ شو کے میزبان ہونے کے علاوہ وہ سفرنامے لکھتے، اداکاری کرتے اور میزبانی کے فرائض انجام دیتے آرہے ہیں۔ وہ چونکہ ہمہ جہت صلاحیتوں کے مالک ہیں اس لیے آج بھی پوری توانائی سے خود کو مصروف رکھتے ہیں۔ صبح میں روزانہ پیدل چلنا، خوش خوراکی، مستقل طور پر کالم لکھنا، مطالعہ کرنا، ہم ذوق افراد سے ملنا اور سفر کرنا ان کے معمولات میں شامل ہے۔

راقم نے انہیں تجویز بھی پیش کی کہ اگر ممکن ہو تو اپنی نئی کتابوں کی تقریبات کا سلسلہ لاہور سے کراچی تک دراز کیجیے، یہاں آپ کے چاہنے والے چاہتے ہیں کہ آپ ان کے درمیان بھی رہیں، خاص طور پر جب آپ کی کوئی نئی کتاب چھپ کر آئے کیونکہ اس پر بات کرنے کی خواہش قارئین کے دل میں جاگتی ہے۔ اسی گفتگو میں تارڑ صاحب کو اپنی کتاب 'کے ٹو' کہانی کی تقریبِ رونمائی یاد آگئی اور اس کا تذکرہ کرنے لگے۔

مستنصر حسین تارڑ

’کس طرح کئی ہزار فٹ کی بلندی پر، پی آئی اے کے جہاز میں پائلٹ کے کاک پٹ کے اندر عین اس وقت ہم 3 افراد نے اس کتاب کی تقریبِ رونمائی کی جب جہاز کے ٹو کی چوٹی کے اوپر سے گزر رہا تھا اور یوں یہ اپنی نوعیت کی مختلف تقریبِ رونمائی تھی اور میرے لیے یادگار بھی لیکن اب مجھے تقریبات میں زیادہ دلچسپی نہیں رہی، میں اپنی توجہ لکھنے اور پڑھنے پر ہی مبذول رکھنا چاہتا ہوں۔'

دورانِ گفتگو معروف شاعرہ اور ادیبہ ’فہمیدہ ریاض‘ کا تذکرہ نکل آیا۔ میں نے ان کو ’قلعہ فراموشی‘ ناول پڑھنے کی تجویز دی جو فہمیدہ ریاض کا آخری ناول ہے۔ اس ناول کے نام کو تارڑ صاحب نے بے حد پسند کیا اور پڑھنے کا ارادہ بھی ظاہر کیا۔ پھر کافی دیر تک ہم فہمیدہ ریاض کی باتیں کرتے رہے اور وہ مجھے بتانے لگے کہ ایک بار فہمیدہ ریاض نے مجھ سے کہا کہ ’نثر لکھنا شاعری سے کہیں زیادہ مشکل کام ہے، کیونکہ میں نے ایک ناول لکھا تو اب میرا کردار کمرے کے اندر کرسی پر بیٹھا ہے، میں چاہتی ہوں کہ اس کو کمرے سے باہر بھیجوں لیکن مجھے کوئی وجہ سمجھ نہیں آرہی جس کو بنیاد بناکر کرسی سے اُٹھایا جائے‘۔

ہم نے اس موقع پر ان سے خصوصی مکالمہ کیا، جس کے ذریعے انہوں نے بہت ساری خاص باتیں کیں۔

مستنصر حسین تارڑ

وہ کہتے ہیں کہ ’اس جبری فرصت یا تنہائی، اسے جو نام بھی دیں، اس میں عام افراد کے لیے ایک خوف اور ڈر کا عنصر ہے۔ ماحول میں ایک ویرانی اور تاریکی کا احساس گھلا ہوا ہے، لیکن ادیبوں کے لیے یہ تنہائی کوئی نئی چیز نہیں ہے۔ میں گزشتہ کئی دہائیوں سے لکھ رہا ہوں اور میری یہ مصروفیت مسلسل اور مستقل ہے۔ میں پابندی سے کئی گھنٹے ہر روز صرف لکھنے یا پڑھنے کا کام کرتا ہوں۔ یہ کام تب ہی ہوسکتا ہے جب آپ گھر میں رہیں گے اور پوری توجہ اس کام کو دیں گے۔ اب کورونا کی وبا نے سب کو جبری تنہائی میں دھکیل دیا ہے۔ پھر انہیں یہ زیادہ وحشت ناک یا اکتاہٹ بھرا کام محسوس ہو رہا ہے جن کے ہاں تخلیقی سرگرمی نہیں ہے یا جو لکھنے پڑھنے کے کام سے وابستہ نہیں ہیں ورنہ اس ماحول میں بھی کام کرنے والے کام کر رہے ہیں۔

