پاکستان

موسم گرما میں پاکستان کی سیر

تو بیرون ملک ویزوں کے چکر میں لگ کر قیمتی پیسہ کیوں ضائع کرتے ہیں، جبکہ پاکستان میں بہترین تعطیلاتی مراکز کی کمی نہیں۔

موسم گرما میں پاکستان کی سیر


سانسیں روک دینے والی قدرتی خوبصورتی جیسے برف سے ڈھکی چوٹیاں، سرسبز سبزہ زار، بنجر چٹانیں اور چکردار پہاڑیاں، جنگلات، زرحیر میدان، دریا، صحرا اور ساحلی علاقے، غرض ہمارا ملک کسی جنت سے کم نہیں۔ یہاں تاریخی یادگاریں بھی موجود ہیں اور ایسے مقامات کی بھی کمی نہیں جو تفریح، تحقیق اور ماحولیاتی سیاحت کے بہترین مواقع فراہم کرتے ہیں۔

اب موسم گرما کا زمانہ ہے اور چھٹیاں بھی ہیں تو بیرون ملک ویزوں کے چکر میں لگ کر قیمتی پیسہ کیوں ضائع کرتے ہیں، جبکہ پاکستان میں متعدد اقسام کے بہترین تعطیلاتی مراکز کی کمی نہیں۔


گورکھ کی چوٹی


عامر ریاض سومرو

برفباری اور سندھ میں ؟ سننے میں تو یہ کافی افسانوی سا لگے گا مگر اس صوبے میں ایک مقام ایسا ہے جہاں موسم سرما میں حقیقت میں برف گرتی ہے، 2008ءمیں تو یہاں کی تمام پہاڑیاں ہی برف کی تہہ سے ڈھک گئی تھیں۔

گورکھ ہل سطح سمندر سے 5688 فٹ بلند ایک دلکش مقام ہے اور یہ کیرتھر پہاڑی سلسلے کا حصہ ہے جس نے مغرب سے سندھ کی سرحد کو بلوچستان سے ملا رکھا ہے۔ یہ مقام ان افراد کو اپنی جانب کھینچتا ہے جو پہاڑوں، بلند ہموار مقامات اور جانور و پودوں کو سراہتے ہو، اس کا موازنہ شمال میں مری اور جنوب مغرب میں زیارت سے کیا جاسکتا ہے کیونکہ یہاں کی سانس روک دینے اور سحر طاری کردینے والی خوبصورت دنیا کے تمام غموں کو بھلانے کے لیے کافی ہے۔

مگر یہاں بہت کم سیاح آتے ہیں کیوں؟ کیونکہ گورکھ ہل کا سفر کافی مشکل ہے اور خطرناک بھی، صرف 4 بائی فور کی جیپ ہی اوپر لے جاسکتی ہے اور ڈھلوان شاہراہ پر ایسے متعدد خطرناک مقامات ہیں جہاں سے ایک ماہر ڈرائیور ہی گزر سکتا ہے۔

کراچی سے گورکھ ہل کی بلندی تک پہنچنے کی مسافت 423 کلومیٹر ہے ، جس کو طے کرنے میں آٹھ گھنٹے لگ جاتے ہیں جس کی وجہ سڑکوں کی خراب حالات، خاص طور پر پر اس روٹ کے سب سے آخری اہم قصبے جوہی سے واہی پنڈہی تک جو گورکھ ہل سے پہلے آخری گاﺅں ہے۔

یہ ناہموار سنگل روڈ آپ کو ایسے خشک موسمی برساتی چشموں کی جانب لے جائے گا جسے سندھی میں نائی کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ دونوں اطراف سیاہ چٹانیں واقع ہیں جن میں پہاڑی لوگوں چھوٹی چھوٹی بستیاں آباد ہیں۔ مختلف اقسام کے پودے اور جھاڑیاں بھی اس راستے پر دیکھی جاسکتی ہیں۔

کراچی یونیورسٹی کے بوٹنی ڈیپارٹمنٹ کی ایک تحقیق کے مطابق 74 اقسام کے پودے 62 اجناس اور 34 خاندانوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔

جیسے جیسے آپ ہل اسٹیشن کے قریب پہنچتے ہیں ہر گزرتی پہاڑی آپ کو پہلے سے زیادہ لمبی لگتی ہے۔ ہر پہاڑی کی چوٹی پر ایک پوائنٹ موجود ہے جسے مقامی ڈرائیور پنجی تریح (سندھی زبان میں 35) کہتے ہیں، کیونکہ یہ واہی پنڈی سے 35 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے، یہاں فائبرگلاس کے شیڈز کے نیچے بینچوں کے پاس عام طور پر ڈرائیورز روک کر تازہ دم ہوتے ہیں اور اپنی گاڑیوں کو کو چیک کرتے ہیں کیونکہ اس پوائنٹ کے بعد سے بلندی کی جانب چکردار سفر شروع ہوجاتا ہے۔

یہ خطرناک راستہ دیکھنے میں کسی بڑے سانپ کی طرح لگتا ہے جو پہاڑی کی طرف جارہا ہو۔

ہمارے ڈرائیور کم گائیڈ علی اکبر سومرو نے دھند کے باوجود نظر آنے والی آخری پہاڑی کی جانب انگلی کے اشارے کرتے ہوئے کہنا تھا کہ " ہم یہاں سے اوپر چڑھیں گے اور اس پوائنٹ سے اس پہاڑی پر جائیں گے"۔

اس نے مزید بتایا " یہاں سے چار کلومیٹر کی دوری پر آپ خیوال لاک پہنچ جائیں گے جو کہ ہمارے سفر کا سب سے مشکل مرحلہ ہوا، اس کے بعد راستہ نسبتاً آسان ہوگا"۔

یہاں تک کہ ماہر ڈرائیورز بھی خیوال لاک سے خوفزدہ ہوجاتے ہیں کیونکہ یہاں سے اوپر جاتے ہوئے ٹریک پر چار خطرناک خم کھائے موڑ ہیں، جب یہاں کوئی باقاعدہ شاہراہ نہیں تھی تو لوگ اکثر گاڑی سے اتر کر پیدل ہی اوپر روانہ ہوجاتے تھے اور گاڑی گزارنے کا خطرہ اکیلے ڈرائیور کو اٹھانا پڑتا تھا۔

ایک بار جب آپ یہان سے گزر جاتے ہیں اور بلند بڑھ جاتی ہے تو درجہ حرارت میں اچانک تبدیلی محسوس ہوتی ہے جبکہ پودوں اور جھاڑیوں کی اقسام بھی مختلف ہوجاتی ہیں، یہاں کا عام پودا پیش ہے جو کھجور کے چھوٹے درختوں کی ایک قسم ہے، جسے رسیاں، چٹائیاں اور دیگر اشیاءکی تیاری کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

یہاں لومڑیاں اور سندھی پہاڑی بکرے بھی عام ہیں، ایک وقت تھا جب بھیڑیئے اور شیر بھی یہاں پائے جاتے تھے مگر اب تو بے تحاشہ شکار کے باعث سندھی پہاڑی بکروں کی نسل بھی خطرے کی زد میں ہے۔

گورکھ کے چوٹی سے چار سے چھ کلومیٹر پہلے ایک قدرتی جھیل موجود ہے جس مقامی زبان میں ہینگر کہا جاتا ہے، جو کہ گورکھ ہل کے پورے علاقے میں پانی کے حصول کا اہم ترین ذریعہ ہے اور حکومت نے مختلف مقامات پر موٹر پمپس اور ٹینکس کی تنصیب کے ذریعے چوٹی تک پانی کی فراہمی کا اطمینان بخش انتظامات کئے ہیں۔


یہاں کا منظر سانسیں روک دیتا ہے، جبکہ ہر طرف موجود چھوٹی بڑی پہاڑی چوٹیاں اور ہل ٹاپ پر سرسز میدان کا نظارہ سحر سا طاری کردیتا ہے۔


