Dawn News Television Logo

مریم نواز سے متعلق بیان پر عمران خان کو شدید تنقید کا سامنا

سابق وزیر اعظم نے گزشتہ شب ایک جلسے میں مریم نواز کے حوالے سے نامناسب بات کہی تھی۔
اپ ڈیٹ 21 مئ 2022 06:05pm

سابق وزیر اعظم اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان کی جانب سے گزشتہ شب ایک جلسے میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز کے لیے کہی گئی بات پر انہیں تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

عمران خان نے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہیں کسی نے مریم نواز کی تقریر کا کلپ بھیجا، جس میں وہ بار بار ان کا نام لے رہی ہیں۔

ساتھ ہی عمران خان نے مریم نواز کو مخاطب ہوتے ہوئے کہا تھا کہ ’مریم دیکھو، تھوڑا دھیان کرو، تمہارا خاوند ہی ناراض نہ ہوجائے، جس طرح تم اتنے جذبے سے میرا نام لیتی ہو‘۔

عمران خان کی مذکورہ ویڈیو کلپ سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی اور وزیر اعظم شہباز شریف اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری سمیت اہم سیاسی و سماجی شخصیات نے پی ٹی آئی چیئرمین کے بیان کی مذمت کی۔

صحافی نائلہ عنایت نے عمران خان کی تقریر کی کلپ شیئر کرتے ہوئے انہیں شرم سے خالی انسان قرار دیا۔

وزیر اعظم شہباز شریف نے بھی عمران خان کے بیان کی مذمت کرتے ہوئے لوگوں سے بھی اپیل کی کہ وہ بھی پی ٹی آئی چیئرمین کے جملوں پر انہیں تنقید کا نشانہ بنائیں۔

شہباز شریف نے اپنی ٹوئٹ میں لکھا کہ ’بیٹی مریم نواز شریف کے خلاف قابل افسوس زبان درازی پر پوری قوم خاص طور پر خواتین پرزور مذمت کریں‘

وزیر اعظم نے مزید لکھ اکہ’ کم ظرفی کے اظہار سے ملک وقوم کے خلاف آپ کے جرائم چھپ نہیں سکتے۔ مسجد نبوی کی حرمت و ناموس کا پاس نہ کرنے والوں سے ماؤں، بہنوں، بیٹیوں کی عزت وتکریم کی کیا توقع ہوسکتی ہے‘۔

سابق صدر اور پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے بھی عمران خان کے بیان کی مذمت کی اور پی پی کے ٹوئٹر ہینڈل سے ان کے جاری بیان میں لکھا گیا کہ ’جن عزت داروں کے گھروں میں مائیں بہنیں ہوں، وہ اس طرح کی زبان نہیں استعمال کرتے‘۔ ساتھ ہی انہوں التجا کی کہ خدارا سیاست میں اتنے نیچے نہ گریں۔

وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے بھی عمران خان کے بیان پر اظہار افسوس کیا۔

انہوں نے اپنی ٹوئٹ میں لکھا کہ ’ہم پاکستان کی ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کو اسی شر سے بچانے کی جدوجہد کر رہے ہیں۔ یہ وہی ہے جو خاتون صحافیوں کو لفافے کہہ کر خاموش کرانا چاہتا ہے‘

مریم اورنگزیب نے مزید لکھا کہ خواتین کے لباس کو جرم کی وجہ قرار دینے والا اپنی خرافات سے سیاسی مد مقابل خاتون کو ڈرانے کی ناکام کوشش کر رہاہے

انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے بھی عمران خان کے بیان کی مذمت کی اور ان کے جملوں کا ناقابل قبول قرار دیا۔

ایچ آر سی پی نے اپنے بیان میں عمران خان کو نہ صرف مریم نواز شریف بلکہ ملک کی تمام خواتین سے بھی معافی مانگنی چاہیے۔

تنظیم نے اپنے بیان میں لکھا کہ عمران خان ایک ملکی سطح کے سیاسی رہنما ہیں اور انہیں انداز گفتگو آنا چاہیے۔

سماجی رہنما نگہت داد نے بھی عمران خان کے بیان کی مذمت کرتے ہوئے ان سے فوری طور پر اپنا بیان واپس لینے اور معافی مانگنے کا مطالبہ بھی کیا۔

انہوں نے اپنی ٹوئٹ میں لکھا کہ ’ایک عورت سیاست دان کا مقابلہ سیاسی مکالمے سے کریں یہ آپکی اخلاقی ذہنی پستی ہے کہ عورت سیاست دان کی آپ پہ تنقید کا مطلب یہ ہے کہ وہ آپ میں دلچسپی رکھتی ہے یہی سطحی سوچ ہے جو ابھی تک اس معاشرے میں عورتوں کو برابری کی جگہ نہی دے سکی اور اسکا ثبوت عوام کی بجائی جانے والی تالیاں ہیں۔

انہوں نے ایک اور ٹوئٹ میں عمران خان سے اپنے بیان پر معافی مانگنے کا مطالبہ بھی کیا۔

صحافی مبشر زیدی نے بھی عمران خان کی تقریر کا اسکرین شاٹ شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ’اس ملک میں مردوں کا آخری ہتھیار عورت کی تذلیل کرنا ہے چاہے وہ کسی بھی شعبے میں ہو‘

صحافی بینظیر شاہ نے عمران خان کے بیان کی مذمت کرتے ہوئے لکھا کہ ان کا بیان نہ صرف خطرناک ہے بلکہ وہ بیان سے دیگر مرد حضرات اور لڑکوں کو یہ پیغام بھی دے رہے ہیں کہ خواتین کی ذاتیات پر تنقید کرنا جائز ہوتی ہے۔