'میں نے بھی اس اضافی فرصت اور تنہائی کا فائدہ اٹھایا اور نیا ناول یا ناولٹ جو بھی کہیں، وہ لکھنا شروع کردیا ہے۔ ابھی کچھ کہہ نہیں سکتا کہ یہ کہانی کیا رخ اختیار کرے گی اور یہ ناول بنے گا یا ناولٹ لیکن کہانی لکھنا شروع کردی ہے اور اس کا موضوع ’کورونا کی وبا‘ ہی ہے البتہ ابھی تک اس کا نام طے نہیں کیا۔ امید کرتا ہوں کہ جب تک یہ وبا ختم ہوگی تب تک میری یہ کہانی بھی مکمل ہوچکی ہوگی۔

'اب چونکہ میں باہر نکلا نہیں ہوں اس لیے اس ناول کو لکھنے کے لیے میں نے اخبارات، ٹیلی وژن اور سوشل میڈیا سے استفادہ کیا ہے اور ان حاصل کی گئی معلومات کو ناول کے لیے بطور ماخذ استعمال کیا ہے۔ جب کورونا کی وبا نے پاکستان کو متاثر ہی کیا تھا، ان دنوں میری 2 نئی کتابیں چھپ کر آئیں۔ اب حالات جب معمول پر آجائیں گے تو پھر ان کتابوں پر بھی بات ہوگی اور اس ناول یا ناولٹ پر بھی، جس کا میں نے آپ کو ابھی سے بتادیا ہے کہ وہ زیرِ تکمیل ہے۔‘

انور مقصود

آپ پاکستان کے معروف ڈراما نویس، گیت نگار، مزاح لکھنے والے اور مصور ہیں۔ آج بھی اتنی شہرت کے باوجود سادہ زندگی بسر کر رہے ہیں۔ ان کے موبائل فون میں انٹرنیٹ نہیں چلتا، ایک سادہ سا موبائل فون کہ جس سے رابطہ ہوسکے اور بات ہوجائے، بس اسی پر اکتفا کرتے ہیں۔ اس موقع پر جب ہم نے ان سے جبری فرصت کے دنوں کے بابت دریافت کیا تو وہ کہنے لگے،

’گھر میں محدود رہنے کا دورانیہ کم ہونے کے بجائے بڑھتا جا رہا ہے۔ دنوں کی بات ہفتوں اور اب مہینے کی مدت تک آپہنچی ہے۔ میں ہر صبح 8 بجے سے رات 8 بجے تک مصوری کرتا ہوں۔ اس پورے دن کی مسلسل مصروفیت میں ساتھ ساتھ دیگر ذیلی کام بھی کرتا ہوں جس میں مطالعہ بھی شامل ہے۔ میں بہت عرصے سے کئی شعرا کو تفصیلی طور پر پڑھنا چاہ رہا تھا لیکن مہلت نہیں مل رہی تھی، اب اس فرصت میں وہ سارے شعرا میں نے پڑھ ڈالے۔ ان میں خاص طور پر جن کو پڑھا، وہ حالی، سودا اور مصحفی ہیں۔ کئی کتابیں بھی جمع کی ہوئی تھیں، وہ بھی پڑھ لیں۔ سر سید احمد خان کے حوالے سے ایک اہم کتاب کا مطالعہ انہی دنوں میں کیا ہے۔ آپ جانتے ہیں، میں فرضی خطوط لکھتا ہوں، ان شعرا کے نام جو اس دنیا سے رحلت فرما چکے ہیں۔ اس سلسلے کا نیا خط بھی میں نے مکمل کرلیا ہے، جو خدائے سخن میر تقی میر کے نام ہے، جلد ہی آپ بھی سُن سکیں گے۔