گورکھ ہل کی خوبصورتی دیکھ کر تو ایک لمحے کے لیے آپ بھول ہی جائیں کہ آپ سندھ میں ہیں، کیونکہ یہاں کا موسم میدانی علاقوں سے بالکل مختلف ہے، جون جولائی یہاں جانے کے لیے بہترین وقت ہے، جبکہ موسم سرما میں دسمبر اور جنوری بہترین مہینے ہیں، جب یہاں بہت زیادہ سردی ہوتی ہے، رات کو درجہ حرارت صفر سے نیچے جانے کے بعد پانی بھی جم جاتا ہے۔

مقامی افراد مشورہ دیتے ہیں کہ سرما میں چوٹی تک نہیں جانا چاہئے، یہاں تک کہ گورکھ کے مختلف حصوں میں مقیم قبائل بھی سردیوں کا وقت میدانوں میں گزارتے ہیں۔

ایک بار جب آپ چوٹی پر پہنچ جائیں گے تو چھوٹی اور بڑی پہاڑی چوٹیوں کو دیکھ سکتے ہیں اور آپ کی آنکھوں سے سامنے تیرے بادل یہ احساس دلانے کے لیے کافی ثابت ہوتے ہیں آپ خود بھی آسمان میں تیر رہے ہیں۔ ہل اسٹیشن کی مشرقی سمت میں جوہی واقع ہے، مغرب میں اس کی سرحدیں بلوچستان کے ضلع خضدار سے ملتی ہیں۔

یہاں کے سطح مرتفع کا وسیع علاقہ اسے مری کا سخت حریف بناتا ہے، تاہم یہاں سیاحوں کی سہولیات کے لیے ہوٹلوں اور ریسٹ ہاﺅسز وغیرہ تعمیر کئے جانے کی ضرورت ہے۔

اس علاقے کو ترقی دینے کی ضرورت ہے، اس وقت کافی کام ہوبھی رہا ہے۔ فائبر گلاس شیڈز اور بنچیں چوٹی کے چار مختلف مقامات پر لگے ہوئے ہیں، اس کے ساتھ ساتھ حکومت نے سیاحوں کے قیام کے لیے ایک ریسٹ ہاﺅس تعمیر کرایا ہے، ایک فائیو اسٹار ہوٹل زیرتعمیر ہے، جبکہ وی آئی پیز کے لیے ایک چھوٹے ریسٹ ہاﺅس کی تعمیر کی بھی منصوبہ بندی کی جارہی ہے، حکومتی عہدیداران کے لیے ایک ہیلی پیڈ بھی تعمیر کیا جائے گا۔

مقامی میڈیا میں کوریج کے باعچ یہاں سیاحوں کی آمد میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے، ہمارے گائیڈ علی اکبر سومرو نے بتایا کہ بڑھتی طلب کے باعث جوہی کے مقامی ڈرائیور ایک ہفتے میں تین سے چار ٹرپ ہل اسٹیشن کے بیس کیمپ تک لگالیتے ہیں۔

اس نے مزید کہا " سیاح کراچی سمیت سندھ کے تمام علاقوں سے آتے ہیں، یہاں ملک کے دیگر حصوں سے بھی لوگ آتے ہیں، یہ اکثر ایسے دوستوں کے گروپس ہوتے ہیں جو میڈیا یا انٹرنیٹ پر گورکھ ہل کے بارے میں کچھ پڑھ کر یہاں کا رخ کرتے ہیں"۔

یہ پورا خطہ ماحولیاتی اور آثار قدیمہ کے لحاظ سے بہت اہم ہے، یہاں ایسی سینکڑوں قدیم جگہیں موجود ہیں جن میں خوبصورت قدرتی جھرنوں کے ساتھ ماقبل تاریخ کے غار، فوسلز، بدھ مت کے اسٹوپا، پرانے قلعے، اور مندر وغیرہ قابل ذکر ہیں۔

