پاکستان

منی لانڈرنگ کیس:متحدہ رہنما محمد انور ضمانت پر رہا

سکاٹ لینڈ یارڈ کا کہنا ہے کہ گرفتار شخص کو جولائی کے وسط تک پولیس ضمانت پر رہا کیا گیا۔

لندن/ کراچی: لندن میٹروپولیٹن پولیس نے متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما محمد انور کو دس گھنٹے تک حراست میں رکھنے کے بعد ضمانت پر رہا کر دیا۔

ایم کیو ایم نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر انور کو رہا کیے جانے کی تصدیق کی ہے۔

سکاٹ لینڈ یارڈ کا کہنا ہے کہ گرفتار شخص کو جولائی کے وسط تک پولیس ضمانت پر رہا کیا گیا۔

منگل کو پولیس نے نام ظاہر کیے بغیر منی لانڈرنگ سے متعلق کیس کی تحقیقات کیلئے ایک شخص کی گرفتاری ظاہر کی تھی۔

بعد میں ایم کیو ایم کے رہنما حیدر عباس رضوی نے تصدیق کی کہ گرفتار ہونے والے شخص محمد انور ہی ہیں۔

میٹرو پولیٹن پولیس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ انسداد دہشت گردی کمانڈ نے یکم اپریل یعنی آج ایک شخص کو شمال مغربی لندن سے اس کی رہائش گاہ سے گرفتار کیا ہے۔

پولیس کے مطابق گرفتار شخص کے گھر کی کئی گھنٹوں تک تلاشی بھی لی گئی۔**

یہ بھی پڑھیں : الطاف حسین ضمانت پر رہا

خیال رہے کہ اس سے قبل بھی 5 افراد کو منی لانڈرنگ کے الزام میں حراست میں لیا گیاتھا، جو کہ ضمانت پر رہا ہیں۔

پولیس کے مطابق 5 دسمبر 2013 کو 73 سالہ اور 44 سالہ شخص کو گرفتار کیا گیاتھا، 3 جون 2014 کو 61 سالہ شخص کو حراست میں لیا گیا، ان تمام افراد کی ضمانت اپریل 2015 تک ہے۔

مزید پڑھیں : منی لانڈرنگ کیس: الطاف حسین کی ضمانت میں توسیع

بعد ازاں 12 جنوری 2015 کو ایک 41 سالہ شخص کو حراست میں لیا گیا اس کی ضمانت بھی رواں برس اپریل تک ہے جبکہ 17فروری 2015 کو حراست میں لیے گئے شخص بھی ضمانت پر رہا ہے۔

پولیس کے جانب سے جاری کیے گئے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ضمانت پر رہا شخص کسی جرم کے الزام میں گرفتاری کے بعد پولیس کے سامنے مقررہ تاریخ پر پیش ہونے کا پابند ہے۔

یہ بھی پڑھیں : منی لانڈرنگ کیس:الطاف حسین 4اپریل کو طلب

واضح رہے کہ رواں برس جون میں ایم کیو ایم کے قائد 61 سالہ الطاف حسین کو برطانیہ میں ایک روز کے لیے پولیس نے حراست میں لیا تھا اور ان کے گھر پر چھاپہ مار کر تلاشی لی تھی۔

الطاف حسین کی لندن میں گرفتاری پر ایم کیو ایم کی جانب سے کراچی میں احتجاج کیا گیا تھا اور شہر بند ہو گیا تھا۔

میٹرو پولیس نے ابتدائی تحقیقات کے بعد الطاف حسین کو ضمانت پر رہا کر دیا تھا۔

قبل ازیں ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کی تحقیقات کے سلسلے میں انسداد دہشت گردی کے یونٹ نے الطاف حسین کے دفتر پر3 سال قبل 6دسمبر کو پولیس اینڈ کرمنل ایویڈنس ایکٹ کے تحت چھاپہ مارا تھا جہاں ان کے دفتر سے نقد رقم برآمد ہوئی تھی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ رقم پروسیڈ آف کرائم ایکٹ کے تحت قبضے میں لی گئی تھی۔

اس کے بعد 18 جون 2013 کو شمالی لندن کے دو مکانات پر بھی چھاپہ مارا گیا تھا اور اس موقع پر بھی بھاری رقم قبضے میں لی گئی تھی۔