'اس کے علاوہ تمام دن پینٹنگ کرنے کے ساتھ مطالعہ بھی جاری رہتا ہے لیکن ان سب کاموں سے زیادہ جو کام بہت دلچسپی سے کرتا ہوں، وہ یہ ہے کہ میں اپنے بچوں کے بچوں کے لیے کھانا بناتا ہوں۔ کبھی دوپہر کو اور کبھی رات کو، یہ سرگرمی میں بہت خوش دلی سے انجام دیتا ہوں۔ مصوری کرتے ہوئے موسیقی بھی سنتا ہوں، اس سے دل بہت اچھی طرح کام میں لگا رہتا ہے۔ میں زیادہ تر روشن آرا بیگم اور ہیرا بائی کو سنتا ہوں، یہ دونوں سنگیت رتن کا خطاب پانے والے کلاسیکی موسیقی کے معروف استاد عبدالکریم خان کی شاگرد تھیں۔ مرزا اسداللہ خاں غالب نے کہا تھا

جاتے ہوئے کہتے ہو قیامت کو ملیں گے

کیا خوب قیامت کا ہے گویا کوئی دن اور

تو ’گویا قیامت کا دن ہے کوئی اور‘ یہی شعر اس وقت ہمارے لیے بلکہ پوری دنیا کے لیے حسبِ حال ہے۔ ایک وائرس نے کھانسی اور بخار کے ذریعے پوری دنیا کو روک دیا ہے، یہ الگ بات ہے کہ ہم اس بات پر فخر کرتے رہیں کہ انسان نے چاند کو تسخیر کرلیا اور مریخ پر پہنچ گیا۔ لہٰذا یہ قیامت جیسا ہی دور ہے جس سے ہم اس وقت گزر رہے ہیں کہ دنیا کئی دنوں سے رُکی ہوئی سی ہے۔‘

حسینہ معین

دھیمے اور شیریں لہجے میں بات کرنے والی شخصیت حسینہ معین نہ صرف پاکستان کی رجحان ساز ڈراما نگار ہیں بلکہ ایسی قلم کار ہیں جنہوں نے بہت سارے اصنافِ سخن میں اپنی تخلیقی صلاحیتوں کے ہنر کو ثابت کیا ہے۔ ان کی سادہ دلی اور خوش مزاجی روایت اور تہذیب کی تمثیل ہے۔ ان دنوں جبری فرصت کے تناظر میں ہم نے جب ان سے دریافت کیا کہ ان کی کیا مصروفیات ہیں تو انہوں نے سادہ لیکن اہم ترین نکات پر بات کی، وہ کچھ یوں ہیں۔

’میرے ذمے ایک کام بہت عرصے سے تھا، جس کو کرنے کی فرصت نہیں مل رہی تھی اس لیے سب سے پہلے اس فراغت میں وہ شروع کیا۔ وہ کام ہے میری ’خودنوشت‘ جو بہت جلد کتابی صورت میں شائع ہوگی۔ میری ناشر کب سے مجھے کہہ رہی تھیں اور آخرکار میں نے اس اہم کام کی ابتدا کرلی ہے۔ ان دنوں میں تھوڑا تھوڑا کرکے اس کو لکھ رہی ہوں، اس بہانے سے میں اپنے ماضی میں دوبارہ محوِ سفر ہوں۔ اس کے ساتھ ساتھ میں سابق امریکی صدر بارک اوباما کی اہلیہ ’مشال اوباما‘ کی سوانح عمری بھی پڑھ رہی ہوں جو بہت ہی دلچسپ ہے۔

پھر میں ایک فلم بھی لکھ رہی ہوں، جس کو کافی حد تک لکھ چکی ہوں اور عنقریب یہ تحریری کام بھی پایہ تکمیل کو پہنچے گا۔ اس کی مزید تفصیلات ابھی نہیں بتاسکتی۔ پھر میں گھر میں یہ سارے کام کرنے کے دوران موسیقی سے بھی لطف اندوز ہوتی ہوں۔ مجھے غزل گائیکی بہت پسند ہے اس لیے غزل میں جتنے نمایاں گلوکار یا گلوکارائیں ہیں ان سب کو سنتی ہوں۔ نیم کلاسیکی موسیقی سے میرا پرانا تعلق ہے جو آج بھی برقرار ہے۔ ان دنوں میں ایک ترکی کی ڈراما سیریل ’اَرلی برڈ‘ اپنی بھتیجی کے کہنے پر دیکھ رہی ہوں اور مجھے اس کو دیکھنے میں بھی لطف آرہا ہے۔ سوشل میڈیا کا استعمال مجھے آتا نہیں البتہ مجھے کوئی سمجھا دے تو کچھ نہ کچھ استفادہ کرلیتی ہوں۔ بس یہی دعا ہے کہ حالات جلد از جلد معمول پر آجائیں تاکہ دنیا کے کام دوبارہ ویسے ہی رواں دواں ہوجائیں، جیسے اس کورونا کی وبا سے پہلے تھے۔‘