کچھو اور کوہستان کے علاقے ان آثار قدیمہ کے گھر سمجھے جاسکتے ہیں، جہاں ماہرین آثار قدیمہ اور تحقیق کی غرض سے آنے والے افراد نے غیر رسمی سیاحت کو فروغ دیا ہے، تاہم اس حوالے سے حکومت کا قابل قدر تعاون نظر نہیں آتا۔

حکومتوں کی جانب سے ہل اسٹیشن کی ترقی کے لیے فنڈز مختص کئے جانے اور گورکھ ہل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے قیام کے باوجود ہل اسٹیشن کی ترقی کے لیے کوئی سنجیدہ کوششیں نہیں کی گئیں۔

مقامی افراد کو بھی بنیادی سہولیات جیسے تعلیم، بنیادی انفراسٹرکچر، طبی امداد وغیرہ کی کمی کے باعث متعدد مشکلات کا سامنا ہے۔ کسی میڈیکل ایمرجنسی کی صورت میں انہیں واہی پنڈھی جانا پڑتا ہے، مقامی افراد اپنے بچوں کے لیے اسکولوں کی تعمیر کا مطالبہ بھی کرتے ہیں۔

پانی اور سڑکوں کی تعمیر سے ہٹ کر ہل اسٹیشن کے لیے دیگر سہولیات میں قدرتی گیس کی فراہمی، موبائل فون ٹاورز، ریسٹورنٹس، ہوٹلز اور چیئرلفٹز وغیرہ کی فراہمی پر غور ہونا چاہئے۔

گورکھ ایک کامیاب ہل اسٹیشن بن کر ہزاروں سیاحوں کو اپنی جانب کھینچ کر حکومت کے لیے آمدنی اور مقامی افراد کے لیے روزگار کے مواقع فراہم کرنے کا سبب بن سکتا ہے۔

اس خطے کے لوگ کافی خاموش فطرت ہیں اور یہاں ایک گائیڈ اور چار بائی چار گاڑیوں کو جوہی یا واہی پنڈھی میں کم کرائے میں تلاش کرنا آسان ہے، آپ اپنے ساتھ ڈبہ بند خوراک بھی لے جاسکتے ہیں یا پہاڑی پر اپنا کھانا خود بھی پکا سکتے ہیں۔

گورکھ ہل کا سفر ایک یادگار تجربہ اور سنسنی خیز ایڈونچر ہے، اور جن کو اس بات پر شک ہو وہ خود اس کا تجربہ کرکے دیکھیں۔ یہاں کے پہاڑیوں کی خوبصورتی آپ کی منتظر ہے۔


لیک ڈسٹرکٹ


خیبرپختونخواہ کے مشرقی حصے میں واقع وادی کاغان قدرتی وسائل، ناقابل یقین خوبصورت مناظر اور جسم میں سنسنی دوڑا دینے والی جھیلیں مختلف شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے ہزاروں سیاحوں کو اپنی جانب کھینچتے ہیں۔ یہاں کے مقامی افراد موسم گرما میں اپنے مویشیوں کے ہمراہ پہاڑوں کے اوپر چلے جاتے ہیں اور سردیوں میں واپس نیچے آجاتے ہیں۔

بیشتر خاندانوں نے روایتی میدانوں میں موسم گرما کے لیے چھوٹے گھر تعمیر کررکھے ہیں، ہزاروں کی تعداد میں ان کے مویشی موسم سرما میں خیبرپختونخواہ اور پنجاب کے میدان میں چرتے نظر آتے ہیں جبکہ گرمیوں میں کاغان انکا ٹھکانہ ہوتا ہے۔

قریبی پانیوں کے جھرنوں سے وجود میں آنے والی لولوسر جھیل، جھیل دودی پت سر، سیف الملوک جھیل اور آنسو جھیل ضلع مانسہرہ کے علاقے ناران میں تازہ پانی کی سب سے بڑی جھیلیں ہیں، یہ سب سیاحوں کی بڑی تعداد کو اپنی جانب کھینچتی ہیں۔

