پاکستان

متنازع پیغام پر شان تاثیر کو قتل کی دھمکیاں

شان تاثیر نے اپنے پیغام میں توہین کے قوانین کے تحت مقدمات کا سامنا کرنے والوں کے لیے دعا کی درخواست کی تھی۔

اسلام آباد: مقتول گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے صاحبزادے شان تاثیر کو کرسمس کے موقع پر دیئے گئے ایک متنازع پیغام کے باعث قتل کی دھمکیوں کا سامنا ہے۔

شان تاثیر نے اپنے پیغام میں توہین کے قوانین کے تحت مقدمات کا سامنا کرنے والوں کے لیے دعا کی درخواست کی تھی۔

اس پیغام کے بعد شان تاثیر کا کہنا ہے کہ انھیں ممتاز قادری کے حامیوں کی جانب سے 'قتل کی واضح دھمکیاں' موصول ہورہی ہیں۔

یاد رہے کہ ممتاز قادری کو گزشتہ برس فروری میں گورنر پنجاب سلمان تاثیر کو قتل کرنے کے الزام میں پھانسی دی جاچکی ہے۔

اپنے ویڈیو پیغام میں شان تاثیر کا کہنا تھا، 'وہ مجھے ممتاز قادری کی تصاویر کے ساتھ پیغامات بھیج رہے ہیں کہ بہت سے ممتاز قادری میرا انتظار کر رہے ہیں'۔

مزید پڑھیں: ممتاز قادری کے وکلاء کو جنت کی امید

اپنے فیس بک پیج پر پوسٹ کیے گئے پیغام میں شان تاثیر نے مسیحی برادری کو کرسمس کی مبارکباد دیتے ہوئے ان لوگوں کے لیے بھی دعا کی درخواست کی تھی جنھیں توہین کے قوانین کے تحت مقدمات کا سامنا ہے۔

پولیس نے مذکورہ پیغام کے حوالے سے توہین کے قوانین کے سیکشن 295 اے کے تحت تفتیش کا آغاز کردیا ہے تاہم انہوں نے اس حوالے سے تبصرہ کرنے سے انکار کردیا جبکہ پولیس رپورٹ میں شان تاثیر کا نام بھی شامل نہیں کیا گیا۔

توہین کے قانون کا سیکشن 295 اے کسی بھی مذہب کے خلاف نفرت آمیز گفتگو پر پابندی عائد کرتا ہے۔

دوسری جانب سنی تحریک کے ایک ترجمان کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت نے لاہور پولیس سے شان تاثیر کے خلاف توہین کے قوانین کے تحت مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ کیا۔

سنی تحریک نے دھمکی دی ہے کہ اگر شان تاثیر کا نام مقدمے میں شامل نہیں کیا گیا تو سڑکوں پر احتجاج کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں: ممتاز قادری کیس کا اہم ریکارڈ پراسرار طور پر 'غائب'

سنی تحریک کے رہنما مجاہد عبدالرسول کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت اس معاملے پر حکومت سے مذاکرات کر رہی ہے۔

انھوں نے بتایا، 'جب ہم نے احتجاج کی دھمکی دی تو پنجاب حکومت کے وفد نے ہم سے ملاقات کی'، ساتھ ہی ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے اپنا مطالبہ پورا کرنے کے لیے پولیس کو منگل 3 جنوری تک کی ڈیڈلائن دی ہے۔

مجاہد عبدالرسول کا مزید کہنا تھا کہ سنی تحریک شان تاثیر کے قتل کا نہیں صرف مقدمے میں ان کے نام کے اندراج اور حتمی پھانسی کا مطالبہ کر رہی ہے۔

اس خبر پر تبصرے کے لیے پنجاب حکومت کے حکام سے رابطہ نہ ہوسکا۔

2015 میں 200 سے زائد افراد کو توہین کے قوانین کے تحت مقدمات کا سامنا کرنا پڑا جب کہ سینٹر فار ریسرچ اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز اور مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق 1990 کے بعد سے وکلاء اور ججوں سمیت کم از کم 65 افراد کو توہین کے الزامات پر قتل کیا جاچکا ہے۔

یہ خبر 3 جنوری 2017 کے ڈان اخبار میں شائع ہوئی