'کمیشن نہ بنا تو ملک بند کرنے کی کال دوں گا'
اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سربراہ عمران خان نے کہا ہے کہ اگر جوڈیشل کمیشن نہ بنا تو وہ ایک مرتبہ پھر سے ملک بند کرنے کی کال دیں گے۔
سلام آباد میں دھرنا کنونشن کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ سانحہ پشاور میں جو ہوا وہ انھوں نےاس سے پہلے اپنی زندگی میں نہیں دیکھا ہے اور اس کے بعد دھرنا اور احتجاج کے لیے ذہن نہیں مان رہا تھا۔
تاہم عمران خان نے کہا کہ کوئی بھی اس غلط فہمی میں نہ رہے کہ دھرنا ختم کرنے کے بعداب وہ اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹ جائے گی۔
اس موقع پر ان کا کہنا تھا کہ اب وہ اپنا پورا زور خیبرپختونخوا میں لگانے جارہے ہیں اور وہ اسے دوسرے تمام صوبوں کے لیے مثال بنائیں گے۔
انھوں نے دھرنوں میں خواتین کی شرکت پر ان کا خصوصی طور پر شکریہ ادا کرتے ہو ئے کہا کہ 'جب ایک ماں جاگتی ہے تو پورا گھر جاگ جاتاہے'۔
پی ٹی آئی کے سربراہ نے کہا کہ18 سال کی سیاست ایک طرف اور126 دن کا دھرنا ایک طرف ہے اور انہیں خوشی ہوئی ہے کہ پاکستانی قوم اپنے حقوق کو حاصل کرنے کیلئے اب جاگ چکی ہے۔
عمران خان نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں بلدیاتی انتخابات کروا کر اختیارات نچلی سطح تک منتقل کریں گے۔
انھوں نے کہا کہ وہ صوبے کے ہسپتالوں کا نظام مکمل تبدیل کرنے جارہے ہیں اس حوالے سے قانون بھی پاس ہوگیا ہے جب کہ ویسا ہی ایک قانون یونیورسٹی اور کالجز کے لیے بھی لایا جا رہا ہے ۔
انھوں نے کہا کہ پی ٹی آئی نے کسی سے سیاسی انتقام نہیں لیا ہے اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ خیبرپختونخوا میں کسی سیاسی مخالف کےخلاف مقدمہ درج نہیں ہوا ہے۔
انھوں نے کہا کہ اچھی پارٹی مشکل وقت میں بنتی ہے لیکن 'اچھے وقت میں تو ن لیگ بنتی ہے'۔
عمران خان نے کہا کہ فیصل آباد میں اپنے کارکن کے قتل ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حق نواز کا قاتل ابھی تک جیل میں نہیں گیا۔ انہوں نے پنجاب کے سابق وزیر قانون رانا ثنااللہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ 'رانا ثناء اللہ سن لیں کے 2015 میں وہ جیل جائیں گے'۔
یہ پڑھیں: عمران خان پاگل ہو چکے ہیں، رانا ثناء اللہ
کنوینشن کے اختتام پر عمران خان کا کہا تھا کہ پاکستان بند کرنے کی کال دوں گا تو ہماری لیڈر شپ اور کارکن تیار رہیں ۔ انھوں نے کہا کہ وہ حکومت کو کسی مشکل میں نہیں ڈالنا چاہتے ہیں کیونکہ وہ پہلے ہی سی پیڑول کی قلت اور دیگر مسائل میں گہرے ہوئے ہیں۔
عمران خان نے مزید کہا ہے کہ قبائلی علاقوں میں امن کی چاپی قبائلی عوام کےہاتھوں میں ہے اور قبائلی علاقےمیں تب تک امن نہیں آئےگاجب تک ان سےمشاورت نہیں کریں گے۔ قبائلی علاقوں میں برطانوی دور کا قانون چل رہا ہے اور وہ بہت جلد قبائلیوں کو ان کے حقوق دینے کیلئے قانون سازی کا ارادہ رکھتے ہیں۔