محمد حنیف

عالمی ادب میں جنوبی ایشیائی ادیبوں نے ایک دو دہائیوں میں بہت شہرت کمائی ہے، جن میں خاص طور پر پاکستان اور ہندوستان کے بہت سارے ادیب بالخصوص ناول نگار شامل ہیں۔ ان سب میں ایک بات یہ بھی مشترک ہے کہ یہ انگریزی میں ادب تخلیق کرتے ہیں۔ پاکستان سے ان ادیبوں میں ایک معروف ادیب ’محمد حنیف‘ بھی ہیں جو بطور صحافی بی بی سی اردو سروس سے بھی وابستہ ہیں۔ بی بی سی اور نیویارک ٹائمز کے لیے کالم لکھنے کے علاوہ بی بی سی اردو اور پنجابی کے لیے ویڈیو لاگ بھی تخلیق کرتے ہیں۔ اب تک وہ 4 ناول، 2 تھیٹر کے ڈرامے اور ایک فلم لکھ چکے ہیں۔ اپنے نئے ناول پر بھی کام کر رہے ہیں، ہم نے اس موقع پر ان سے کچھ مکالمہ کیا جو آپ کی نذر ہے، جس میں وہ اپنے خیالات کا اظہار کچھ یوں کر رہے ہیں۔

’کورونا وبا کی وجہ سے ملنے والی اس جبری فرصت میں حسبِ معمول سوائے اپنے پیشہ ورانہ کاموں کے کوئی خاص کام نہیں کر رہا کیونکہ مزدوری بھی تو کرنی ہے۔ میرا بیٹا چھوٹا ہے، اس کے ساتھ کھیلنے کودنے اور اس کو کھلانے پلانے میں وقت اچھا گزر جاتا ہے۔ پھر اگر اضافی فرصت مل جائے تو میں کچھ کھانا پکانا بھی کرلیتا ہوں، چپاتی سب سے زیادہ بہتر پکا لیتا ہوں۔ نیا ناول بھی لکھ رہا ہوں البتہ ان دنوں اس کو لکھنے کا زیادہ دل نہیں چاہ رہا اس لیے ادھورا چھوڑ رکھا ہے۔ اس کا فی الحال کوئی نام بھی طے نہیں کیا ہے۔

محمد حنیف

'ان سب کاموں کے ساتھ ساتھ میری ایک مصروفیت تدریسی نوعیت کی بھی ہے۔ میں ایک نجی جامعہ میں پڑھاتا بھی ہوں اس لیے کچھ ہفتے تو آن لائن کلاسز میں بھی مصروف گزرے، لیکن اب یہ مصروفیت بھی ختم ہوچکی کیونکہ گرمیوں کی چھٹیاں طلبہ کو قبل از وقت دے دی گئی ہیں۔ میرا زیادہ وقت اب گھر کے کاموں میں یا تخلیقی کاموں میں گزر رہا ہے۔ بس جیسا بھی وقت کٹ رہا ہے، ٹھیک ہے، میں اس سے مطمئن ہوں۔‘

اصغر ندیم سید

پاکستان کے معروف ادیبوں اور ڈراما نگاروں میں ایک مقبول نام اصغر ندیم سید کا ہے۔ وہ ادب تخلیق کرنے کے علاوہ شاعری بھی کرتے ہیں اور تدریس کے شعبے میں بھی فعال ہیں۔

نوجوان قلم کاروں کی بہت حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ شاید یہ واحد لکھاری ہیں، جنہوں نے راقم الحروف کی لکھی ہوئی کافی تلخ ادبی تحریروں کو پسند کیا کیونکہ ان کے خیال میں معاشرے سے تنقید کا شعبہ ختم ہوچکا ہے اور تنقید ہی کسی شعبے کی درستگی کا کام کرتی ہے لیکن اب چونکہ یہ کام نہیں ہو رہا تو وہ تنقید برائے اصلاح کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ جب یہ دریافت کیا کہ ان دنوں وہ کیا کر رہے ہیں تو اس پر انہوں نے فرمایا کہ،

