اورکزئی: 12 طالبان 'شدت پسندوں' نے ہتھیار ڈال دیئے
پشاور:وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقے فاٹا کی اورکزئی ایجنسی میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے اہم کمانڈر سمیت 12 مبینہ شدت پسندوں نے ہتھیار ڈال دیئے ہیں.
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق اورکزئی ایجنسی کے علاقے کلایہ میں تحریک طالبان پاکستان کے 12 مبینہ شدت پسندوں نے ہتھیار ڈالتے ہوئے خود کو سیکیورٹی فورسز کے حوالے کردیا.
ذرائع کا کہنا ہے کہ ہتھیار ڈالنے والے شدت پسند سیکورٹی فورسز کو دہشت گردی کے مختلف واقعات میں مطلوب تھے .
ہتھیار ڈالنے والوں میں میر خان، شاہد، عبداللہ، امین اللہ، محمد امین، عرفان، حضرت محمد، میلا خان، اسپین میر خان، محمد عدیل، دین اللہ اور رازمان شاہ شامل ہیں. رازمان شاہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان،اورکزئی چیپٹر کا اہم کمانڈر ہے.
اورکزئی پاکستان کی سات نیم خودمختار ایجنسیوں میں سے ایک ہے جسے پاکستانی طالبان اور القاعدہ سے تعلق رکھنے والے عسکریت پسندوں کا مضبوط گڑھ سمجھا جاتا ہے۔
دیگر چھ ایجنسیوں کے برعکس، اورکزئی ایجنسی کی سرحد افغانستان کے ساتھ نہیں لگتی تاہم یہاں کے محل و وقوع کی وجہ سے عسکریت پسندوں کو دیگر ایجنسیوں میں کام کرنے میں آسانی ہوتی ہے۔
یہ ایجنسی افغان سرحد پر واقع خیبر اور کرم ایجنسی کے ساتھ ہے جبکہ اس کی سرحد پشاور اور کوہاٹ سے بھی لگتی ہے.
حکومت اور کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے درمیان امن مذاکرات کی ناکامی اور کراچی ایئرپورٹ پر حملے کے بعد پاک فوج نے 15 جون 2014 کو شمالی وزیرستان میں آپریشن ضربِ عضب شروع کیا تھا، بعد ازاں کارروائیوں کا دائرہ کار 'خیبر آپریشن' کے تحت خیبر ایجنسی تک بڑھا دیا گیا.
علاقے میں آزاد میڈیا کی رسائی نہ ہونے کی وجہ سے تمام تر تفصیلات آئی ایس پی آر کی جانب فراہم کی جاتی ہیں۔