پاکستان

اوگرا کا آئل کمپنیوں کیخلاف کارروائی کا آغاز

نوٹس میں کمپنیوں سے پوچھا گیا ہے کہ انہوں نے اوگرا لائسنس کے مطابق بیس روز کیلئے پیٹرول کا اسٹاک برقرار کیوں نہیں رکھا

اسلام آباد: پنجاب میں پیٹرول کی قلت کے باعث پاکستان کی آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے خلاف کارروائی کا آغازکرتے ہوئے11کمپنیوں سے تین دن میں جواب طلب کرلیا ہے۔

ڈان نیوز کے مطابق اوگرا نے پنجاب میں جاری پیٹرول بحران پرملک میں کام کرنے والی آئل مارکیٹنگ کمپنیووں کو اظہار وجوہ کے نوٹس جاری کیا ہے جس میں کمپنیوں سے پوچھا گیا ہے کہ انہوں نے اوگرا لائسنس کے مطابق بیس روز کیلئے پیٹرول کا اسٹاک برقرار کیوں نہیں رکھا اور کیوان کے اس اقدام کے خلاف کارروائی عمل میں نہ لائی جائے۔

مزید پڑھیں: 'پیٹرول بحران کی وجہ اعداد و شمار میں غلفت'

قوانین کے مطابق تسلی بخش جواب نہ ملنے کی صورت میں آئل مارکیٹنگ کمپنیوں پردوکروڑ روپے جرمانہ کرنے کے علاوہ ان کا لائسنس بھی منسوخ کا جاسکتا ہے۔

اس سےقبل وزارت پیٹرولیم کے مشیرزاہد مظفرکی سربراہی میں دورکنی کمیٹی نے پیٹرول بحران کا ذمہ داراوگرا کو ٹھہرایا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: پیٹرول بحران کی ذمہ داری اوگرا پر عائد

ڈان نیوز کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کے 20 روز کے اسٹاک کی مانٹررنگ کرنا اوگرا کی ذمہ داری ہے، جو ادارے کی جانب سے ادا نہیں کی گئی ہے۔

بعد ازاں انکوائری رپورٹ پر وزیراعظم نواز شریف کی سربراہی میں ایک اجلاس ہوا، جس میں وزیراعظم کو آگاہ کیا گیا کہ پیٹرول بحران اوگرا کی سنگین ناکامی کی وجہ سے پیدا ہوا ہے۔

اجلاس کے دوران وزیراعظم نے پٹرولیم سکٹرکے ڈھانچے میں تبدلیاں کرنے کا حکم جاری کرتے ہوئے ڈپٹی ایم ڈی فنانس پی ایس او سہیل وجاہت کو معطل کردیا ہے۔

واضح رہے کہ گذشتہ ہفتے میں پنجاب کے صوبائی دارلحکومت لاہور سے پیٹرول کا بحران شروع ہوا جو بعد میں پنجاب کے دیگر شہروں اور خیبرپختونخوا کے بعض علا قوں تک پہنچ گیا ہے۔

بحران کے باعث شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا جس کے بعد وزیراعظم کی جانب سے لاہور میں سی این جی اسٹیشنز کو گیس کی فراہمی بحال کرنے کی ہدایات جاری کی گئیں۔