’جب سے جبری فرصت کے تحت گھروں میں محدود ہونا پڑا تو بہت سارے کام ایسے تھے، جن کے کرنے میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ مثال کے طور پر میں جس نجی جامعہ میں پڑھاتا ہوں، وہاں کی کلاسز جامعہ سے گھر منتقل ہوگئیں یعنی میں نے ہفتے میں 5، 5 دن آن لائن کلاسز میں طلبہ کو پڑھایا۔ میرے لکھنے پڑھنے اور پڑھانے میں دو تین ہی بنیادی موضوعات ہیں جن پر میں کام کرتا رہتا ہوں، ان میں ادب اور سینما سرِفہرست ہیں، بلکہ اس حوالے سے تمہاری جو تحقیق سینما پر ہے، وہ بھی مجھے بہت پسند ہے۔

'ان مصروفیات کے علاوہ میں اپنے نئے ناول پر کام کر رہا ہوں، اسے رواں برس ہی مکمل کرنا ہے اس لیے تیزی سے اس پر کام ہو رہا ہے۔ ابھی تک اس کا نام طے نہیں کیا لیکن بہت جلد اس بارے میں بھی قارئین جان سکیں گے۔ مجھے کھانے پکانے میں بھی دلچسپی ہے، مطالعہ بھی میری سرشت میں شامل ہے، عالمی سینما سے بھی مستفید ہوتا رہتا ہوں اس لیے جس کے پاس کرنے کو اتنے کام ہوں وہ پھر اکتاہٹ کا شکار نہیں ہوسکتا۔ ابھی ہمارے ایک ادیب اکرام اللہ کی سوانح عمری چھپ کر آئی ہے وہ پڑھ رہا ہوں۔ اس کا تعلق ملتان سے ہے، میں بھی چونکہ اسی شہر سے ہوں اس لیے اپنے آبائی شہر کے بارے میں پڑھنا اچھا لگتا ہے کیونکہ اس کو پڑھتے ہوئے آپ خود کو اس سے جوڑ بھی سکتے ہیں۔ پھر حسن منظر کا ایک ناول ’اے فلک انصاف‘ بھی زیرِ مطالعہ ہے اس لیے جبری فرصت یا تنہائی زیادہ پریشان نہیں کرتی کیونکہ ان کے علاوہ سوچنے کا کچھ موقع ہی نہیں ملتا ہے۔‘

نصیر ترابی

پاکستان کے موجودہ شعری و تنقیدی منظرنامے پر اس وقت ایک نامور اور مستند نام ’نصیر ترابی‘ کا ہے کیونکہ ان کے ہاں لفظ کو تسخیر کرنے کی جو روایت ہے، وہ اتنی مستند اور حیران کردینے والی ہے کہ یقین نہیں آتا کہ ہم نے جس لفظ کو برتا، اس کی معنویت میں اتنی منفرد جہتیں بھی ہوسکتی ہیں۔

اسی طرح پھر لسانیات اور لفظیات کے معاملے میں بھی ان کی خدمات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں۔ حرف کو پرکھنے کی خداداد صلاحیت رکھنے والے اس شاعر بے بدل کے ہاں تخلیق کی سچائی بدرجہ اُتم موجود ہے اور پھر روایتی لہجہ بھی ان کا خاصہ ہے کہ جو ہمارے ہاں اب مفقود ہوتا جا رہا ہے۔

ان کے 2 شعری مجموعے ’عکسِ فریادی‘ اور ’لاریب‘ ہیں جبکہ لسانیات کے لحاظ سے 2 اہم کتابیں ’شعریات‘ اور ’لغت العوام‘ ہیں۔ ان کی لکھی ہوئی غزل جو مشہورِ زمانہ بھی ہے ’وہ ہمسفر تھا مگر اس سے ہمنوائی نہ تھی‘ ثابت ہوئی۔ عابدہ پروین سمیت کئی نامور شخصیات کے لیے یہ استاد کا درجہ رکھتے ہیں۔ راقم کی ان سے ایک نیاز مندی ہے، جس کی وجہ سے رسائی حاصل ہوجاتی ہے ورنہ ان کی نشست و برخاست محدود ہے۔ اس موقعے پر ہم نے ان سے جو گفتگو کی اس کا متن پیشِ خدمت ہے۔

