کھیل

'ناقص کارکردگی کی وجہ فرسودہ ڈومیسٹک کرکٹ'

قومی ٹی ٹوئنٹی ٹیم کے کپتان شاہد آفریدی نے حکام سے ملک میں ڈومیسٹک کرکٹ کا ڈھانچہ ازسرنو تشکیل دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

پاکستان کی ٹی ٹوئنٹی ٹیم کے کپتان اور جارح مزاج آل راؤنڈر شاہد آفریدی نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ پاکستانی کرکٹ حکام ملک میں غیر ملکی ٹیموں کے نہ آنے کو ٹیم کی خراب کارکردگی کے عذر کے طور پر پیش کرنا چھوڑ دیں اور ملک میں ڈومیسٹک کرکٹ کا ڈھانچہ ازسرنو تشکیل دینے پر توجہ دیں۔

آفریدی نے کرکٹ آسٹریلیا کی ویب سائٹ کو دیے انٹرویو میں کہا کہ وہ انٹرنیشنل کرکٹ کی واپسی سے زیادہ ڈومیسٹک سطح پر بد سے بدتر ہوتی صورتحال پر پریشان ہیں۔

’میں انٹرنیشنل کرکٹ کی واپسی سے زیادہ ڈومیسٹک کرکٹ کے حوالے سے پریشان ہوں، اگر ہم اپنی ڈومیسٹک کرکٹ میں بہتری لاتے ہیں تو انٹرنیشنل کرکٹ بھی بہتر ہونا شروع ہو جائے گی، ملک میں انٹرنیشنل کرکٹ کا نہ ہونا عذر نہیں ہونا چاہیے‘۔

پاکستان کو دورہ بنگلہ دیش کے دوران ایک روزہ میچوں کی سیریز میں 3-0 کے شرمناک وائٹ واش کا سامنا کرنا پڑا تھا جس کے بعد قومی ٹیم آئی سی سی رینکنگ میں تاریخ ی بدترین نویں پوزیشن پر چلی گئی تھی۔

اس شکست کے بعد پاکستان کی انگلینڈ میں ہونے 2017 چیمپیئنز ٹرافی میں شرکت بھی خطرے میں پڑ گئی ہے جہاں رینکنگ میں ابتدائی آٹھ ٹیمیں شرکت کی اہل ہوتی ہیں۔

اس سے قبل پاکستانی ٹیم ورلڈ کپ میں بھی اوسط درجے کی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے کے بعد ایونٹ سے باہر ہو گئی تھی۔

تاہم ان دنوں انگلینڈ کی ڈومیسٹک ٹی20 لیگ میں صلاحیتوں کے جوہر دکھانے والے آفریدی نے ملک میں کرکٹ حکام کو انٹرنیشنل سطح پر ٹیم کی کارکردگی کا جائزہ لینے سے قبل نچلی سطح پر معاملات کو ٹھیک کرنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کو جنوبی افریقہ سے سبق حاصل کرنا چاہیے جن پر دو دہائی تک انٹرنیشنل کرکٹ کھیلنے کی پابندی لگی ہوئی تھی۔

’ہمارے سامنے جنوبی افریقہ کی مثال موجود ہے، وہ ایک طویل عرصے تک انٹرنیشنل کرکٹ نہیں کھیل سکے لیکن ان کا ڈومیسٹک ڈھانچہ بہت شاندار تھا جس کی وجہ سے ان کی ٹیم آج بہت بہترین ہے‘۔

کرشماتی شخصیت رکھنے والے آل راؤنڈر نے کہا کہ پاکستان کی ڈومیسٹک کرکٹ کا ڈھانچہ اس وقت عالمی معیار کے مطابق نہیں۔

’پاکستان کو ایک مضبوط ڈومیسٹک ڈھانچے کی ضرورت ہے لیکن ڈومیسٹک سطح پر کھیلنے والے کھلاڑیوں کو عالمی معیار کی سہولیات دینے کی ضرورت ہے‘۔

ٹیسٹ اور ایک روزہ کرکٹ سے ریٹائر ہونے والے آفریدی نے سابق لیجنڈری کپتان عمران خان کے الفاظ دہراتے ہوئے کہا کہ اقربا پروری اور ڈومیسٹک کے فرسودہ نظام نے پاکستان کرکٹ کو اتھاہ گہرائیوں میں دھکیل دیا ہے۔

عمران خان نے کہا تھا کہ میں گزشتہ 30 سالوں سے کہہ رہا ہوں کہ پاکستان کرکٹ کے نظام کو ازسرنو بنانے کی ضرورت ہے۔

’پاکستان کے اس وقت سب سے بہترین بلے باز مصباح الحق ہیں جنہیں 34 سال کی عمر میں موقع دیا گیا۔ محمد عرفان کا 30 سال کی عمر میں انتخاب کیا گیا۔ اس عمر میں کھلاڑی عام طور پر ریٹائرمنٹ کے بارے میں سوچنا شروع کر دیتے ہیں‘۔

’اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ پاکستان میں کرکٹ کا نظام کس حد تک خراب ہے۔ یہ ہمارے سسٹم کا بڑا واضح مسئلہ ہے‘۔

پاکستانی ٹیم ان دنوں 53 روزہ دورے پر سری لنکا میں موجود ہے جہاں وہ تین ٹیسٹ، پانچ ایک روزہ اور دو ٹی ٹوئنٹی میچز کی سیریز کھیلے گی۔