سندھ دھرتی کے عظیم بزرگ اور صوفی شاعر شاہ عبدالطیف بھٹائی کا سالانہ تین روزہ عرس بھٹ شاہ میں اسلامی سال کے دوسرے مہینے صفر کی 14 تاریخ کو شروع ہوتا ہے۔
شاہ عبدالطیف بھٹائی 1689 میں چھوٹے سے گائوں ہالا حویلی میں پیدا ہوئے جو اس وقت ضلع ٹنڈو الہہ یار میں تھا، آج یہ علاقہ ضلع مٹیاری کے تعلقہ ہالا میں موجود ہے، شاہ لطیف بھٹائی کی رحلت 1752 میں ہوئی اور انہیں بھٹ شاہ پر دفن کیا گیا جو آج سندھ کی سب سے اہم درگاہ بن چکی ہے۔
شاہ لطیف جس زمانے میں پیدا ہوئے اس زمانے میں سندھ بھر میں فارسی رائج تھی، مگر شاہ بھٹائی نے فارسی زبان سے بغاوت کرتے ہوئے سندھی زبان کو اہم سمجھا، اور اسی زبان میں شاعری کر کے سندھی زبان کو نہ صرف ایک نئی زندگی بخشی، بلکہ یہ بھی ثابت کر دکھایا کہ سندھی زبان کمتر نہیں بلکہ اظہار کے لیے ایک بہت ہی اعلیٰ زبان ہے۔
شاہ لطیف کی شاعری کا رسالہ 30 بابوں پر مشتمل ہے، شاہ لطیف کے شاعری کے کتاب کو شاہ کا رسالہ اور اس میں شامل بابوں کے شاہ کے سر کہا جاتا ہے، شاہ بھٹائی کے رسالے میں موجود شاعری کے تمام بابوں کے نام خواتین سے منسوب ہیں۔
شاہ بھٹائی کی شاعری کی سورمیاں (ہیروئن) عورتیں ہی ہیں۔ سسی، مارئی، مومل، سوہنی، نوری، یہ سب وہ کردار ہیں جن کو انہوں نے اپنی شاعری میں بیان کرکے امر کر دیا ہے۔ انہوں نے مرد کے بجائے اپنے کلام کے اظہار کے لیے عورتوں کا انتخاب کیا ہے، تاکہ معاشرے کو اس بات کا احساس دلایا جا سکے کہ عورت جسے ہم کمتر سمجھتے ہیں وہ کسی بھی طرح کمتر نہیں، بلکہ ہمت، حوصلے، رومان اور مشکلات کا سامنا کرنے کی علامت ہے۔
سندھ کے عظیم صوفی بزرگ شاعر عبدالطیف بھٹائی کا 273 ویں عرس کی تقریبات کا آغاز ہوچکا ہے—فوٹو: محمد حسین خان
شاہ لطیف کے عرس کی تقریبات کا آغاز مقررہ تاریخ سے قبل ہی ہو جاتا ہے—فوٹو: محمد حسین خان
عرس کی تقریبات میں شاہ کے کلام کی محفل منعقد ہوتی، شاہ کے کلام کی محفل درگاہ بھٹ شاہ پر عام دنوں میں بھی ہوتی ہے—فوٹو: محمد حسین خان
شاہ کا کلام اتنا سرور بخش اور نفیس ہوتا ہے کہ زائرین پر سحر طاری کردیتا ہے، اور لوگ ازخود محو رقص ہوجاتے ہیں—فوٹو: محمد حسین خان
شاہ عبدالطیف 1695 میں ضلع حیدرآباد کے چھوٹے گائوں ہالا حویلی میں پیدا ہوئے، ان کی مزار تعلقہ ہالا کے قریب بھٹ شاہ کے مقام پر ہے—فوٹو: محمد حسین خان
شاہ لطیف کے شاعری کے رسالے ( شاہ جو رسالو ) کو سندھ میں خاص اہمیت حاصل ہے، بچے، بوڑھے، خواتین اور مرد شوق سے اسے پڑھتے ہیں—فوٹو: محمد حسین خان
شاہ لطیف کو نہ صرف سندھ بھر میں خصوصی اور منفرد اہمیت حاصل ہے، بلکہ دنیا بھر میں تصوف سے وابستہ لوگ بھی شاہ لطیف کے عرس پر آتے ہیں—فوٹو: محمد حسین خان
شاہ لطیف کے عرس میں سندھ بھر کے لوگ اپنے اہل خانہ سمیت شرکت کرتے ہیں—فوٹو: محمد حسین خان
عرس کی تقریبات میں شرکت کرنے والے زائرین میں ہر عمر کے لوگ ہوتے ہیں، صوفیت پر یقین رکھنے والے بزرگ افراد خصوصی طور پر شرکت کرتے ہیں—فوٹو: محمد حسین خان
عرس میں شرکت کرنے والے لوگ مختلف منتوں کے پورے ہونے کے لیے بھی آتے ہیں—فوٹو: محمد حسین خان
عرس ہو یا نہ ہو، کئی فقیر لوگ ہر وقت شاہ لطیف کی درگاہ پر ڈیرا ڈالے بیٹھے رہتے ہیں، ملنگوں کا حلیہ ذہنی مریضوں سے کافی مشابہت رکھتا ہے—فوٹو: محمد حسین خان
عرس کے میں شرکت کے لیے آنے والے افراد میلے سے واپسی کے بعد انگوٹھیوں اور گلے کے ہار جیسے تحائف لے جاتے ہیں—فوٹو: محمد حسین خان
عرس کے موقع پر سندھ کی ثقافت کو نمایاں کرنے والی چیزوں کے خصوصی اسٹال بھی لگائے جاتے ہیں—فوٹو: محمد حسین خان
بھٹ شاہ کی درگاہ پر تحائف اور ثقافتی چیزوں کے اسٹالوں سمیت خشک میوہ جات کے دکانیں بھی ہیں، جن پر عرس کے دنوں میں ملک بھر کی سوغات رکھی جاتی ہیں—فوٹو: محمد حسین خان
عرس کی تقریبات تین دن تک جاری رہتی ہیں، صوبائی حکومت عرس کے پہلے دن پر اکثر عام تعطیل کا اعلان کرتی ہے—فوٹو: محمد حسین خان