نصیر ترابی—پبلسٹی فوٹو
نصیر ترابی—پبلسٹی فوٹو

’ان دنوں میں کلامِ غالب کی شرح لکھ رہا ہوں ہرچند کہ اس سے پہلے کئی سکہ بند اساتذہ کی شرحیں موجود ہیں، جنہوں نے غالب پر بطور شارح کام کیا لیکن ان شرحوں میں مسئلہ یہ ہے کہ انہوں نے غالب کے کلام کی تشریح کرتے ہوئے یوں کہا ’اس نے اپنے فلاں شعر میں یہ لفظ یوں لکھا ہے اگر اس کو وہ ایسے کے بجائے ویسے لکھتا تو زیادہ اچھا ہوتا‘۔ اب شارح کا کام اصلاح کرنا نہیں ہوتا بلکہ اس کے کلام کی تشریح کرنا ہوتا ہے۔

'پرانی شرحوں میں ایک تو یہ مسئلہ ہے پھر جدید دور کے تقاضوں کو پوری کرتی ہوئی کوئی شرح موجود نہیں ہے جس میں ’جدید حسیت‘ موجود ہو، اس وجہ سے پرانا کام چونکہ یہ ضرورت پوری نہیں کر رہا تو تشنگی برقرار ہے۔ اسی تناظر میں تیسری بات کچھ یوں ہے کہ غالب کے بہت سارے مشکل اشعار جن کو برتا بھی کم گیا، میں نے انہیں فی الحال روک دیا اور اس شرح میں شامل نہیں کیا اور صرف انہی اشعار کو شامل کر رہا ہوں جو بہت مقبول ہیں۔ اس میں بھی مسئلہ یہ ہے، ان مقبول اشعار میں بھی تشریح ٹھیک سے نہیں ہوئی، اس لیے میں ان تمام پہلوؤں سے کام کر رہا ہوں جو اس تشنگی کو دُور کریں کیونکہ غالب کے اشعار میں تہہ داری ہے، وہ تہہ دار اور استعارہ کی زبان استعمال کرنے والا شاعر ہے۔ اس کے اشعار بظاہر سامنے کے معانی پیش کر رہے ہوتے ہیں لیکن درحقیقت وہ تہہ دار ہوتے ہیں اور ان کے مفہوم کی تشریح بھی اسی طرح تہہ در تہہ ہوتی ہے۔ پھر غالب کے کئی واقعات یا معاملات ایسے بھی ہیں جن کو پرکھنے کی ضرورت ہے، جس طرح غالب نے مومن کے اس شعر کو پسند کیا

تم مرے پاس ہوتے ہو گویا

جب کوئی دوسرا نہیں ہوتا

'غالب نے اس شعر کے بدلے اپنا پورا دیوان مومن کو دینے کی بات کی لیکن تہہ داری کا معاملہ ذہن میں رکھیں تو اس بات کی معنویت کی پہلی تہہ میں تو وہ اپنی اس خواہش کا اظہار کر رہا ہے لیکن دوسری تہہ میں وہ مومن کے ساتھ شرارت کر رہا ہے، وہ کہہ یہ رہا ہے کہ ’تم نے پوری زندگی میں ایک شعر ہی کام کا کہا۔ ‘غالب نے پھر اسی شعر کی پسندیدگی کو اپنے ہاں ایک شعر میں دوسری طرح برتا، جس میں فرمایا

ہے آدمی بجائے خود اک محشر خیال

ہم انجمن سمجھتے ہیں خلوت ہی کیوں نہ ہو

'اب غالب نے یہاں مومن کے شعری خیال سے متاثر ہوکر ایک منفرد انداز میں شعر تخلیق کیا اور اپنے اس شعر میں نیوٹن کے فلسفہ کششِ ثقل کو بھی شامل کردیا کیونکہ وہ اب اس میں کہہ رہا ہے کہ تنہائی میں یہ راز اس پر افشاں ہوا، خیال کی کشش اصل معاملہ ہے، وگرنہ اس میں ہماری سمجھ تو کچھ بھی نہیں۔ جس کو ہم محفل سمجھ رہے ہیں ہوسکتا ہے کہ وہ بھی تنہائی ہی ہو تو اس طرح نیوٹن کے فلسفے کی مدد سے مومن کے خیال کو پلٹ دیا۔ یہ بھی شرح کا ایک انداز ہے، تو میں اس طرح سے مختلف جہتوں کو سامنے رکھتے ہوئے ’جدید ادبی حسیت‘ سے مزین مرزا غالب کے کلام کی شرح لکھ رہا ہوں۔ ایسے کام میں جبری فرصت کا خیال تک نہیں رہتا کیونکہ ایسے کام میں آپ ذہنی طور پر پوری طرح مصروف رہتے ہیں اور توجہ صرف اپنے کام پر ہوتی ہے‘۔