پاکستان

بلاول کی جلاوطنی: افواہیں اور حقائق

پیپلزپارٹی کے اندرونی ذرائع تسلیم کرتے ہیں کہ خاندانی اختلافات بلاول کو سرگرم سیاست سے کچھ عرصے کے لیے دور رکھ سکتے ہیں۔

بلاول بھٹوں کی سیاست میں جلد واپسی پر الجھن قائم ہے، اور اس کے ساتھ ساتھ باپ اور بیٹے کے درمیان اختلافات سے متعلق افواہیں بھی بڑے پیمانے پر پھیل رہی ہیں۔

آصف علی زرداری کے ایک حالیہ بیان کہ بلاول کو ابھی بڑے ہونے کی ضرورت ہے، نے اس اُلجھن کو مزید گہرا کردیا ہے۔

پیپلزپارٹی کے بہت سے اندرونی ذرائع تسلیم کرتے ہیں کہ خاندانی اختلافات نوجوان بھٹو کو سرگرم سیاست سے کچھ عرصے کے لیے دور رکھ سکتے ہیں۔

بلاول گزشتہ سال نومبر میں کراچی میں ہونے والے ایک بڑے عوامی جلسے کے چند ہفتوں کے بعد ہی ملک چھوڑ گئے تھے، اس جلسے کو ان کی سیاست میں باقاعدہ آمد کا نقیب سمجھا جارہا تھا۔

اس موقع پر ان کی جوشیلی تقریر نے نئی اور پرانی نسل کے درمیان اختلافات کو نمایاں کردیا تھا۔

بلاول کی تلخ تنقید نے پارٹی کے اتحادیوں اور مخالفین دونوں ہی کو ناراض کردیا تھا۔ انہوں نے اپنے نکتہ نظر پر زور دیتے ہوئے کہا تھا کہ سیاسی میدان میں اُن کی آمد قبل از وقت ہے۔

پیپلزپارٹی کے ایک سینئر رہنما اور بھٹو خاندان کے قریبی ساتھی کہتے ہیں ’’اس سے ان کی سیاسی ناپختگی اور سادہ لوحی کا اظہار ہوا تھا۔‘‘

بلاول کو جلد ہی لندن واپس بھیج دیا گیا اور ان کے نوجوان معاون پر انہیں گمراہ کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے انہیں بھی فارغ کردیا گیا۔

اس خاندان کے ایک قریبی ساتھی کے مطابق یہ قطع تعلق بہت بُرا تھا، اس لیے کہ بلاول نے دسمبر میں اپنے والد سے ملنے سے انکار کردیا تھا۔

خاندان کے کچھ اراکین اور دوستوں کے قائل کرنے پر بالآخر وہ زرداری کےساتھ ملنے پر رضامند ہوئے۔ لیکن تلخیاں حقیقی معنوں میں ختم نہیں ہوئی تھیں۔

بلاول نے اپنے ایک قریبی خاندانی دوست کو ایک ایس ایم ایس میسیج میں کہا ’’آپ یہ جان کر خوش ہوں گے کہ میں نے بالآخر ان سے ملاقات کرلی ہے۔‘‘

ان کی والدہ کی ساتویں برسی کے موقع پر ان کی غیرموجودگی نے ان کے اختلاف کے بارے میں شکوک و شبہات کو بڑھاوا دیا۔ سیاسی معاملات پر ٹیوٹر پر ان کے تبصرے بھی شاذونادر ہی دیکھے گئے۔

تاہم بلاول کی سیاسی منظرنامے سے نامناسب انداز سے ہٹائے جانے پر پارٹی کے بہت سے کٹر وفاداروں میں شدید مایوسی پیدا ہوئی، جنہوں نے اس نوجوان رہنما سے یہ امیدیں باندھ لی تھیں کہ چار دہائیاں پہلے پیپلزپارٹی کے قیام سے لے کر اب تک کی بدترین انتخابی شکست سے نکال کر وہ اس کو جلا بخشیں گے۔

