پاکستان

قطری شہزادے کو سپریم کورٹ میں پیش نہ ہونے کا مشورہ

اگرقطری شہزادے جیل نہیں جانا چاہتے تو انھیں پاناما کیس کے سلسلے میں پاکستان نہیں آنا چاہیے،پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان

اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان کا کہنا ہے کہ اگر قطر کے سابق وزیراعظم حماد بن جاسم بن جبر الثانی سپریم پاناما کیس میں وزیراعظم نواز شریف کو بچانے کے لیے بھیجے گئے اپنے خط کی توثیق کے لیے سپریم کورٹ آف پاکستان میں پیش ہوئے تو انھیں جیل بھیج دیا جائے گا۔

بنی گالہ میں اپنی رہائش گاہ پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا، 'اگر قطری شہزادے جیل نہیں جانا چاہتے تو انھیں پاکستان نہیں آنا چاہیے'۔

عمران خان نے وزیراعظم نواز شریف سے مطالبہ کیا کہ اگر وہ منی لانڈرنگ میں ملوث نہیں ہیں اور لندن میں جائیداد خریدنے کے لیے انھوں نے قانونی طریقے سے رقم باہر بھجی تو وہ ان سب کے ثبوت جمع کروائیں۔

مزید پڑھیں:قطری شہزادے کا خط اور وزیراعظم کا موقف مختلف: سپریم کورٹ

ان کا کہنا تھا کہ قطری شہزادے کا خط جھوٹا ثابت ہوگیا ہے کیونکہ وزیراعظم کی صاحبزادی مریم نواز لندن جائیداد کی مالک تھیں۔

عمران خان نے کہا، 'قطری شہزادے کا خط جھوٹا ہے، مجھے نہیں معلوم اب ان کے دفاع کے لیے کون سا شہزادہ آئے گا'۔

پی ٹی آئی چیئرمین نے الزام عائد کیا کہ وزیراعظم نواز شریف منی لانڈرنگ میں ملوث تھے، کیونکہ انھوں نے غیر قانونی طریقوں سے رقم بیرون ملک بھیجی اور اپنے بچوں کے نام پر باہر کمپنیاں بنائیں، ان کا کہنا تھا، 'وزیر خزانہ اسحٰق ڈار کا ایفی ڈیوٹ نواز شریف کی منی لانڈرنگ کا دستاویزی ثبوت ہے'۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت گذشتہ 8 ماہ سے شریف خاندان کی کرپشن کو چھپانے کی کوشش کر رہی ہے اور پوری (وفاقی) کابینہ نواز شریف کی کرپشن چھپانے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:’قطری شہزادے کے خط کی کوئی قانونی حیثیت نہیں‘

عمران خان نے کہا کہ شریف خاندان کا نام واضح طور پر پاناما پیپرز انکشافات میں سامنے آیا ہے اور وہ پاناما لیکس کے بعد سے متضاد بیانات دے رہے ہیں۔

انھوں نے سوال کیا کہ اگر پاناما پیپرز غلط تھے تو شریف خاندان انٹرنیشنل کنسورشیم آف انویسٹی گیٹو جرنلسٹس کے خلاف عدالت کیوں نہیں گیا۔

پی ٹی آئی چیئرمین کے مطابق جمہوری نظام میں اپوزیشن اس بات کی ذمہ دار نہیں ہے کہ وہ غیر قانونی سرگرمیوں کے ثبوت فراہم کرے، بلکہ حکومت کو اپوزیشن کی جانب سے اٹھائے گئے سوالات کا جواب دینا چاہیے۔

عمران خان نے مزید کہا کہ مریم نواز نے دعویٰ کیا کہ بیرون ملک ان کے خاندان کے نام پر کوئی جائیداد نہیں لیکن بدھ 4 جنوری کو سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی دستاویزات کچھ اور ہی بتا رہی تھیں۔

یہ خبر 6 جنوری 2017 کے ڈان اخبار میں شائع ہوئی