پاکستان

این اے -246: پی ٹی آئی، جماعت اسلامی میں اتحاد نہ ہو سکا

پی ٹی آئی کراچی میں جماعت اسلامی سے بڑی قوت ہے اور وہ کسی صورت اپنا امیدوار نہیں بٹھائے گی، جہانگیر ترین۔

کراچی: کراچی کے حلقہ این -246میں ضمنی الیکشن قریب آن پہنچا ہے لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف اور جماعت اسلامی ایک دوسرے کے حق میں اپنا امیدوار بٹھانے کو تیار نہیں۔

جماعت اسلامی کے سربراہ سراج الحق نے جمعہ کو پیش گوئی کی کہ متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین 23 اپریل (پولنگ ڈے) پر ایک مرتبہ پھر استعفی دیں گے ’لیکن اس مرتبہ وہ اسے واپس نہیں لیں گے‘۔

آج شاہراہ پاکستان پر جماعت اسلامی - خواتین ونگ کی ریلی سے پرجوش خطاب میں سراج الحق نے کہا کہ کراچی کا مستقبل اب لندن میں طے نہیں ہو گا۔’کراچی کے لوگ اپنا مستقبل شہر کی سڑکوں پر کریں گے'۔

انہوں نے ایم کیو ایم کو زبردست تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ’کراچی میں خوف اور تشدد کی سیاست جلد ختم ہو جائے گی‘۔

ایک طرف جہاں جماعت اسلامی ایم کیو ایم کے گڑھ میں مشکل سیاسی لڑائی لڑنے کی تیاریاں کر رہی ہے تو وہیں دوسری جانب، پی ٹی آئی اب بھی امید کر رہی ہے کہ خیبر پختونخوا حکومت میں شامل جماعت اسلامی ان کے حق میں اپنا امیدوار بٹھا دے گی۔

پی ٹی آئی کے رہنما جہانگیر ترین نے ڈان نیوز سے گفتگو میں واضح کیا کہ ان کی پارٹی کراچی میں جماعت اسلامی سے بڑی قوت ہے اور وہ کسی صورت اپنا امیدوار نہیں بٹھائیں گے۔

اس سے پہلے ، جمعہ کو ہی پی ٹی آئی کی مرکزی سیکریٹری اطلاعات شیریں مزاری نے بتایا تھا کہ جماعت اسلامی کے ساتھ مذاکرات بدستور جاری ہیں اور امید ہے کہ سراج الحق ضمنی الیکشن میں اپنا امید وار بٹھا کر پی ٹی آئی سے تعاون کریں گے۔

پارٹی کی کور کمیٹی اجلاس کے بعد ، شیریں مزاری نے میڈیا کو بتایا کہ این اے -246 میں پی ٹی آئی کی الیکشن مہم بہت اچھی چل رہی ہے اور کمیٹی نے جماعت اسلامی کے حق میں اپنا امیدوار دستبردار نہ کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔

خیال رہے کہ جماعت اسلامی گزشتہ روز الیکشن میں حصہ لینے کا عزم دہرا چکی ہے۔

یہاں یہ بات قابل غور ہے کہ پی ٹی آئی اور جماعت اسلامی خیبر پختونخوا حکومت میں اتحادی ہونے کے باوجود کراچی کے ضمنی الیکشن میں متفقہ امیدوار لانے میں ناکام رہے۔

دونوں جماعتیں پرامید ہیں کہ وہ 23 اپریل کے دن ایم کیو ایم کو ضمنی الیکشن میں زیر کر لیں گی۔