لولوسر جھیل مانسہرہ سے ساڑھے تین سو کلومیٹر دور واقع ہے، ناران چلاس روڈ پر 3353 میٹر بلندی پر واقع لولوسر جھیل ناران کے قصبے سے ایک گھنٹے کی مسافت پر وادی کاغان اور کوہستان کی سرحد پر واقع ہے۔ اس جھیل پر ہر سال روس سے آنے والے پرندے اور سیاح بڑی تعداد میں آتے ہیں۔


دودی پت سرڈیوپٹ کشمیر اور کاغان کی وادیوں کی سرحد پر واقع سب سے خوبصورت جھیل ہے جو کہ ٹراﺅٹ مچھلی کی افزائش نسل کے لیے بھی اہم مقام سمجھی جاتی ہے۔


2003ءمیں لولوسر اور دودی پت سرجھیلوں کو لولوسر۔دودی پت نیشنل پارک قرار دیا گیا تھا، جس میں ضلع مانسہرہ کا تیس ہزار ایکڑ سے زائد کا علاقہ شامل تھا، جس کا مقصد اس علاقے کی انفرادیت اور حیاتیاتی تنوع کو تحفظ کرنا تھا۔

دودی پت جھیل وادی کاغان کے انتہائی شمل میں 4175 میٹر بلند پر واقع ہے اور یہاں ناران کے علاقے جل کھاڈ (Jalkhad) سے چار گھنٹے کا سفر کرکے پہنچا جاسکتا ہے۔

لولوسر جھیل کے علاقے کے دلدلی علاقے کا درجہ حرارت اور میدانوں کا درجہ حرارت زیادہ سے زیادہ 28 سے 30 سینٹی گریڈ تک ہوتا ہے، جبکہ دودی پت جھیل کا موسم کافی ٹھنڈا ہوتا ہے اور یہ منفی پانچ سے 20 سینٹی گریڈ تک ہوتا ہے۔بلند چوٹیاں سال کے بیشتر مہینے برف سے ڈھکی رہتی ہیں جبکہ سرسبز چراگاہوں پر خانہ بدوشوں کے مویشی نظر آتے ہیں۔

یہ علاقہ اپنے جادوئی منظر سیاحوں کو اپنے خیمے یہاں لگا کر قدرتی خوبصورتی اور تنہائی سے لطف اندوز ہونے پر مجبور کردیتا ہے، مقامی گائیڈز کی خدمات بھی حاصل کی جاسکتی ہیں۔


کوہ ہمالیہ کے مغربی پہاڑی سلسلے میں واقع دودی پت انفرادی کیساتھ ساتھ گروپس کی سطح پر دو روزہ ٹرپ کے لیے بہترین ہے۔


مانسہرہ کے قریب بالاکوٹ کا قصبہ وادی کاغان کا داخلی دروازہ بھی سمجھا جاتا ہے، لولوسر جھیل ایک سو اسی کلومیٹر لمبے دریائے کنٹر کے وجود میں آنے کا ایک اہم ذریعہ ہے، جو جنوب میں دریائے جہلم اور نیلم سے مل جاتا ہے، لیجنڈری جھیلوں سیف الملوک اور قریبی جھرنے وغیرہ بھی دریائے کنٹر کے غضب ناک پانیوں میں اضافہ کرتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ کنٹر کو مقامی زبان میں نین سکھ بھی کہا جاتا ہے جس کا مطلب ہے کہ وہ دکھتی آنکھوں کا علاج بھی کرسکتا ہے۔

بسال ناران بازار سے چالیس کلومیٹر دور واقع ہے جہاں لولوسر جھیل اور دودی پت جھیل ملتی ہیں، بسال سے ایک ہائیکنگ ٹریک کے ذریعے سیاح پانچ گھنٹے میں دودی پت جھیل تک پہنچ سکتے ہیں، آبشاریں اور سرسبز میدان اس ٹریک پر سفر کرنے والے سیاحوں کی خوشی کو بڑھا دیتےے ہیں۔

دودی پت سے نکلنے والا مرکزی نالہ بسال میں ہی دریائے کنٹر سے ملتا ہے، اس ہائیکنگ ٹریک کیساتھ چرواہے اپنے مویشیوں کو اوپر لیکر جاتے ہوئے نظر آتے ہیں۔