پارٹی نے اپنے حمایتیوں کو جوڑ کر رکھنے کے لیے بھٹو کے نام اور اس کی میراث پر بھروسہ کیا تھا۔ لیکن اس خاندانی عداوت نے پارٹی کو پست حوصلہ اور ابتر حالت میں چھوڑ دیا ہے۔

بھٹو خاندان اور پیپلزپارٹی کے کچھ اندرونی ذرائع کہتے ہیں کہ بلاول سیاست میں آنے کے لیے تیار نہیں تھے، لیکن ان کے والد نے انہیں قبل از وقت اس میدان میں دھکیل دیا تھا۔

درحقیقت زرداری اس سے پہلے ہی 2009ء میں پارٹی کے لندن کنونش میں انہیں سیاست میں داخل کرنا چاہتے تھے، جب بلاول ابھی آکسفورڈ کے گریجویٹ کے طالبعلم ہی تھے، لیکن یہ منصوبہ آخری لمحوں میں منسوخ کردیا گیا تھا۔

بلاول 2011ء میں پارٹی کی کچھ قائدانہ ذمہ داری سنبھالنے کے لیے پاکستان واپس آئے، جب زرداری علاج معالجے کے لیے ملک سے باہر گئے تھے۔ لیکن گزشتہ نومبر میں باقاعدہ آمد تک ان کی کم درجہ حیثیت برقرار رہی۔

پارٹی کے کچھ اندرونی ذرائع کے مطابق اس تنازعے کے بعض اہم نکات پارٹی کی تنظیمِ نو اور صوبہ سندھ میں حکومت کی بدترین صورتحال پر تھے۔ واضح رہے کہ صوبہ سندھ پیپلزپارٹی کے آخری گڑھ ہے۔

بلاول کے جوش و خروش اور توانائی نے ان کی سیاسی ناتجربہ کاری کے ساتھ مل کر پارٹی کے بہت سے سینئر رہنماؤں کو ناراض کردیا، جنہوں اکثر ان کے ’’تکبر‘‘ کے بارے میں شکایت کی۔ ان کے نوجوان معاونین کو ان کی تیز رفتاری کے لیے موردِ الزام ٹھہرایا گیا۔

تاہم کچھ سینئر پارٹی رہنماؤں نے ان اختلافات کو کم حیثیت کا بتایا۔ ایک سینئر پارٹی رہنما کہتے ہیں ’’ان اختلافات کو ان کے تناسب سے کہیں زیادہ بتایا جارہا ہے۔‘‘

ان کے مطابق توقع ہے کہ بلاول کی سیاسی سرگرمیاں دبئی سے جلد بحال ہوجائیں گی۔

لیکن پاکستان میں عوامی سیاست میں ان کی واپسی کے لیے اب تک کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ تاہم 2018ء کے انتخابات سے قبل وہ بقول زرداری کے ’’اپنی دوبارہ تربیت‘‘ کے بعد دوبارہ سیاست کا آغاز کرسکتے ہیں۔

تاہم سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا وہ اس پارٹی کو حیاتِ نو بخشنے کے قابل ہوں گے، جسے پچھلے سالوں کے دوران سیاسی بنیادوں بہت زیادہ نقصان پہنچا ہے۔

تیزی سے بدلتے ہوئے سیاسی منظرنامے میں محض بھٹو کے نام کا کرشمہ تنہا کام نہیں کرسکتا۔

کسی کے لیے بھی پارٹی کے اقتدار کے مایوس کن ریکارڈ کا دفاع کرنا اور اس کی کھوئی ہوئی عوامی مقبولیت کو دوبارہ حاصل کرنامشکل ہوجائے گا۔ پارٹی کو محض ایک بھٹو کے چہرے کی نہیں بلکہ ایک نئے پیغام کی ضرورت ہے۔