پاکستان

تحریک انصاف کے رہنما 'مقابلے' میں ہلاک

حکام کے مطابق مشتبہ افراد کے خلاف سرچ آپریشن کے دوران پی ٹی آئی رہنما گوہرعلی خان نے سیکیورٹی اہلکاروں پر فائرنگ کردی۔

نوشہرہ: خیبر پختونخوا کے ضلع نوشہرہ میں سیکیورٹی فورسز کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ایک مقامی رہنما ہلاک جبکہ ایک شخص زخمی ہوگیا۔

حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ اتوار کو شہر میں مشتبہ افراد کے خلاف سرچ آپریشن جاری تھا کہ تحریک انصاف کے رہنما گوہرعلی خان نے سیکیورٹی اہلکاروں پر فائرنگ کردی۔

سیکیورٹی فورسزکی جوابی کارروائی میں پی ٹی آئی رہنما گوہر علی خان ہلاک جبکہ حاجی بنارس نامی ایک شخص زخمی ہوگیا۔

ڈی ایس پی عدنان خان نے سیکیورٹی فورسز کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں پی ٹی آئی رہنما کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔

جبکہ پولیس کا کہنا ہے کہ ضلع کے مختلف گاؤں میں سرچ آپریشن کے دوران 27 مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔

دوسری جانب ایک اور واقعے میں چراٹ سیمنٹ کمپنی کے دو ملازمین ہلاک اور چار اُس وقت زخمی ہوگئے جب سیکیورٹی فورسز نے سرچ آپریشن کے دوران ان کی وین پر فائرنگ کردی۔

مذکورہ وین ملازمین کو لے کر کمپنی جا رہی تھی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی اہلکاروں نے وین کے ڈرائیور کو رکنے کا اشارہ کیا لیکن ڈرائیور نے رکنے کے بجائے گاڑی کی رفتار تیز کردی، جس پر سیکیورٹی فورسز نے فائرنگ کردی۔

فائرنگ کے نتیجے میں ملک شاہ اور سید اللہ شاہ ہلاک جبکہ فہیم خان، فضل محمد، محبت اللہ اور زری داد زخمی ہوگئے۔

تمام افراد کا تعلق ایک ہی گاؤں سے ہے۔

واقعے کے زخمیوں کو نوشہرہ کے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال منتقل کردیا گیا۔

ایک زخمی ملازم نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ سیکیورٹی فورسز نے وین پر اُس وقت فائرنگ کی جب ڈرائیور نے ان کے اشارے پر وین روکنے کے بجائے رفتار تیز کردی تھی۔