ان مقامات میں گھومنے پھرنے کے لیے آنے کا بہترین وقت جون کی وسط سے اگست کی وسط تک ہوتا ہے، جبکہ طرح طرح کے پودے اور پھول کھل کر اس علاقے کے قدرتی کارپٹ کا نظارہ پیش کرتے ہیں، گھوڑے اور پونیز بسال سے کرائے پر لیے جاسکتے ہیں۔

تاہم جو زیادہ چلنا پھرنا یا مشکل کا شکار نہ ہونا چاہتا ہو وہ جل کھاڈ سے نوری تک پندرہ کلو میٹر کے فاصلے کے لیے گاڑی بھی کرائے پر لے سکتا ہے، یہ آخری پوائنٹ ہے جہاں سے مسافروں کو دو گھنٹے کی ہائیک کرکے دودی پٹ کی جانب بڑھنا ہوتا ہے۔اس سفر کے دوران لہرئیے دار سرسبز میدان اور پہاڑوں کے مناظر تھکن طاری نہیں ہوتے دیتے اور پھر اچانک ہی ایک چڑھائی کو سر کرتے ہی جھیل کی پہلی دید نظر آتی ہے جو سانسیںروک دیتی ہے، زمرد جیسے سبز رنگ کے تازہ پانی کی دودی پت جھیل ٹراﺅٹ مچھلی کی وافر مقدار ہے۔

ناران سے نوری تک گاڑی کا آنے جانے کا کرایہ ساڑھے پانچ ہزار روپے ہے، تاہم اس سفر کے لیے بہترین کنڈیشن کی گاڑی اور باصلاحیت ڈرائیور کی ضرورت ہوتی ہے۔

لولوسر جھیل مین ناران چیلاس روڈ کے ساتھ واقع ہے جہاں بابوسر خیبرپختونخواہ کی حدود کا آخری علاقہ ہے، ناران سے جھیل تک آنے اور واپس جانے کے لیے گاڑی کا کرایہ ساڑھے چھ ہزار روپے ہے، جبکہ اس جھیل پر نجی ٹرانسپورٹ کے ذریعے بھی جایا جاسکتا ہے، یہاں ایک کھانے کا مقام بسال اور لولوسر کے درمیان واقع ہے جو اپنی دال کی وجہ سے معروف ہے۔ مقامی دستکاری ی مصنوعات، شالز، بیڈ شیٹس اور لکڑی کی نقش کاری سے سجی مصنوعات سمیت دیگر اشیاءکو ناران کے راستے پر خریدا جاسکتا ہے۔

پی ٹی ڈی سی موٹیل اور لینوکس، پائن ٹریک، کنڑ ویو ، ڈی مانچی اور گیٹ وے ان چند ہوٹلوں میں سے ایک ہیں جو معیاری رہائشی سہولیات کی پیشکش کرتے ہیں، تاہم سستے یا کم خرچ ہوٹل اور ریسٹورنٹس بھی یہاں موجود ہیں جو معقول کرائے کے عوض رہائش کی سہولت فراہم کرتے ہیں۔

شاندار سبزہ زار، شفا بخش پودے، جنگلی حیات، گلیشیئرز اور معتدل موسم اس پارک کے قدرتی کینوس کو مکمل کرتے ہیں، یہاں کا موسم خشک ہوتا ہے جبکہ سردیوں میں شدید برفباری پڑتی ہے۔ قدرتی خوبصورتی اور جھیلوں کی اہمیت جون سے اگست کے درمیان ہر سال سیاحوں کو اپنی جانب کھینچتی ہے، یہ تعلیمی اور تفریحی مقاصد کے لیے مثالی مقام مانے جاسکتے ہیں، جہاں شکار، فشنگ، کیمپنگ اور تحقیق وغیرہ جیسی سرگرمیوں کے مزے لوٹے جاسکتے ہیں۔

اگرچہ بیشتر سیاح اس علاقے کی قدرتی خوبصورتی تک ہی محدود رہتے ہیں، اس کے ساتھ ساتھ مقامی افراد اور سیاحوں کی جانب سے مچھلی، جنگل سے تیار کی جانے والی مصنوعات، پانی کے معیار کی دیکھ بھال سمیت دیگر اشیاءکی سپلائی پر توجہ نہیں دی جاتی۔ اس طرح کے مقامات پر معاشی سیاحت کے تصور کو اپنایا جاتا ہے جس کے ذریعے نہ صرف تفریحی ذرائع کا مستحکم بنیادوں پر استعمال کیا جاتا ہے بلکہ فطری خوبصورتی کو برقرار رکھنے کے لیے ماحولیات دوست رویئے کا اظہار بھی کیا جاتا ہے۔


جہاں مور اب بھی رقص کرتے ہیں


گوبن مینگور

جب بھی اور جہاں بھی ماحولیات پر بات ہوتی ہے ہم دیکھتے ہیں کہ لوگ افسوس کے ساتھ ملک میں جنگلات اور سرسبز علاقوں کے خاتمے پر افسوس کا اظہار کرتے ہیں، جس نے جنگلی حیات کی افزائش نسل کو متاثر کیا ہے، جبکہ سینکڑوں اقسام جانداروں کا خاتمہ ہوچکا ہے اور دیگر کو خطرہ لاحق ہے۔

یہ درست ہے کہ پاکستان خاص طور پر سندھ ایک زمانے میں دیگر ممالک سے آنے والے پرندوں اور لاتعداد اقسام کے جانوروں کا میزبان تھا، مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ جنگلات کی کٹائی پر پرانے فرسودہ قوانین کے باعث علاقوں کا خاتمہ اور شکار بنیادی وجوہات ہیں جنھوں نے ہمارے جنگلات کو نومینز لینڈ سے نو وائلڈ لائف لینڈ بنادیا۔

مگر ابھی بھی سب کچھ ختم نہیں ہوا، ابھی بھی ایسے مقامات موجود ہیں جو اپنی بقاءکے خطرے سے دوچار جانداروں کی میزبانی کررہے ہیں، ان میں سے ایک ضلع گھوٹکی کا صوفی انور شاہ سفارک پارک ہے۔

میرپور ماتھیلو کے قریب قومی شاہراہ پر ملک کے سب سے بڑے فرٹیلائزر یونٹس کے درمیان واقع سائنسی طور پر منظم اور آلات کے لحاظ سے بہترین صوفی انور شاہ پارک سندھ میں جنگلی حیات کے تاریک پڑتے منظرنامے میں کسی امید کی کرن سے کم نہیں۔

چوبیس سو ایکڑ سے زائد رقبے پر پھیلے اسے پارک کا قیام 2008ءمیں محکمہ جنگلات سندھ اور اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام کے اشتراک سے عمل میں آیا تھا، کئی برسوں سے یہ پارک اپنے مقصد یعنی جانوروں اور پودوں کی نسلوں کے تحفظ اور ماحولیاتی بہتری کے مقصد کے حصول پر کامیابی سے کام کررہا ہے، جبکہ اس کے ساتھ ساتھ یہ مقامی افراد کو تفریحی مواقعے بھی فراہم کررہا ہے۔


وائلڈ لائف کے تحفظ کے لیے مزید پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کی ضرورت ہے


پارک کے پراجیکٹ ڈائریکٹر اور آرکیٹیکٹ جاوید احمد کا کہنا ہے کہ یہاں موجود جانداروں کے تحفظ کے علاوہ ہم نے کئی جانور اور پرندے جیسے نیل گائے، چنکارہ، جنگلی سور، سیاہ ہرن، مور، گرے اور سیاہ تیتر وغیرہ کو دوبارہ متعارف کرایا ہے، تاکہ اس پارک کو زیادہ مختلف النوع بنایا جاسکے۔

انھوں نے بتایا کہ ہم نے جنگلی حیات کے لیے ایسی جگہوں کا انتظام کیا ہے جہاں انہیں کوئی تنگ نہ کرسکے، ان جگہوں کا اتنظام جدید ترین اور سائنسی بنیادوں پر کیا جاتا ہے، تاہم لوگ ان جانوروں اور پرندوں کو خصوصی طور پر تعمیر کردہ ہائیڈ آﺅٹس یا واچ ٹاورز سے دیکھ سکتے ہیں۔

صاف ستھری وردیوں میں ملبوس واکی ٹاکی سیٹس سے لیس عملہ یہاں آنے والے افراد کو ٹور گائیڈ، بگھی اور گھوڑے پر بیٹھنے کی پیشکش کرتا ہے۔

جنگلی حیات کی بڑی تعداد لوگوں کو یہاں کھینچتی ہے اور نئی ملازمتوں کے مواقع بھی پیدا ہوئے ہیں، ضلع گھوٹکی اور میرپور ماتھیلو کے بچوں کے لیے یہ پارک کسی جنگ سے کم نہیں کیونکہ یہاں ان ننھے فرشتوں کے لیے کافی بڑا حصہ فن ایریا کے نام سے مختص کیا گیا ہے۔

میرپور ماتھیلو کے ڈویژنل فارسٹ آفیسر ثناءاللہ بلوچ کا کہنا ہے کہ اس سفاری کا ایک مقصد جنگلی حیات کے حوالے سے صوبے کے دیہی علاقوں کے لوگوں میں شعور اجاگر کرنا ہے۔

انھوں نے کہا کہ یہاں آنے والے بچون کے لیے اکثر خصوصی کلاسز کا انعقاد کی جاتا ہے جہاں انہیں جنگلی حیات کی اہمیت اور اس کے انتطامی امور کے بارے میں سیکھایا جاتا ہے۔

ماحولیات کے موضوع کو کور کرنے والے صحافی ست رام سنگی کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے شعور اجاگر کرنا ہمارے ملک خاص طور پر سندھ میں بہت ضروری ہے، جنگلات ہمارے ماحولیاتی نظام کے استحکام کا انتہائی ضروری لنک ہیں، بے تحاشہ جنگلات کی کٹائی سے لیکر بڑھتی تجاوزات جیسے متعدد مسائل پیدا پوچکے ہیں، درحقیقت ماحولیاتی نظام میں مداخلت میں اکثر سب سے پہلے جنگلی حیات کا ہی خاتمہ ہوتا ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ ان جانوروں کے آبائی علاقوں کے خاتمے کے ساتھ ساتھ، کمزور وائلڈ لائف قوانین بھی سندھ میں جنگی حیات کی تباہ کن صورتحال کی بڑی وجہ ہے۔


پاکستان بالخصوص سندھ ہجرت کرکے آنےوالے پرندوں کی ایک بڑی آماجگاہ ہے۔ فوٹو لکھاری


انکے بقول جانوروں کے ذریعے غیر قانونی شکار اکثر بااثر افراد کرتے ہیں، وائلڈ لائف ایکٹ میں تجویز کردہ جرمانوں اور سزاﺅں کو بڑھا کر صوبے بھر میں حکومتی رٹ کو قائم کیا جائے۔

صوفی انور شاہ سفاری پارک پبلک پرائیویٹ پارٹنرز کی ایک کامیاب کہانی ہے، ورنہ یہ علاقہ جنگلی حیات کے حوالے سے سب سے زیادہ خطرناک سمجھا جاتا تھا، جنگی علاقے کے تحفظ کے لیے مخصوص کئے گئے اس علاقے سے حیاتیاتی تنوع کے تحفظ میں مدد ملے گی بلکہ اس سے ماحولیاتی سیاحت کو بھی فروغ ملے گا۔

جنگلات اور دلدلی علاقوں کا تحفظ جو جنگلی حیات کے گھر بھی ہوتے ہیں، کے ذریعے متعدد اقسام کے خطرے سے دوچار جانداروں کو مکمل خاتمے سے بچایا جاسکتا ہے۔